سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ ذِكْرِ قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ فَقِرَاءَةُ الْإِمَامِ لَهُ قِرَاءَةٌ» وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ باب: : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان " جس کا کوئی امام ہو (یعنی جو باجماعت نماز ادا کررہاہو) تو امام کا قرات کرنا اس شخص کا قرات کرنا شمار ہوگا (اس بارے میں روایات کا اختلاف) ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَنْدَوَيْهِ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ وَرَجُلٌ يَقْرَأُ خَلْفَهُ ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ : " مَنْ ذَا الَّذِي يُخَالِجُنِي سُورَتَهُمْ " ، فَنَهَاهُمْ عَنِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الإِمَامِ . وَلَمْ يَقُلْ هَكَذَا غَيْرُ حَجَّاجٍ ، وَخَالَفَهُ أَصْحَابُ قَتَادَةَ ، مِنْهُمْ : شُعْبَةُ ، وَسَعِيدٌ وَغَيْرُهُمَا ، فَلَمْ يَذْكُرُوا أَنَّهُ نَهَاهُمْ عَنِ الْقِرَاءَةِ ، وَحَجَّاجٌ لا يُحْتَجُّ بِهِ.سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے ایک شخص نے آپ کی اقتداء میں قراءت کرنا شروع کر دی جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے دریافت کیا: ”تم میں سے کون شخص میری سورت (تلاوت) کے بارے میں رکاوٹ ڈال رہا تھا؟“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو امام کی اقتداء میں قراءت کرنے سے منع کر دیا۔ روایت کے یہ الفاظ حجاج نامی راوی نے نقل کیے ہیں۔ قتادہ کے دیگر شاگردوں یعنی شعبہ، سعید، اور دیگر حضرات نے اس کے برعکس روایت نقل کی ہے۔ انہوں نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل نہیں کیے: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قراءت کرنے سے منع کر دیا۔“ حجاج نامی راوی مستند نہیں ہے۔