سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ ذِكْرِ التَّكْبِيرِ وَرَفْعِ الْيَدَيْنِ عِنْدَ الِافْتِتَاحِ وَالرُّكُوعِ وَالرَّفْعِ مِنْهُ وَقَدْرِ ذَلِكَ وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ باب: : تکبیر تحریمہ، نماز کے آغاز میں ، رکوع میں جاتے ہوئے، رکوع سے اٹھتے ہوئے ، رفع یدین کرنا، اس کی مقدار اور اس بارے میں روایات کا اختلاف
حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْحَنَّاطُ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عِيسَى بْنِ أَبِي حَيَّةَ ، قَالا : نا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ ، وَمَعَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، فَلَمْ يَرْفَعُوا أَيْدِيَهُمْ إِلا عِنْدَ التَّكْبِيرَةِ الأُولَى فِي افْتِتَاحِ الصَّلاةِ " . قَالَ إِسْحَاقُ : بِهِ نَأْخُذُ فِي الصَّلاةِ كُلِّهَا ، تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ وَكَانَ ضَعِيفًا ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، وَغَيْرُ حَمَّادٍ يَرْوِيهِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، مُرْسَلا ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مِنْ فِعْلِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ الصَّوَابُ.سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں نمازیں ادا کی ہیں، یہ حضرات صرف نماز کے آغاز میں پہلی تکبیر کے ساتھ رفع یدین کیا کرتے تھے۔ اسحق نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے: ہم نماز پڑھنے کے طریقے کے بارے میں اس روایت کو اختیار کریں گے اس روایت کو نقل کرنے میں محمد بن جابر نامی راوی منفرد ہیں اور یہ صاحب ضعیف ہیں، محمد بن جابر نے اسے حماد نامی راوی کے حوالے سے ابراہیم نخعی سے نقل کیا ہے، جبکہ حماد کے علاوہ دیگر راویوں نے اسے ابراہیم نخعی سے مرسل روایت کے طور پر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ان کے اپنے فعل کے طور پر نقل کیا ہے انہوں نے اسے مرفوع حدیث کے طور پر نقل نہیں کیا، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں منقول ہو اور یہی روایت درست ہے۔