قائلین وجوب اور ان کے دلائل:
حضرت امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ وجوب کے قائل ہیں اور ان کا استدلال ان احادیث سے ہے جو وتر کے فضائل کے ضمن میں ذکر ہوئی ہیں مثلاً ارشاد نبوی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک نماز کے ساتھ تمہاری مدد فرمائی ہے جو کہ نماز وتر ہے۔
اس حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ وہ نماز تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔
الحدیث صححه الالبانی دون هذه الكلمات انظر الارواء 156/2
اس حدیث میں فضیلت تو مذکور ہے مگر یہ وجوب کا پتا نہیں دیتی اور اگر ایسی فضیلت کو وجوب کی دلیل بنایا جاسکتا ہو تو پھر فجر کی سنتوں کی ایک طرح سے اس سے بھی زیادہ فضیلت بیان ہوئی۔ کیونکہ بخاری و مسلم کی صحیح حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خير من الدنيا وما فيها قرار دیا ہے اور ظاہر ہے دنيا وما فيها سے بہتر چیز سرخ اونٹوں سے بہتر چیز سے افضل ہو گی کیونکہ سرخ اونٹ تو دنیا کا جز ہیں اور جز کی کل کے مقابلہ میں جو حیثیت ہے وہ واضح ہے اور اتنی بڑی فضیلت ہونے کے باوجود سنتوں کو زیادہ سے زیادہ مؤکدہ ہی کہا گیا ہے نہ کہ واجب۔ اس طرح ایک حدیث میں ہے۔
الوتر واجب على كل مسلم
وتر ہر مسلمان پر واجب ہے۔
بزار بحوالہ النیل 30/3/2
اس حدیث کی سند میں جابر جعفی ہے جو جمہور علماء کے نزدیک ضعیف ہے اور اگر حدیث صحیح ہوتی یا بالفرض اسے صحیح مان بھی لیا جائے تو پھر ایک اعتراض و اشکال وارد ہوتا ہے کہ غسل جمعہ کے بارے میں بھی صحیح بخاری و مسلم اور ابوداؤد، نسائی وغیرہ میں ارشاد نبوی ہے۔
غسل يوم الجمعة واجب على كل محتلم
یوم جمعہ کا غسل ہر بالغ پر واجب ہے۔
بحوالہ النیل 234/1/2
جبکہ جمہور علماء سلف و خلف اور تمام فقہاء کے نزدیک غسل جمعہ واجب نہیں بلکہ مستحب ہے۔
النیل 231/8/1
واجب کے واضح لفظ کو استحباب پر محمول کرنے کے قرینے بھی موجود ہیں جنہیں جمہور کی طرف سے امام شوکانی نے نیل الاوطار میں بالتفصیل نقل کیا ہے۔
نیل الاوطار 231/8/1
وہی قرینے وتر کے بارے میں وارد ہونے والے لفظ واجب کو سنت کی طرف پھیرنے کے بھی موجود ہیں۔
بعينه الوتر حق والی حدیث کا معاملہ ہے کہ اسے بھی وتر کے واجب ہونے کی دلیل کہا گیا ہے جبکہ غسل جمعہ کے بارے میں بھی یہ لفظ صحیح بخاری و مسلم میں موجود ہے ارشاد نبوی ہے۔
حق على كل مسلم أن يغتسل فى كل سبعة أيام يوما
ہر مسلمان پر سات دنوں میں ایک دن (یوم جمعہ) کا غسل حق ہے۔
مفتق علیہ النیل 234/1/1
امام بغوی نے شرح السنہ میں حدیث الوتر حق نقل کر کے حق کے معنی کی وضاحت کی ہے کہ عام علماء کے نزدیک اس سے مراد انگیخت اور ترغیب ہے۔
شرح السنہ 103/4
اسی طرح ہی حدیث میں بعض دیگر روایات ہیں جو بظاہر تو وتر کے وجوب کا پتا دیتی ہیں مگر ہر کسی کے ساتھ قرینہ صارفہ عن الوجوب موجود ہونے کی وجہ سے باقی تینوں آئمہ اور جمہور علماء و فقہاء نے نماز وتر کو سنت مؤکدہ ہی قرار دیا ہے اور جمہور کے دلائل کی قوت کے پیش نظر ہی خود امام صاحب کے دونوں شاگردان خاص امام ابویوسف اور امام محمد بھی وتر کے سنت مؤکدہ ہونے کے ہی قائل ہیں جیسا کہ فتح الباری شرح صحیح بخاری میں شیخ ابوحامد کے حوالہ سے حافظ ابن حجر عسقلانی نے نقل کیا ہے۔
