سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ وُجُوبِ قِرَاءَةِ أُمِّ الْكِتَابِ فِي الصَّلَاةِ وَخَلَفَ الْإِمَامِ باب: : نماز میں سورة فاتحہ پڑھنا واجب ہے اور امام کی اقتداء میں (سورة فاتحہ پڑھنا)
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، وَأَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو قَالا : نا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ، ثنا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ حَكِيمٍ ، وَمَكْحُولٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، كَذَا قَالَ إِنَّهُ سَمِعَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ ، يَقْرَأُ بِ أُمِّ الْقُرْآنِ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ ، فَقُلْتُ : رَأَيْتُكَ صَنَعْتَ فِي صَلاتِكَ شَيْئًا ، قَالَ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : سَمِعْتُكَ تَقْرَأُ بِ أُمِّ الْقُرْآنِ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ ، قَالَ : نَعَمْ ، صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ الصَّلَوَاتِ الَّتِي يُجْهَرُ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ : " مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَقْرَأُ شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ إِذَا جَهَرْتُ بِالْقِرَاءَةِ ؟ " ، قُلْنَا : نَعَمْ ، يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَأَنَا أَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ فَلا يَقْرَأَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ إِذَا جَهَرْتُ بِالْقِرَاءَةِ إِلا بِ أُمِّ الْقُرْآنِ " . هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ كُلُّهُمْ . وَرَوَاهُ يَحْيَى الْبَابَلُتِّيُّ ، عَنْ صَدَقَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ مَحْمُودٍ .نافع بن محمود بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو (باجماعت نماز میں) سورہ فاتحہ پڑھتے ہوئے سنا، ابونعیم (امام صاحب) بلند آواز سے قراءت کر رہے تھے۔ (نماز سے فارغ ہونے کے بعد میں نے سیدنا عبادہ سے کہا) میں نے آپ کو نماز کے دوران ایک ایسا عمل کرتے ہوئے دیکھا ہے (جس پر مجھے حیرانگی ہوئی ہے)۔ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ”وہ کون سا ہے؟“ نافع نے کہا: ”میں نے آپ کو سورہ فاتحہ پڑھتے ہوئے سنا ہے حالانکہ امام بلند آواز میں قراءت کر رہے تھے۔“ تو سیدنا عبادہ نے فرمایا: ”جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک نماز پڑھائی جس میں آپ نے بلند آواز میں قراءت کی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا: ’جب میں بلند آواز میں قراءت کر رہا تھا کیا تم میں سے کوئی شخص قرآن کی تلاوت کر رہا تھا؟‘ ہم نے عرض کی: ’جی ہاں یا رسول اللہ!‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’میں بھی یہ سوچ رہا تھا کہ کیا قرآن میں میرے ساتھ مقابلہ کیا جا رہا ہے، تم میں سے کوئی بھی شخص قرآن کا کوئی بھی حصہ نہ پڑھے اس وقت جب میں بلند آواز میں قراءت کر رہا ہوں البتہ سورہ فاتحہ پڑھ لیا کرو۔‘“ اس روایت کی سند ’حسن‘ ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