چہلم کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

شماررہ السنہ جہلم جواب: بدعت قبیحہ ہے ۔ کسی کی وفات کے چالیس دن بعد محفل منعقد کرنا ، غم کو تازہ کرنا ، قرآن پاک ختم کرنا اور کھانے پینے کا خوب انتظام کرنا سب بدعات ہیں ۔ عبد العزیز بن باز رحمہ للہ سے چہلم کے بارے میں پوچھا گیا ، تو فرمایا: الأصل فيها أنها عادة فرعونية كانت لدى الفراعنة قبل الإسلام ثم انتشرت عنهم وسرت فى غيرهم وهى بدعة منكرة لا أصل لها فى الإسلام يردها ما ثبت من قول النبى ، صلى الله عليه وسلم: من أحدث فى أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد ”بنیا دی طور پر یہ فرعونیوں کی عادت ہے ۔ ظہور اسلام سے پہلے حکومت فرعون میں ایسا ہوتا تھا ، ان سے دوسروں میں بھی سرایت کر گئی ۔ یہ منکر بدعت ہے ۔ اسلام میں اس کا جواز نہیں ۔ نبی…

Continue Readingچہلم کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

نماز جنازہ سے پہلے یہ کہنا کیسا ہے کہ نیت کر لو؟

شماررہ السنہ جہلم جواب: بدعت اور ضلالت ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نمازوں سے پہلے صف بندی کا حکم دیتے تھے ، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری زندگی کسی نماز سے پہلے نیت کرنے کا نہیں کہا: ۔ بعض ائمہ تو نیت کے الفاظ دہراتے ہیں ، حالاں کہ زبان سے نیت کرنا شرعا ثابت نہیں ۔

Continue Readingنماز جنازہ سے پہلے یہ کہنا کیسا ہے کہ نیت کر لو؟

نماز جنازہ کے فورا بعد دعا

تحریر: الشیخ مبشر احمد ربانی حفظ اللہ نماز جنازہ کے فورا بعد دعا سوال : جیسا کہ ہمارے ہاں مروج ہے نماز جنازہ کے فوراً بعد دعا کے لئے ہاتھ اٹھا دیتے ہیں اس کا ثبوت قرآن و حدیث سے ملتا ہے یا یہ خود ساختہ بدعت ہے؟ جواب : نمازِ جنازہ ادا کرنے کا جو طریقہ کتبِ احادیث میں ملتا ہے اس میں میت کے لیے دعا کرنے کے دو مواقع کا ذکر ہے۔ ایک دعا نمازِ جنازہ کے اندر اور دوسری دعا قبر میں میت کو دفن کرنے کے بعد۔ نمازِ جنازہ کے بعد وہیں بیٹھ کر یا کھڑے ہو کر دعا کرنے کا جو رواج بریلوی یا بعض دیوبندی حضرات میں پایا جاتا ہے اس کا ثبوت نہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے اور نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین عظام رحمۃ اللہ علیہم…

Continue Readingنماز جنازہ کے فورا بعد دعا

نماز جنازہ میں دعائیں

تحریر: الشیخ مبشر احمد ربانی حفظ اللہ نماز جنازہ میں دعائیں سوال : کیا نماز جنازہ میں اپنے مسلمان بھائی کے لیے ایک سے زیادہ دعائیں کی جا سکتی ہیں؟ جواب : جب کوئی موحد مسلمان فوت ہو جائے تو اس کی نمازِ جنازہ ادا کرنا دوسرے مسلمانوں پر حق ہے اور نمازِ جنازہ میں اخلاص کے ساتھ دعا کرنے کا حکم دیا گیا ہے جیسا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : «اذا صليتم على الميت فانخلصو له الدعاء» [ابوداؤد، كتاب الجنائز : باب الدعا للميت 3199 ابن ماجه، كتاب الجنائز : باب الدعا فى الصلاة 1497، بيهقي 40/4، صحيح ابن حبان 754] ”جب تم میت کی نمازِ جنازہ پڑھنے لگو تو اس کے لیے اخلاص سے دعا کرو۔“ اسی طرح ابوامامہ بن سہل رحمہ اللہ سے روایت ہے :…