الفتح 489/2 دارالافتاء
صاحبین کا یہی مسلک خود احناف کی اپنی معتبر کتاب ہدایہ میں بھی منقول ہے۔
بحوالہ فقہ السنہ اردو 278/1 محمد عاصم
غیر واجب کہنے والے اور ان کے دلائل:
آئمہ ثلاثہ اور جمہور علماء و فقہاء کے نزدیک وتر واجب نہیں بلکہ سنت ہے کیونکہ ایک تو وجوب پر دلالت کرنے والی اکثر احادیث سند کے لحاظ سے ضعیف ہیں۔
نقله الشوكاني عن العراقی النیل 31/3/2
بعض سے مطلوب ثابت نہیں ہوتا جبکہ کتنی ہی دیگر احادیث عدم وجوب پر دلالت کرتی ہیں جن میں سے بعض فضائل وتر کے ضمن میں بھی گزری ہیں مثلاً یہ کہ وتر تمہاری فرض نمازوں کی طرح حتمی نہیں بلکہ یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے اور ایک حدیث میں قربانی، نماز وتر اور فجر کی سنتوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تطوع قرار دیا ہے۔
وقد مر تخريجه
وتروں کے عدم وجوب پر ہی صحاح ستہ اور تقریباً تمام ہی کتب حدیث میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی مروی وہ حدیث بھی دلالت کرتی ہے جس میں ہے۔
إن رسول الله صلى الله عليه وسلم اوتر على بعيره
بخاری شریف کے الفاظ ہیں۔
بخاری مع الفتح 389/2، النیل 29/3/2
يوتر على راحلته
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر وتر پڑھ کرتے تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تطوع کے سوا کوئی فریضہ سواری پر ادا کرنا ثابت نہیں۔
اسی طرح بخاری و مسلم میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اعرابی کو شب و روز میں پانچ نمازیں فرض ہونے کا بتایا تو اس نے پوچھا کہ کیا ان کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی نماز (واجب) ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
ولا إلا أن تطوع
نہیں۔ سوائے اس کے کہ تو تطوع (یعنی سنت و نفل) پڑھے۔
شرح السنہ وتخریجہ 102/4
ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ، دارقطنی اور موطا امام مالک و مسند احمد میں حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی حدیث میں واضح صراحت موجود ہے کہ وتر واجب نہیں بلکہ تطوع و سنت مؤکدہ ہیں۔
اس مقام پر یہ بات ذہن نشین رہے کہ احناف کے نزدیک فرض اور واجب دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ واجب کا درجہ فرضوں سے کم اور سنت مؤکدہ سے زیادہ ہے جبکہ دوسروں کے یہاں فرض و واجب ہم معنی لفظ ہیں اور ان کے مابین کوئی فرق نہیں۔ اور مذکورہ فرق کو ثابت کرنا محتاج دلیل ہے جیسا کہ حافظ ابن حجر نے یہ کہہ کر اشارہ کیا ہے۔
حوالہ بالا ص 104-105
وهذا يتوقف على أن ابن عمر كان يفرق بين الفرض والواجب
یہ معاملہ اس بات پر موقوف ہے کہ کیا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرض اور واجب کے مابین فرق کیا کرتے تھے.
شیخ الباری 489/2