حدیث نمبر: 1011
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّوَّافُ ، بِالْبَصْرَةِ ، ثنا عَمْرُو بْنُ بِشْرٍ الْحَارِثُ ، ثنا بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، " أَنَّ جَبْرَائِيلَ عَلَيْهِ السَّلامُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُ الصَّلاةَ ، فَجَاءَهُ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ ، فَتَقَدَّمَ جَبْرَائِيلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى الظُّهْرَ ، ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ صَارَ الظِّلُّ مثل قَامَةِ شَخْصِ الرَّجُلِ ، فَتَقَدَّمَ جَبْرَائِيلُ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى الْعَصْرَ ، ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ فَتَقَدَّمَ جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ ، وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ ذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ ، وَقَالَ فِيهِ : ثُمَّ أَتَاهُ الْيَوْمَ الثَّانِيَ حِينَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ لِوَقْتٍ وَاحِدٍ فَتَقَدَّمَ جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ ، وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ : ثُمَّ قَالَ : مَا بَيْنَ الصَّلاتَيْنِ وَقْتٌ ، قَالَ : فَسَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلاةِ ، فَصَلَّى بِهِمْ كَمَا صَلَّى بِهِ جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ ، ثُمَّ قَالَ : أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الصَّلاةِ ؟ مَا بَيْنَ الصَّلاتَيْنِ وَقْتٌ " .
محمد محی الدین

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تاکہ آپ کو نماز کے بارے میں بتائیں وہ آپ کے پاس اس وقت آئے جب سورج ڈھل چکا تھا، جبرائیل علیہ السلام آگے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے کھڑے ہوئے اور لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوئے پھر آپ نے ظہر کی نماز ادا کی، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس اس وقت آئے جب آدمی کا سایہ اس کے قد کے برابر ہو گیا جبرائیل علیہ السلام آگے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے کھڑے ہوئے اور لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز ادا کی پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب سورج غروب ہو چکا تھا، جبرائیل علیہ السلام آگے کھڑے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے کھڑے ہوئے اور لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوئے انہوں نے مغرب کی نماز ادا کی۔ اس کے بعد انہوں نے باقی حدیث ذکر کی ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: اگلے دن جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب سورج غروب ہو چکا تھا یہ ایک ہی وقت تھا جبرائیل آگے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے کھڑے ہوئے اور لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوئے انہوں نے مغرب کی نماز ادا کی۔ اس روایت کے آخر میں یہ ہے: جبرائیل علیہ السلام نے کہا: ”ان دونوں نمازوں کے درمیان (نمازوں کا شرعی) وقت ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نمازوں (کے اوقات) کے بارے میں دریافت کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اس طرح نماز پڑھائی جس طرح جبرائیل علیہ السلام نے آپ کو پڑھائی تھی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کے بارے میں دریافت کرنے والا شخص کہاں ہے؟ ان دونوں (اوقات کے) کے درمیان نماز کا وقت ہے۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1011
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 560، 565، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 646، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 353، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1472، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 700، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 503 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 397، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 150، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1222،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1009، 1010، 1011، 1012، 1013، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 14467»