مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

نماز کے پہلے تشہد میں درود پڑھنا درست ہے؟ تفصیلی جواب

فونٹ سائز:
ماخوذ : احکام و مسائل، نماز کا بیان، جلد 1، صفحہ 195

سوال:

پہلے تشہد میں درود بھی پڑھنا چاہیے یا صرف التحیات؟

جواب:

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

پہلے تشہد میں درود پڑھنا درست ہے۔ اس کی دلیل قرآنِ مجید کی یہ آیت ہے:

﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ صَلُّواْ عَلَيۡهِ وَسَلِّمُواْ تَسۡلِيمًا﴾
— الاحزاب: 65

مزید برآں، ایک حدیث میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ:

"سلام (یعنی التحیات) تو آپ نے ہمیں سکھا دیا ہے، اب ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟”

اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«قُوْلُوْا اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ» الخ

یعنی: "یوں کہو: اے اللہ! محمد اور آلِ محمد پر رحمت نازل فرما…”

ایسی کوئی صحیح مرفوع حدیث موجود نہیں ہے جو پہلے تشہد میں درود نہ پڑھنے پر دلالت کرے۔
یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ شریعت کی رو سے پہلے اور دوسرے دونوں تشہدات میں دعائیں پڑھنا جائز اور ثابت ہے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