سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ وُجُوبِ قِرَاءَةِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فِي الصَّلَاةِ وَالْجَهْرِ بِهَا وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ فِي ذَلِكَ باب: : نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا واجب ہے ، اسے بلند آواز میں پڑھنا اس بارے میں منقول روایات میں اختلافات
حَدَّثَنَا أَبُو طَالِبٍ الْحَافِظُ أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورِ بْنِ أَبِي مُزَاحِمٍ ، ثنا جَدِّي ، ثنا أَبُو أُوَيْسٍ ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ خَرَّزَاذَ ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، مِنْ كِتَابِهِ ثُمَّ مَحَاهُ بَعْدَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَرَأَ وَهُوَ يَؤُمُّ النَّاسَ افْتَتَحَ الصَّلاةَ بِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ " . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : " هِيَ آيَةٌ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ ، اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ فَإِنَّهَا الآيَةُ السَّابِعَةُ " ، وَقَالَ الْفَارِسِيُّ : " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَمَّ النَّاسَ قَرَأَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ " ، لَمْ يَزِدْ عَلَى هَذَا.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نماز جب پڑھاتے، قراءت کرتے تھے، تو قراءت کا آغاز بسم اللہ الرحمن الرحیم سے کرتے تھے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: یہ اللہ کی کتاب کی ایک آیت ہے۔ اگر تم چاہو، تو قرآن کے آغاز میں یہ پڑھ سکتے ہو۔ یہ سورۃ فاتحہ کی ساتویں آیت ہے۔ فارسی رحمہ اللہ نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب لوگوں کی امامت کرتے تھے، تو بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے تھے۔ انہوں نے اس کے علاوہ مزید کوئی الفاظ نقل نہیں کیے۔