حدیث نمبر: 1062
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَلِيٍّ أَبُو مُحَمَّدٍ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَبِيبٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَنْبَرِيُّ ، قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ الْعَرْزَمِيُّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً كُنْتُ فِيهَا ، فَأَصَابَتْنَا ظُلْمَةٌ فَلَمْ تُعْرَفِ الْقِبْلَةُ ، فَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنَّا : قَدْ عَرَفْنَا الْقِبْلَةَ هِيَ هَاهُنَا قِبَلَ الشِّمَالِ فَصَلُّوا وَخَطُّوا خَطًّا ، وَقَالَ بَعْضُنَا : الْقِبْلَةُ هَاهُنَا قِبَلَ الْجَنُوبِ وَخَطُّوا خَطًّا ، فَلَمَّا أَصْبَحُوا وَطَلَعَتِ الشَّمْسُ أَصْبَحَتْ تِلْكَ الْخُطُوطُ لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ ، فَلَمَّا قَفَلْنَا مِنْ سَفَرِنَا سَأَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَسَكَتَ وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ سورة البقرة آية 115 ، أَيْ حَيْثُ كُنْتُمْ " .
محمد محی الدین

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہم روانہ کی، میں بھی اس میں موجود تھا۔ ایک مرتبہ انتہائی تاریکی میں ہمیں قبلہ کی سمت کا اندازہ نہ ہو سکا۔ ہم میں سے کچھ لوگوں نے کہا: ہمیں قبلہ کا اندازہ ہو گیا ہے، وہ اس طرف ہے۔ انہوں نے شمال کی طرف اشارہ کیا، اس طرف رخ کر کے نماز ادا کی، اور یادداشت کے طور پر ایک لکیر لگائی۔ بعض نے کہا: قبلہ اس سمت ہے۔ انہوں نے جنوب کی طرف اشارہ کیا اور اس طرف لکیر لگائی۔ جب صبح ہوئی اور سورج نکلا تو دونوں لکیریں قبلہ کی سمت میں نہ تھیں۔ جب ہم سفر سے واپس آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا تو آپ خاموش رہے۔ پھر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: ”مشرق اور مغرب اللہ ہی کے لیے ہیں، تم جس طرف بھی رخ کرو گے، وہاں اللہ کی ذات موجود ہو گی۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1062
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف ، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 748، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2270، 2271، 2272، 2279، 2280، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1062، 1064»
«قال البيهقي: حديث جابر ضعيف ، عمدة القاري شرح صحيح البخاري: (4 / 143)»