سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابٌ فِي ذِكْرِ الْأَمْرِ بِالْأَذَانِ وَالْإِمَامَةِ وَأَحَقِّهِمَا باب: : اذان اور امامت کا حکم دینا، ان دونوں کا زیادہ حق دار کون ہوگا ؟
حدیث نمبر: 1070
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، ثنا أبِي ، نا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ أَبُو سَعِيدٍ الأَحْوَلُ الْهِلالِيُّ ، ثنا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا اجْتَمَعَ ثَلاثَةٌ أَمَّهُمْ أَحَدُهُمْ وَأَحَقُّهُمْ بِالإِمَامَةِ أَقْرَؤُهُمْ " .محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب تین آدمی اکٹھے ہوں تو ان میں سے کوئی ایک ان کی امامت کروائے، (یعنی انہیں باجماعت نماز ادا کرنی چاہیے) اور ان میں سے امامت کا زیادہ حق دار وہ ہو گا جو قراءت اچھے طریقے سے کر سکتا ہو (یا زیادہ آیات کا حافظ ہو)۔“