قرآن حکیم کے ساتھ کافر ملک کا سفر

تحریر: علامہ عبداللہ بن عبدالرحمن الجبرین حفظ اللہ سوال: قرآنِ حکیم کے ساتھ کافر ملک کے سفر کا کیا حکم ہے؟ جواب: فقہاء نے بیان کیا ہے کہ یہ حرام ہے ۔ اور اس سلسلہ میں صحیح حدیث وارد ہوئی ہے جو امام مسلم رحمہ اللہ سے مروی ہے ۔ [ج 6 ص 30] اور امام احمد رحمہ اللہ سے [ج 2 ص 76 ، 55 ، 10 ، 6] نیز امام ابو داؤد اور دوسرے حضرات سے بھی یہ روایت منقول ہے ۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا تسافروا بالقرآن فإني أخاف أن يناله العدو [صحيح مسلم ، كتاب الامارة ، باب 24 ح 1829 ۔ ومسند احمد ۔ 106/2] ”قرآن کریم لے کر سفر نہ کرو مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں دشمن کے ہاتھ…

Continue Readingقرآن حکیم کے ساتھ کافر ملک کا سفر

شیطان انسانوں کو کیسے پھسلاتا ہے؟

تالیف: ڈاکٹر رضا عبداللہ پاشا حفظ اللہ 441۔ شیطان انسانوں کو کیسے پھسلاتا ہے ؟ جواب : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا ۖ وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ» [آل عمران: 155] ”بےشک وہ لوگ جو تم میں سے اس دن پیٹھ پھیر گئے، جب دو جماعتیں بھڑیں، شیطان نے انھیں ان کے بعض اعمال ہی کی وجہ سے پھسلایا جو انھوں نے کیے تھے اور بلاشبہ یقیناً اللہ نے انھیں معاف کر دیا، بے شک اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت بردبار ہے۔“ « بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا» سے مراد ان کے گزشتہ بعض گناہ ہیں، جیسا کہ بعض علما نے کہا ہے: برائی کی جزا اس کے بعد آنے والی برائی ہے۔ «عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ» یعنی ان لوگوں کو جو فرار ہو گئے تھے، اللہ تعالیٰ نے…

Continue Readingشیطان انسانوں کو کیسے پھسلاتا ہے؟

عاملوں سے علاج کروانا اور انہیں ہاتھ دکھانا

تحریر: مولانا ابوالحسن مبشر احمد ربانی حفظ اللہ سوال : کیا کسی عامل کو ہاتھ دکھا کر قسمت کا حال جاننا یا اس سے اپنا علاج کروانا درست ہے ؟ قرآن و سنت کی روشنی میں واضح فرما دیں۔ جواب : ایسے لوگ جو پروفیسروں کے بورڈ لگا کر ’’ جو چاہو سو پوچھو“ یا ’’ ہر قسم کی مراد پوری ہو گی“ کے دعوے کرتے ہیں، ان سے علاج کرنا اور انہیں قسمت کا حال دریافت کرنے کے لیے ہاتھ دکھانا بالکل ناجائز ہے۔ ایسے نجومیوں اور کاہنوں کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : من اتي عرافا فساله عن شيء لم تقبل له صلاة اربعين ليلة ’’ جو شخص کسی خبریں بتانے والے (نجومی یا کاہن) کے پاس آیا اور اس سے کچھ پوچھا: تو اس کی چالیس روز کی نماز قبول نہیں ہو گی۔“ [مسلم،…