Continue Readingنماز جنازہ میں دعائیں

نماز جنازہ میں میت پر نام لے دعا مانگنا

تحریر: الشیخ مبشر احمد ربانی حفظ اللہ نماز جنازہ میں میت پر نام لے دعا مانگنا سوال : کیا نماز جنازہ میں میت پر نام لے کر دعا مانگنا جائز ہے؟ جواب : سیدنا واثلہ بن اسقعہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مندرجہ ذیل الفاظ ثابت ہیں : «اللهم ان فلان بن فلان فى ذمتك فقه عذاب القبر» [ابوداؤد، كتاب الجنائز : باب الدعا للميت 3202] ”اے اللہ ! بے شک فلان بن فلان تیری پناہ میں ہے، تو اسے عذابِ قبر سے بچا۔“ یہ اس بات کی دلیل ہے کے نمازِ جنازہ میں یہ دعا میت کا نام لے کر پڑھنی چاہیے کیونکہ فلان بن فلان سے مراد ہی خاص شخص ہوتا ہے۔ صرف لفظ فلاں بن فلاں دہرا دینے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس حدیث کے متعلق شیخ شمس الحق عظیم آبادی عون…

Continue Readingنماز جنازہ میں میت پر نام لے دعا مانگنا

نماز جنازہ میں قراءت

تحریر: الشیخ مبشر احمد ربانی حفظ اللہ نماز جنازہ میں قراءت سوال : نمازِ جنازہ میں قرأت سری کی جائے گی یا جہری؟ جواب : نمازِ جنازہ میں قرأت جہری اور سری دونوں طرح درست ہے البتہ دلائل کی رو سے سری طور پر پڑھنا زیادہ درست ہے۔ دلیل یہ ہے : ابوامامہ بن سہیل بن حنیف سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کسی نے انہیں خبر دی : « أن السنة فى الصلاة على الجنازة أن يكبر الامام ثم يقرأ بفاتحة الكتاب سرا فى نفسه ثم يختم الصلاة فى التكبيرات الثلاث» [شرح معاني الاثار1/ 500، مستدرك حكم 1/ 360، بيهقي4/ 40] ”نمازِ جنازہ میں سنت یہ ہے کہ امام تکبیر کہے پھر سری طور پر سورۂ فاتحہ پڑھے پھر نماز کو باقی تین تکبیروں میں ختم کرے۔“ امام حاکم رحمہ اللہ اور امام ذہبی…

Continue Readingنماز جنازہ میں قراءت

سورۂ فاتحہ کے ساتھ کوئی اور سورت ملانا

تحریر: الشیخ مبشر احمد ربانی حفظ اللہ سورۂ فاتحہ کے ساتھ کوئی اور سورت ملانا سوال : کیا نماز جنازہ میں سورہ فاتحہ کے ساتھ کوئی اور سورۃ پڑھنا بھی ثابت ہے؟ جواب : نمازِ جنازہ میں سورۂ فاتحہ کے ساتھ کوئی اور سورت پڑھنا بھی صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ جیسا کہ طلحہ بن عبداللہ فرماتے ہیں : «صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ عَلٰي جَنَازَةٍ فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُوْرَةٍ فَجَهَرَ حَتّٰي سَمِعْنَا فَلَمَّا انْصَرَفَ اَخَذْتُ بِيَدِهِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذٰلِكَ فَقَالَ سُنَّةٌ وَحَقٌّ» [المنتقي لابن الجارود 538، نسائي : كتاب الجنائز : باب الدعاء 1986، بيهقي 38/4، مسند أبى يعلي 2661] ”میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پیچھے نمازِ جنازہ پڑھی تو انہوں نے سورۃ الفاتحہ اور ایک (اور) سورت پڑھی اور بلند آواز سے قرأت کی، یہاں تک کہ ہم نے سن لیا۔ جب وہ نماز سے پھرے تو میں…

