سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ وُجُوبِ قِرَاءَةِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فِي الصَّلَاةِ وَالْجَهْرِ بِهَا وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ فِي ذَلِكَ باب: : نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا واجب ہے ، اسے بلند آواز میں پڑھنا اس بارے میں منقول روایات میں اختلافات
حدیث نمبر: 1172
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الثَّلْجِ ، ثنا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، ثنا خَالِدُ بْنُ إِلْيَاسَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَّمَنِي جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ الصَّلاةَ فَقَامَ فَكَبَّرَ لَنَا ، ثُمَّ قَرَأَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، فِيمَا يُجْهَرُ بِهِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ " .محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”جبرائیل نے مجھے نماز کا طریقہ بتایا۔ وہ اٹھے، انہوں نے ہمارے سامنے تکبیر کہی، پھر انہوں نے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی۔ اس نماز میں، جس میں بلند آواز سے قراءت کی جاتی ہے، اور ایسا ہر رکعت میں نہیں کیا۔“