حدیث نمبر: 1213
ثنا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الأَشْعَثِ ، ثنا الْمُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ ، وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الأَنْصَارِيِّ ، وَكَانَ يَسْكُنُ إِيلِيَا ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : " إِنِّي لأَرَاكُمْ تَقْرَءُونَ مِنْ وَرَاءِ إِمَامِكُمْ " ، قَالَ : قُلْنَا : أَجَلْ ، وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا ، قَالَ : " فَلا تَفْعَلُوا إِلا بِ أُمِّ الْقُرْآنِ ، فَإِنَّهُ لا صَلاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا " . هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ .
محمد محی الدین

سیدنا محمود بن ربیع انصاری جو ایلیاء میں قیام پذیر تھے وہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز ادا کی آپ کو قراءت کرنے میں کچھ دشواری محسوس ہوئی جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا: ”میرا خیال ہے تم لوگ اپنے امام کے پیچھے قراءت کر رہے تھے۔“ راوی کہتے ہیں: ہم نے عرض کیا: ”اللہ کی قسم یا رسول اللہ! ایسا ہی ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ایسا نہ کیا کرو البتہ سورہ فاتحہ پڑھ لیا کرو چونکہ جو شخص اسے نہیں پڑھتا اس کی نماز (کامل) نہیں ہوتی۔“ یہ سند ’حسن‘ ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1213
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 756، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 394، 394، 394، 394، وابن الجارود فى "المنتقى"، 206، 351، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 488، 1581، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1782، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 876، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 909 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 822، 823، 824، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 247، 311، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1278، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 837، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1213، 1214، 1215، 1216، 1217، 1218، 1220، 1221، 1222، 1225، 1226، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 211، 643، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 390، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 23111»
«قال الدارقطني: وصححه ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 419)»