صفات باری تعالیٰ اور سلف صالحین

  شماررہ السنہ جہلم صفات باری تعالیٰ اور سلف صالحین امام شافعی رحمہ اللہ (204ھ) فرماتے ہیں: وقد أثنى الله تبارك وتعالى على أصحاب رسول الله ، صلى الله عليه وسلم فى القرآن والتوراة والإنجيل ، وسبق لهم على لسان رسول الله ، صلى الله عليه وسلم ، من الفضل ما ليس لأحد بعدهم ، فرحمهم الله وهناهم بما آتاهم من ذلك يبلوغ أعلى منازل الصديقين والشهداء والصالحين ، هم أدوا إليناسنن رسول الله صلى الله عليه وسلم ، وشاهدوه والوحي ينزل عليه ، فعلموا ما أراد رسول الله ، صلى الله عليه وسلم ، عاما وخاصا ، وعوما وإرشادا وعرفوا من سنته ما عرفنا وجهلنا ، وهم فوقنا فى كل علم واجتهاد ، وورع وعقل ، وأمر استدرك به علم واستنبط به وآراؤهم لنا أحمد وأولى بنا من آرائنا عندنا لأنفسنا ”اللہ تعالیٰ نے اصحاب رسول صلى الله عليه وسلم کی تعریف…

Continue Readingصفات باری تعالیٰ اور سلف صالحین

مشرکین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو کیسے ٹھکرایا ؟

تالیف: ڈاکٹر رضا عبداللہ پاشا حفظ اللہ 230۔ مشرکین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو کیسے ٹھکرایا ؟ جواب : اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق یوں فرمایا ہے: وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِم بَابًا مِّنَ السَّمَاءِ فَظَلُّوا فِيهِ يَعْرُجُونَ ‎ ﴿١٤﴾ ‏ لَقَالُوا إِنَّمَا سُكِّرَتْ أَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُورُونَ ‎ ﴿١٥﴾ ‏ ” اور اگر ہم ان پر آسمان سے کوئی دروازہ کھول دیں، پس وہ دن بھر اس میں پڑھتے رہیں۔ تو یقیناً کہیں گے کہ بات یہی ہے کہ ہماری آنکھیں باندھ دی گئی ہیں، بلکہ ہم جادو کیے ہوئے لوگ ہیں۔“ [الحجر: 15 , 14] آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ ان کے کفر کی شدت، ان کے عناد اور ان کے حق سے تکبر کرنے کی خبر دیتے ہیں کہ بلاشبہ اگر اللہ ان کے لیے آسمان میں دروازہ بھی کھول دیتے اور وہ اس میں چڑھ…

Continue Readingمشرکین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو کیسے ٹھکرایا ؟

کیا نظر کا دم کروانا جائز ہے ؟

تالیف: ڈاکٹر رضا عبداللہ پاشا حفظ اللہ جواب : جی ہاں، عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الآرقية إلا من عين أو حمة» ”نہیں ہے دم مگر نظر یا بخار سے۔“ [صحيح سنن أبى داود، رقم الحديث 3884 كتاب الطب، مسند أحمد 436/4] صحیح مسلم میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا : «رخص رسول الله فى الرقية من العين، والحمة، والنملة » ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر لگنے، بخار اور چیونٹی کے کاٹنے سے دم کروانے کی رخصت دی ہے۔“ [صحيح. موطأ الإمام مالك، رقم الحديث 2707 باب الوضوء من العين، مسند أحمد 4/6/3 وغيرهما.] ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے : « إن النبى رأى فى بيتها جارية فى وجهها سفعة، فقال: استرقوا…

Continue Readingکیا نظر کا دم کروانا جائز ہے ؟

کیا کوئی چیز تقدیر پر سبقت لے جا سکتی ہے ؟

تالیف: ڈاکٹر رضا عبداللہ پاشا حفظ اللہ جواب : اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! میرا بیٹا جعفر نظر کا شکار ہو گیا ہے، کیا میں اسے دم کر سکتی ہوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «نعم، فلو كان شيء يسبق القضاء لسبقته العين » ”ہاں، اگر کوئی چیز قضا پر سبقت لینے والی تو وہ نظر ہوتی۔‘‘ [سنن الترمذي، كتاب الطب، باب الرقية من العين، رقم الحديث 2059 مسند أحمد 438/6] نیز سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے : « إن العين لتدخل الرجل القبر والجمل القدر» ”بلاشبہ نظر آدمی کو قبر میں داخل کر دیتی ہے اور اونٹ کو ہنڈیا میں (داخل کر دیتی ہے)۔“ [حسن . الحلية 90/7 مسند شهاب، رقم الحديث 1057 رقم الحديث 1249] علامہ البانی نے اسے کہا ہے۔…

