سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ إِمَامَةِ جَبْرَائِيلَ باب: : حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کی امامت کا واقعہ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ الدَّقَّاقُ ، نا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَزَّازُ ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ سَعْدَوَيْهِ ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِيهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ " أَنَّ جَبْرَائِيلَ عَلَيْهِ السَّلامُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَلَكَتِ الشَّمْسُ ، يَعْنِي زَالَتْ ، ثُمَّ ذَكَرَ الْمَوَاقِيتَ ، وَقَالَ : ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ ، فَقَالَ : قُمْ فَصَلِّ ، فَصَلَّى ، ثُمَّ أَتَاهُ مِنَ الْغَدِ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ وَقْتًا وَاحِدًا ، فَقَالَ : قُمْ فَصَلِّ ، فَصَلَّى " .سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس وقت آئے جب سورج ڈھل چکا تھا (اس کے بعد راوی نے اس میں نمازوں کے اوقات کا ذکر کیا ہے انہوں نے یہ بات بیان کی ہے): پھر جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب سورج غروب ہو چکا تھا، اور بولے: ”اٹھیے اور نماز ادا کیجیے۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی، پھر وہ اگلے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب سورج غروب ہو چکا تھا (یعنی مغرب کی نماز کا) وقت ایک ہی تھا وہ بولے: ”اٹھیے اور نماز ادا کیجیے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی۔