Continue Readingسورۂ فاتحہ کے ساتھ کوئی اور سورت ملانا

فاتحہ کا ثواب میت کی روح کو ایصال کرنا کیسا ہے؟

ماہنامہ السنہ جہلم بعض علاقوں میں ہر جمعرات شام کو کھانے پر فاتحہ پڑھ کر اس کا ثواب میت کی روح کو ایصال کیا جاتا ہے اور کھانا فقیر کو کھلا دیا جاتا ہے ۔ اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ جواب: بے اصل اور بدعت ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ اور ائمہ دین سے قطعا ثابت نہیں ۔ دین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ اعمال کا نام ہے ۔ جس عمل سے خیر القرون کے مسلمان ناواقف ہوں ، وہ فبیح بدعت ہے ۔ علامہ ناصر الدین رحمہ اللہ (1332 ۔ 1420ھ) فرماتے ہیں: ومما سبق تعلم أن قول الناس اليوم فى بعض البلاد الفاتحة على روح فلان مخالف للسنة المذكورة ، فهو بدعة بلا شك ، لاسيما والقراءة لا تصل إلى الموتى على القول الصحيح كما سيأتي تفصيله إن شاء الله تعالى…

Continue Readingفاتحہ کا ثواب میت کی روح کو ایصال کرنا کیسا ہے؟

قریب المرگ کے سرہانے قرآن پاک رکھنا کیسا ہے؟

ماہنامہ السنہ جہلم جواب: بدعت ہے ۔ بے اصل عمل ہے ، اسلاف امت اس سے ناواقف تھے ۔ رمضان المبارک میں تکمیل قرآن کے موقع پر لائٹیں لگانا کیسا ہے؟ جواب: رمضان المبارک میں تکمیل قرآن کریم کے موقع پر مسجد میں لائٹنگ کرنا بدعت اور منکر ہے ۔ خیر القرون میں اس کا وجود نہیں ملتا ، بعد کی ایجاد ہے ۔ وقت اور مال کا ضیاع ہے ، مجوسیوں سے مشابہت ہے ۔ حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ (508۔597ھ) لکھتے ہیں: وقد صاروا يوقدون النيران الكثيرة للختمة فيجمعون بين السنة تضييع المال والتشبه بالمجوس والتسبب إلى اجتماع النساء والرجال بالليل للفساد ويريهم إبليس أن فى هذا إعزازا للإسلام وهذا تلبيس عظيم لأن إعزاز الشرع باستعمال المشروع . ”تکمیل قرآن کے موقع پر چکاچوند روشنیوں کا اہتمام کرتے ہیں اور مال کا ضیاع ، مجوس سے مشابہت اور رات میں مردوزن…

Continue Readingقریب المرگ کے سرہانے قرآن پاک رکھنا کیسا ہے؟

کیا حاملہ اور مردہ بچے پر ایک ہی جنازہ کافی ہے؟

ماہنامہ السنہ جہلم سواال: ماں فوت ہو گئی اور بچہ پیٹ میں زندہ ہے ، تو نکال لینا چاہیے ۔ اگر بچہ بھی فوت ہو گیا ، تو پھر نہیں نکال سکتے ، ماں کو بچے سمیت دفن کر دیا جائے گا ۔ جواب: دونوں پر ایک ہی جنازہ پڑھا جائے گا ، جب متعدد میتیوں پر ایک جنازہ کفایت کر سکتا ہے ، تو اس بچے پر بالا ولی کفایت کرے گا ، کہ یہ ماں کے وجود کا حصہ ہے ۔ ماں فوت ہو گئی اور بچہ پیٹ میں زندہ ہے ، تو نکال لینا چاہیے ۔ اگر بچہ بھی فوت ہو گیا ، تو پھر نہیں نکال سکتے ، ماں کو بچے سمیت دفن کر دیا جائے گا ۔