Continue Readingکیا کوئی چیز تقدیر پر سبقت لے جا سکتی ہے ؟

کیا جہنم آسمان پر ہے یا زمین کے نیچے؟

تحریر: علامہ عبداللہ بن عبدالرحمن الجبرین حفظ اللہ کیا جہنم آسمان پر ہے یا زمین کے نیچے؟ سوال: دلائل سے اس کی وضاحت کریں کہ جہنم آسمان پر ہے یا زمین کے نیچے؟ جواب: بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جہنم زمین کے نیچے ہے یا پھر ساتویں زمین کی تہہ میں ہے ، یا سمندروں کی تہہ میں یا اس جگہ کو اللہ عزوجل کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔ اللہ رب العزت نے جنت کے بارے میں فرمایا ہے: ﴿عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَىٰ ‎ ﴿١٤﴾‏ عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَىٰ﴾ [النجم: 15 14] ”سدرۃ المنتہٰی کے پاس اسی کے پاس جنَّۃُ المَأْوى ہے ۔“ اللہ تعالیٰ نے بیان کیا کہ نیکوکاروں کا نامہ اعمال علیین کے مقام پر ہے یعنی تمام آسمانوں کی بلندی پر ہے ۔ نیز فرمایا کہ گناہ گاروں کا نامہ اعمال سجین کے مقام پر ہے اور مقام سچین کی…

Continue Readingکیا جہنم آسمان پر ہے یا زمین کے نیچے؟

سیکولرزم کے بارے میں اسلام کا کیا حکم ہے؟

تحریر: علامہ عبداللہ بن عبدالرحمن الجبرین حفظ اللہ سیکولرزم (SECULARISM) کیا ہے؟ سوال: سیکولرزم کیا ہے اور اس کے بارے میں اسلام کا کیا حکم ہے؟ جواب: یہ ایک نیا مذہب اور فاسد تحریک ہے جس کا مقصد صرف دنیا کمانا اور شہوت پرستی ہے اور یہی ان کا مقصد زندگی ہوتا ہے ، نتیجتا دار آخرت کو بالکل فراموش کر دیتے ہیں اور کلی طور پر اس سے غافل ہو جاتے ہیں اور نہ ہی اعمال اُخرویہ کی طرف دھیان کرتے ہیں ۔ سیکولر نظام کو ماننے والے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان صادق آتا ہے: تعس عبد الدينار تعس عبد الدرهم تعس عبد الخميصة ، تعس عبد الخميلة ، إن أعطي رضي ، وإن لم يعط لم يرض ، تعس وانتكس ، وإذا شيك فلا انتقش [صحيح البخاري ، كتاب الجهاد باب الحراسة فى الغزو فى…

Continue Readingسیکولرزم کے بارے میں اسلام کا کیا حکم ہے؟

کیا ابلیس فرشتوں میں سے ہے؟

تحریر: علامہ عبداللہ بن عبدالرحمن الجبرین حفظ اللہ کیا ابلیس فرشتوں میں سے ہے؟ سوال: کیا ابلیس فرشتوں میں سے ہے؟ جواب: اس میں علماء کرام کے دو قول ہیں اور ہر قول کی دلیل بھی ہے اور ترجیحی پہلو بھی ۔ پہلا قول: یہ ہے کہ ابلیس گر وہ ملائکہ سے ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے: فسجد الملائكة كلهم أجمعون ‎ ﴿٧٣﴾‏ إلا إبليس [ص: 73 74] ”چنانچہ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے (نہ کیا) ۔“ مستثنی دراصل مستثنی منہ کی جنس سے ہوتا ہے نیز اس آیت میں حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کا حکم صرف فرشتوں کو دیا گیا تھا ۔ ارشاد ربانی ہے: ثم قلنا للملائكة اسجدوا لآدم [الاعراف 11] ”پھر ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو ۔“ اس آیت میں اس کا ذکر نہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ…

