سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ وُجُوبِ قِرَاءَةِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فِي الصَّلَاةِ وَالْجَهْرِ بِهَا وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ فِي ذَلِكَ باب: : نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا واجب ہے ، اسے بلند آواز میں پڑھنا اس بارے میں منقول روایات میں اختلافات
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا أبِي ، وَشُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ ، قَالا : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلالٍ ، عَنْ نُعَيْمٍ الْمُجْمِرِ ، أنَّهُ قَالَ : " صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَرَأَ : بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، ثُمَّ قَرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ حَتَّى بَلَغَ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ ، قَالَ : آمِينَ ، وَقَالَ النَّاسُ : آمِينَ ، وَيَقُولُ كُلَّمَا سَجَدَ : اللَّهُ أَكْبَرُ وَإِذَا قَامَ مِنَ الْجُلُوسِ مِنَ اثْنَتَيْنِ ، قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، ثُمَّ يَقُولُ إِذَا سَلَّمَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لأَشْبَهُكُمْ صَلاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " . هَذَا صَحِيحٌ وَرُوَاتُهُ كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ .نعیم بن عبداللہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں نماز ادا کی۔ انہوں نے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی، پھر سورۃ فاتحہ پڑھی، یہاں تک کہ اس آیت تک پہنچے: ”غیر المغضوب علیھم ولا الضالین“، پھر انہوں نے آمین کہا۔ لوگوں نے بھی آمین کہا۔ وہ جب بھی سجدے میں جاتے، تو اللہ اکبر کہتے ہوئے جاتے اور جب دو رکعت کے بعد اٹھتے، تو اللہ اکبر کہتے ہوئے اٹھتے۔ پھر جب انہوں نے سلام پھیرا، تو یہ ارشاد فرمایا: ”اس ذات کی قسم، جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، میں تم سب کے مقابلے میں زیادہ بہتر طور پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے مطابق نماز ادا کرتا ہوں۔“ (امام دار قطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں) یہ حدیث مستند ہے، اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