Continue Readingکیا حاملہ اور مردہ بچے پر ایک ہی جنازہ کافی ہے؟

قریب المرگ شخص کو کلمہ توحید کی تلقین کرنا

تحریر: الشیخ مبشر احمد ربانی حفظ اللہ سوال : کیا قریب المرگ شخص کو کلمہ توحید کی تلقین کرتے ہوئے پڑھنے کے لئے کہنا چاہیے یا اس کے پاس یاد دہانی کے لیے کلمہ پڑھا جائے صحیح رہنمائی فرمائے؟ جواب : قریب المرگ شخص کو کلمۂ توحید کی تلقین کا حکم ہے اور تلقین سے مراد صرف کلمۂ توحید پڑھ کر سنانا نہیں بلکہ اسے کہا جائے کہ وہ بھی پڑھے۔ اس کے کئی ایک دلائل موجود ہیں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری کی عیادت کے لے تشریف لے گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ماموں جان ! لا الہ الا اللہ کہو،“ اس انصاری نے کہا: ”ماموں یا چچا ؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”نہیں، بلکہ ماموں،“ اس نے پوچھا: کیا لا الٰہ…

Continue Readingقریب المرگ شخص کو کلمہ توحید کی تلقین کرنا

جمعہ کے روز فوت ہونا

تحریر: الشیخ مبشر احمد ربانی حفظ اللہ سوال : کیا جمعہ کے دن فوت ہونے کی کوئی فضیلت ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ جو شخص جمعہ کے دن فوت ہو وہ جنتی ہے قرآن و سنت سے اس کی وضاحت کریں۔ جواب : جمعہ کے دن فوت ہونے والے کے بارے میں ذکر کردہ فضیلت کا مجھے علم نہیں، البتہ یہ بات یاد رکھیں کہ جنت میں داخلے کے لیے صحیح اعمالِ صالحہ اور خاتمہ بالخیر کی ضرورت ہے، جس شخص کا عقیدہ بالکل صحیح ہو اور وہ کسی کفر و شرک کے ارتکاب کے بغیر اس دنیا سے چلا گیا تو اللہ اسے ضرور اپنی جنت میں داخل کرے گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کئی ایک احادیث ِ صحیحہ میں یہ بات موجود ہے کہ جس شخص کا آخری کلام لا الٰہ الا اللہ ہو وہ جنت میں داخل…

Continue Readingجمعہ کے روز فوت ہونا

تین دن کے بعد تعزیت کا حکم

تحریر: الشیخ مبشر احمد ربانی حفظ اللہ سوال : کیا تعزیت صرف تین دن تک محدود ہے یا اس کے بعد بھی اہل میت کے پاس جا کر تعزیت کی جا سکتی ہے؟ جواب : تعزیت تین کے بعد ہو سکتی ہے، آدمی جب بھی مفید محسوس کرے تعزیت کر سکتا ے، جیسا کہ عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا، اس کا سپہ سالار زید بن حارثہ کو مقرر کیا اور کہا: ”اگر زید شہید کر دیے گئے تو تمہارے امیر جعفر (رضی اللہ عنہ) ہوں گے اور اگر جعفر (رضی اللہ عنہ) شہید ہو گئے تو تمہارے امیر عبداللہ بن رواحہ (رضی اللہ عنہ) ہوں گے۔“ اس لشکر کی جب دشمن سے مڈبھیڑ ہوئی تو زید رضی اللہ عنہ جھنڈا پکڑے ہوئے لڑے اور شہید ہو گئے…

Continue Readingتین دن کے بعد تعزیت کا حکم

اجنبی عورت کے جنازے کو کندھا دینا

تحریر: الشیخ مبشر احمد ربانی حفظ اللہ سوال : کیا کوئی شخص اجنبی عورت کے جنازے کو کندھا دے سکتا ہے؟ جواب : جب کوئی مسلمان مرد یا عورت فوت ہو جائے تو حقوق العباد میں سے ایک حق یہ ہے کہ اس کے جنازے میں جائیں اور جنازے کو اٹھائیں۔ جنازہ اٹھانے والے اور پیچھے جانے والے مرد ہی ہوتے ہیں عورت کے لیے یہ کام مکروہ ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کے جنازے کو کندھا دینے کے لیے محرم اور غیرمحرم میں فرق نہیں کیا۔ کوئی بھی مسلمان میت کو کندھا دے سکتا ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : « حق المسلم على المسلم خمس : رد السلام وعيادة المريض واتباع الجنائز واجابة الدعوة و تشميت العاطس » [بخاري، كتاب الجنائز…

Continue Readingاجنبی عورت کے جنازے کو کندھا دینا

End of content

No more pages to load