Continue Readingکیا ابلیس فرشتوں میں سے ہے؟

عقیدے میں مفید کتابیں کون سی ہیں؟

  تحریر: علامہ عبداللہ بن عبدالرحمن الجبرین حفظ اللہ عقیدے میں مفید کتابیں کون سی ہیں؟ سوال: صحیح اسلامی عقیدہ کے بارے میں کن کتابوں کا مطالعہ مفید ثابت ہو سکتا ہے؟ جواب: ہم سلف صالحین اور بالخصوص ابتدائی زمانے میں لکھی گئی کتابوں کے درس و مطالعہ کی نصیحت و تلقین کرتے ہیں ۔ اس لیے کہ عقیدہ کا معالمہ ایسا ہے کہ جب انسان اس کی مخالفت کرے گا تو گمراہ ہو جائے گا ۔ بنابریں علماء کرام نے اس کا خوب اہتمام کیا اور سب سے پہلے اس کی طرف توجہ مبذول کی ۔ اور حق کے علم بردار ان علماء اسلام نے اپنے ہم زمانہ جماعتوں ، مثلاًً خوارج ، قدریہ جہمیہ ، مرجئہ رافضہ اور جبریہ کے ساتھ مباحثہ و مناظرہ کیا نیز ان علمائے حق وصواب نے اہل بدعت کی خطاؤں اور لغزشوں کی نشان دہی کی…

Continue Readingعقیدے میں مفید کتابیں کون سی ہیں؟

سورج سے مخاطب ہونا

تحریر: علامہ عبداللہ بن عبدالرحمن الجبرین حفظ اللہ ”سورج گدھے کا دانت لے جا !“ سوال: جو شخص دانت اکھاڑنے کے بعد سورج سے مخاطب ہو کر کہے کہ گدھے کا دانت لے جا اور اس کے بدلے ہرنی کا دانت دے جا تو اس قسم کے جملے کا کیا حکم ہے؟ جواب: اس طرح کی بات بے بنیاد ہوتی ہے اور نہ اس کا کوئی فائدہ ہے ۔ ممکن ہے کہ یہ شرکیہ جملہ بن جائے کیونکہ یہ سورج سے دعاء مانگنے یا اس کو پکارنے کے مترادف ہے ، حالانکہ سورج خود مخلوق ہے اور ایک ڈیوٹی انجام دے رہا ہے ۔ جو شخص سورج سے دعا مانگتا ہے تو سورج نہ اس کے لیے نفع و نقصان کا مالک ہے اور نہ کسی دوسرے کے لیے ۔ لہٰذا سورج کو مخاطب کرنا گویا اس سے دعا مانگنا اور اس کی…

Continue Readingسورج سے مخاطب ہونا

کسی مخلوق کی قسم کھانا جائز نہیں

تحریر: علامہ عبداللہ بن عبدالرحمن الجبرین حفظ اللہ نبی اور امانت کی قسم کھانے کا حکم سوال: نبی یا امانت کی قسم کھانے کا کیا حکم ہے؟ جواب: کسی مخلوق کی قسم کھانا جائز نہیں ۔ صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: من كان حالفا فليحلف بالله أو ليصمت [صحيح البخاري ، كتاب الايمان ، باب لا تحلفوا بآباءكم ح 2670] ”جسے قسم کھانا ہو تو وہ اللہ عزوجل کی قسم کھائے ، ورنہ خاموش رہے ۔“ نیز مسند احمد اور سنن ترمذی میں بھی انہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من حلف بغير الله فقد كفر او اشرك [مسند احمد 125/2 ح 6072 حدیث صحیح ہے ۔ وسنن الترمذي ، كتاب النذور والايمان ، باب ما جاء…

