سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ وُجُوبِ قِرَاءَةِ أُمِّ الْكِتَابِ فِي الصَّلَاةِ وَخَلَفَ الْإِمَامِ باب: : نماز میں سورة فاتحہ پڑھنا واجب ہے اور امام کی اقتداء میں (سورة فاتحہ پڑھنا)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى صَلاةً مَكْتُوبَةً أَوْ تَطَوُّعًا فَلْيَقْرَأْ فِيهَا بِ أُمِّ الْكِتَابِ وَسُورَةً مَعَهَا ، فَإِنِ انْتَهَى إِلَى أُمِّ الْكِتَابِ فَقَدْ أَجْزَى ، وَمَنْ صَلَّى صَلاةً مَعَ إِمَامٍ يَجْهَرُ ، فَلْيَقْرَأْ بِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِي بَعْضِ سَكَتَاتِهِ ، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ فَصَلاتُهُ خِدَاجٌ غَيْرُ تَمَامٍ " . مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ضَعِيفٌ.عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے، اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص فرض یا نفل نماز ادا کر رہا ہو، وہ اس میں سورہ فاتحہ پڑھے اور اس کے ساتھ ایک سورت کی تلاوت کرے اگر وہ صرف سورہ فاتحہ پڑھتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے کافی ہو گی، اور جو شخص امام کے ساتھ نماز ادا کر رہا ہو جس میں امام بلند آواز سے قراءت کر رہا ہو تو اسے چاہیے کہ امام کے سکوت کے دوران سورہ فاتحہ پڑھ لے اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو اس کی نماز نامکمل ہو گی پوری نہیں ہو گی۔“ محمد بن عبداللہ بن عبید بن عمیر نامی راوی ضعیف ہے۔