Continue Readingعاملوں سے علاج کروانا اور انہیں ہاتھ دکھانا

نجد کا صحیح مفہوم

تحریر: مولانا ابوالحسن مبشر احمد ربانی حفظ اللہ

سوال : نجد کا صحیح مفہوم کیا ہے اور حدیث نجد سے کون مراد ہے ؟
جواب : باطل پرست ہمیشہ اہل حق کے بارے میں مختلف قسم کے پروپیگنڈے سے کام لیتے آئے ہیں۔ لیکن اللہ تبارک وتعالیٰ کے فضل و احسان سے حق نمایاں اور آشکارا ہو کر رہا اور مخالفین ان کا کچھ نہ بگاڑ سکے۔ عرب کے سرزمین پر جب شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمه الله نے توحید کا علم بلند کیا اور شرک و بدعات کی سرکوبی کی تو کلمہ گو مشرکوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کا معنی و مفہوم بدل کر انہیں شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمه الله پر چسپاں کرنا شروع کر دیا۔ انہی احادیث میں سے ایک حدیث نجد ہے۔ جس کا صحیح مصداق عراق کی سرزمین ہے۔ جہاں بہت سے گمراہ فرقوں نے جنم لیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے کچھ عرصہ بعد عراق میں بہت سے فتنے رونما ہوئے۔ جنگ نہروان، واقعہ کربلا، بنو امیہ اور بنو عباس کی لڑائیاں، پھر تاتاریوں کے خونریز معرکے، اس طرح گمراہ فرقوں یعنی خوارج، شیعہ، معتزلہ، جہمیہ، مرجیہ وغیرہ کا ظہور بھی کوفہ بصرہ اور بغداد جو عراق کے مشہور شہر ہیں، سے ہوا۔ بارہ سو سال تک تمام مسلمانوں کا متفقہ طور پر یہی موقف رہا کہ نجد قرن شیطان سے مراد عراق ہی کا علاقہ ہے لیکن بارہویں صدی کے بعد اہل بدعت نے ان احادیث کا مفہوم بگاڑ کر انہیں شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمه الله پر چسپاں کرنا شروع کر دیا۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث ملاحظہ کریں جن سے واضح ہو جا تا ہے کہ نجد قرن شیطان سے مراد عراق ہی کا علاقہ ہے۔
➊ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے کہا:
ذكر النبي صلى الله عليه وسلم : اللهم بارك لنا في شامنا اللهم بارك لنا في يمننا قالوا : يا رسول الله وفي نجدنا ؟ قال : اللهم بارك لنا في شامنا اللهم بارك لنا في يمننا قالوا : يا رسول الله وفي نجدنا ؟ فاظنه قال في الثالثة : هناك الزلازل والفتن وبها يطلع قرن الشيطان .
[بخاري، كتاب الفتن : باب قول النبى : الفتنة من قبل المشرق : 7093، مسند احمد : 2/ 118، ترمذي، كتاب المناقب : باب فى فضل الشام و اليمن : 3953، شرح السنة : 14/ 206، صحيح ابن حبان : 7257]
’’ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی : ’’ اے اللہ ! ہمارے لیے شام میں برکت نازل فرما، اے اللہ ! ہمارے لیے یمن میں برکت نازل فرما۔“ لوگوں نے کہا: ’’ اے اللہ کے رسول ! اور ہمارے نجد (عراق) کے لیے بھی“ (دعا کریں ؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا : ’’ اے اللہ ! ہمارے لیے شام میں برکت نازل فرما، اے اللہ ! ہمارے لیے یمن میں برکت نازل فرما۔“ لوگوں نے کہا: ’’ اے اللہ کے رسول ! اور ہمارے نجد کے لیے بھی دعا کریں ؟“ میں سمجھتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسر ی مرتبہ فرمایا : ’’ وہاں زلزے اور فتنے ہوں گے اور وہاں سے شیطان کا سینگ نکلے گا۔“
(more…)

Continue Readingنجد کا صحیح مفہوم

نوجوانوں اور دو شیزاوءں کا باہم خط و کتابت کرنا

فتویٰ : سابق مفتی اعظم سعودی عرب شیخ ابن باز رحمہ اللہ سوال : نوجوان مردوں اور عورتوں کا باہم خط و کتابت کرنا شرعاً کیسا ہے جبکہ وہ فسق و فجور عشق و فریفتگی سے خالی ہو؟ جواب : کسی شخص کے لئے اجنبی عورت سے خط و کتابت کرنا جائز نہیں ہے۔ اس لئے کہ اس میں فتنہ سامانیاں ہیں اگرچہ لکھنے والا یہ سمجھتا ہو کہ ایسا نہیں ہے، لیکن شیطان ان کا پیچھا اس وقت تک نہیں چھوڑتا، جب تک وہ اسے فتنہ و فساد میں مبتلا نہ کر دے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ جو شخص یہ سنے کہ دجال ظاہر ہو گیا ہے تو وہ (اس کو دیکھنے کی بجائے) اس سے دور رہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے، ایک مومن شخص ایمان کی حالت میں اس…

Continue Readingنوجوانوں اور دو شیزاوءں کا باہم خط و کتابت کرنا

End of content

No more pages to load