Continue Readingکسی مخلوق کی قسم کھانا جائز نہیں

توحید و عقائد سے متعلق 15 بڑے شبہات کا ازالہ

تحریر: محمد منیر قمر حفظ اللہ پہلى فصل : رسولوں کی پہلی دعوت توحید الوہیت و عبادت کی تعلیم : قارئین کرام ! اللہ آپ پر رحم فرمائے ۔ یہ بات اچھی طرح سمجھ لیں کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو ہر قسم کی عبادت کے لئے منفرد اور یکہ و تنہا تسلیم کرنے کا نام ”توحید“ ہے اور یہی ان تمام رسولوں کا دین جنہیں اللہ نے اس دعوت کے لئے اپنے بندوں کی طرف بھیجا ۔ ان میں سے پہلے رسول حضرت نوح علیہ السلام ہیں ۔ جنہیں اللہ نے اس وقت مبعوث فرمایا جب ان کی قوم ود ، سواع ، یغوث ، یعوق اور نسر جیسے صالحین کے احترام وعقیدت میں غلو کا شکار ہو گئی ۔ (تاریخ شاہد ہے کہ ان لوگوں نے صالحین کی قبروں پر گوناں گوں شرک ، قبروں کا طواف ، اہل قبور سے…

Continue Readingتوحید و عقائد سے متعلق 15 بڑے شبہات کا ازالہ

اہل جہالیت کے بعض عقائد

تالیف: الشیخ السلام محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ، ترجمہ: مولانا مختار احمد ندوی حفظ اللہ اپنے دین کی اقراری باتوں کا انکار -------------- اہل جاہلیت کا ایک عمل یہ بھی تھا کہ جن باتوں کے متعلق ان کو اقرار تھا کہ یہ ان کے دین کی ہیں ان سے بھی انکار کر دیتے تھے جیسا کہ حج بیت اللہ کے بارے میں ان کا عمل تھا، انھوں نے اس کا انکار کیا اور اس سے اپنی برات ظاہر کی، جبکہ ان کو اقرار تھا کہ یہ ان کے دین کی باتیں ہیں جیسا کہ اللہ کا ارشاد ہے۔ وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ وَأَمْنًا وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى [2-البقرة:125] ”اور جب ہم نے خانہ کعبہ کو لوگوں کے لیے جمع ہونے اور امن پانے کی جگہ مقرر کر لیا اور (حکم دیا) کہ جس مقام پر ابراہیم کھڑے ہوئے تھے اس کو…

Continue Readingاہل جہالیت کے بعض عقائد

اہل جاہلیت کے بعض مسائل

تالیف: الشیخ السلام محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ، ترجمہ: مولانا مختار احمد ندوی حفظ اللہ عبادت میں اضافہ کرنا -------------- یعنی جو احکامات ان کو دیئے گئے اس میں اپنی طرف سے اضافہ کر کے من مانی عمل کرنا، جیسے عاشورا کے دن کے ان کے اعمال۔ عبادت میں گھٹانا -------------- احکامات الہی میں کمی کرنا بھی اہل جاہلیت کی عادت رہی ہے، جیسے حج کے موقع پر عرفات میں وقوف نہ کرنا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ [2-البقرة:199] پھر جہاں سے اور لوگ واپس ہوں وہیں سے تم بھی واپس ہو۔ یعنی عرفات سے لوٹو، مزدلفہ سے نہیں۔ یہ خطاب سب کے لیے عام ہے اور اہل جاہلیت کے اس عمل کو اس آیت سے باطل کیا گیا کہ عرفات کی بجائے مزدلفہ سے لوٹا جائے جیسا کہ قریش کے اشراف کرتے تھے۔ حضرت عائشہ…

Continue Readingاہل جاہلیت کے بعض مسائل

کیا شیطان نبی کریمﷺ کی صورت میں آ سکتا ہے؟

تالیف: ڈاکٹر رضا عبداللہ پاشا حفظ اللہ 61۔ شیطان انسانی جسم کے کون سے حصے میں رات گزارتا ہے ؟ جواب : سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إذا استيقظ أحدكم من منامه فتوضا فليستنثر ثلاثا، فإ الشيطان يبيت على خشومه ”جب تم میں سے کوئی بیدار ہو اور وضو کرے تو تین مرتبہ ناک جھاڑے، کیونکہ شیطان اس کی ناک کی ہڈی پر رات گزارتا ہے۔ “ ------------------ 62۔ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ (شیطانی قدم) کیا ہیں ؟ جواب : اللہ تعالی کا فرمان ہے : يَأَيُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَلَالًا طَيِّبًا وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ اے لوگو! ان چیزوں میں سے جو زمین میں ہیں حلال، پاکیزہ کھاؤ اور شیطان کے قدموں کی پیروی مت کرو، بے شک…

Continue Readingکیا شیطان نبی کریمﷺ کی صورت میں آ سکتا ہے؟

End of content

No more pages to load