سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ دُعَاءِ الِاسْتِفْتَاحِ بَعْدَ التَّكْبِيرِ باب: : تکبیر کے بعد نماز کے آغاز کی دعا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ ، ثنا الْمَاجِشُونُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاةَ كَبَّرَ ، ثُمَّ قَالَ : " وَجَّهْتُ وَجْهِي لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنُ الْمُشْرِكِينَ ، إِنَّ صَلاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لا شَرِيكَ لَهُ ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا إِنَّهُ لا يَغْفِرُ ?لذُّنُوبَ إِلا أَنْتَ ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ ، وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ " ، وَإِذَا رَكَعَ قَالَ : " اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعِظَامِي وَعَصَبِي " ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ، قَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ " ، فَإِذَا سَجَدَ قَالَ : " اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلْقَهُ ، وَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُوَرَهُ ، وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ ، تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ " ، وَإِذَا سَلَّمَ مِنَ الصَّلاةِ قَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي ، أَنْتَ الْمُقَدَّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ " .سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کا آغاز کرتے تھے تو تکبیر کہنے کے بعد یہ دعا پڑھتے تھے: ”میں نے اپنا رخ اس ذات کی طرف کر لیا جس نے آسمان و زمین کو ٹھیک طور پر پیدا کیا ہے اور میں مشرک نہیں ہوں میری نماز میری قربانی، میری زندگی، میری موت اللہ کے لیے ہے، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے جس کا کوئی شریک نہیں ہے مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں، اے اللہ! تو بادشاہ ہے، تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے تو میرا پروردگار ہے میں تیرا بندہ ہوں میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے، میں اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہوں تو میرے تمام گناہوں کو بخش دے، گناہوں کو تیرے علاوہ کوئی بخش نہیں سکتا، میں حاضر ہوں، تیری بارگاہ میں بھلائی اور سعادت سب تیرے دست قدرت میں ہے، اور برائی تیری طرف نہیں آ سکتی، میں تیری مدد سے سب کچھ کر سکتا ہوں، تیری طرف رجوع کرتا ہوں، تیری ذات برکت والی ہے، تو بلند و برتر ہے میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع میں جاتے تھے تو آپ یہ پڑھتے تھے: ”اے اللہ! میں نے تیرے لیے رکوع کیا، میں تجھ پر ایمان لایا، میں تیرے سامنے جھک گیا، میری سماعت، میری بصارت، میرا مغز، میری ہڈیاں، میرے پٹھے (تیری بارگاہ میں جھک گئے)۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تو یہ دعا پڑھتے تھے: ”جس شخص نے اللہ کی حمد بیان کی، اللہ نے اس کی حمد کو سن لیا، اے ہمارے پروردگار ہر طرح کی حمد تیرے لیے مخصوص ہے، جو اتنی ہو جو آسمان و زمین کو بھر دے اور ان کے درمیان موجود جگہ کو بھر دے اور اس کے علاوہ جو تو چاہے اس حصے کو بھی بھر دے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدے میں جاتے تو یہ پڑھتے تھے: ”اے اللہ! میں نے تیری بارگاہ میں سجدہ کیا میں تجھ پر ایمان لایا تیرے لیے اسلام قبول کیا، میرا سر اس ذات کے لیے جھکا ہوا ہے جس نے اسے پیدا کیا ہے، اسے صورت دی ہے اور اچھی صورت دی ہے، اسے سماعت اور بصارت سے نوازا ہے اللہ کی ذات برکت والی ہے جو سب سے بہترین خالق ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھنے کے بعد سلام پھیرتے تو یہ دعا پڑھتے تھے: ”اے اللہ! جو میں پہلے کر چکا ہوں جو بعد میں کروں گا جو خفیہ طور پر کروں گا جو اعلانیہ طور پر کیا، جو اسراف کیا، جس کے بارے میں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے، تو ان سب کے بارے میں میری مغفرت کر دے تو آگے کرنے والا ہے تو پیچھے کرنے والا ہے، تیرے علاوہ کوئی اور معبود نہیں۔“ امام دارقطنی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: نضر بن شمیل کے حوالے سے یہ بات پتہ چلی ہے جو علم لغت کے ماہرین میں سے ہیں وہ فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ، ”برائی تیری طرف نہیں جا سکتی۔“ اس سے مراد یہ ہے برائی ایسی چیز نہیں ہے جس کے ذریعے تیرا قرب حاصل کیا جائے۔