سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان " امام کو اس لیے مقرر کیا گیا ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے" ۔
ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، ثنا أَبُو الأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا أبِي ، عَنْ قَتَادَةَ . ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْعَلاءِ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، ثنا جَرِيرٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي غَلابٍ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : صَلَّيْنَا مَعَ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ صَلاةَ الْعَتَمَةِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ ، وَقَالَ فِيهِ : فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا فَكَانَ يُعَلِّمُنَا صَلاتَنَا وَيُبَيِّنُ لَنَا سُنَّتَنَا ، قَالَ : " أَقِيمُوا الصُّفُوفَ ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ ، فَإِذَا كَبَّرَ الإِمَامُ فَكَبِّرُوا ، وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا " . وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ . وَرَوَاهُ هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، وَسَعِيدٌ ، وَشُعْبَةُ ، وَهَمَّامٌ ، وَأَبُو عَوَانَةَ ، وَأَبَانُ ، عَدِيُّ بْنُ أَبِي عُمَارَةَ ، كُلُّهُمْ عَنْ قَتَادَةَ ، فَلَمْ يَقُلْ أَحَدٌ مِنْهُمْ " وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا " ، وَهُمْ أَصْحَابُ قَتَادَةَ الْحُفَّاظُ عَنْهُ.حطان بن عبداللہ رقاشی بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں ہم نے عشاء کی نماز ادا کی۔ اس کے بعد انہوں نے طویل حدیث ذکر کی ہے جس میں یہ الفاظ ہیں: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز کا طریقہ سکھایا اور ہمارے سامنے اپنی سنت کو بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’تم لوگ صفوں کو قائم رکھو (یعنی سیدھا رکھو) پھر تم میں سے کوئی ایک شخص تمہاری امامت کرے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو جب وہ قراءت کرے تو تم لوگ خاموش ہو جاؤ۔‘“ یہی روایت بعض دیگر اسناد کے حوالے سے منقول ہے تاہم بعض راویوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”اور جب وہ قراءت کرے تو تم لوگ خاموش رہو۔“