سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ دُعَاءِ الِاسْتِفْتَاحِ بَعْدَ التَّكْبِيرِ باب: : تکبیر کے بعد نماز کے آغاز کی دعا۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الأَحْوَلُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْمَرْوَزِيُّ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُمَرَ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَبَّرَ لِلصَّلاةِ ، قَالَ : " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلا إِلَهَ غَيْرُكَ " ، وَإِذَا تَعَوَّذَ قَالَ : " أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ هَمْزِ الشَّيْطَانِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ " . رَفَعَهُ هَذَا الشَّيْخُ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالْمَحْفُوظُ ، عَنْ عُمَرَ مِنْ قَوْلِهِ ، كَذَلِكَ رَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ 17 ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، وَالأَسْوَدِ ، عَنْ عُمَرَ ، كَذَلِكَ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ مِنْ قَوْلِهِ ، وَهُوَ الصَّوَابُ.سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، سیدنا عمر بن خطاب کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے تکبیر کہہ دیتے تھے تو پھر یہ پڑھتے تھے: ”تو پاک ہے اے اللہ! حمد تیرے لیے مخصوص ہے، تیرا نام برکت والا ہے، تیری بزرگی بلند و برتر ہے اور تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔“ جب آپ تعوذ پڑھتے تھے تو یہ پڑھتے تھے: ”میں شیطان اس کے وسوسوں اور اس کی چالوں سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔“ اس بزرگ نے اپنے والد کے حوالے سے نافع کے حوالے سے، سیدنا عبداللہ بن عمر کے حوالے سے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس روایت کو اسی طرح مرفوع حدیث کے طور پر نقل کیا ہے تاہم زیادہ محفوظ روایت یہ ہے، یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ان کے اپنے قول کے طور پر نقل کی گئی ہے، اس کو ابراہیم نے علقمہ اور اسود کے حوالے سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے۔ یحییٰ بن ایوب نے اپنی سند کے حوالے سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قول کے طور پر نقل کیا ہے، یہی درست ہے۔