مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

قنوت وتر کا مسنون طریقہ اور قبل الرکوع پڑھنے کی تفصیل

فونٹ سائز:
ماخوذ: احکام و مسائل، نماز کا بیان، جلد 1، صفحہ 223
مضمون کے اہم نکات

قنوت وتر کی حیثیت اور طریقۂ ادائیگی

قنوت وتر کی شرعی حیثیت

قنوت وتر سنت ہے، یعنی اس کا پڑھنا نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ سے ثابت ہے اور عمل کے لحاظ سے باعثِ فضیلت ہے۔

قنوت پڑھنے کا مقام

قنوت وتر کے پڑھنے کی دو جائز جگہیں ہیں:

قبل الرکوع (رکوع سے پہلے)

بعد الرکوع (رکوع کے بعد)

دونوں مقام پر قنوت پڑھنا درست ہے، اور افضل طریقہ یہ ہے کہ کبھی رکوع سے پہلے اور کبھی رکوع کے بعد پڑھا جائے، تاکہ دونوں مسنون طریقوں پر عمل ہو سکے۔

قبل الرکوع قنوت پڑھنے کا طریقہ

ہاتھ اٹھانے کا مسئلہ

جب قنوت رکوع سے پہلے پڑھی جائے:

◈ قنوت دعا کے انداز میں پڑھی جائے گی۔

ہاتھ اٹھائے بغیر قنوت پڑھی جائے گی۔

◈ قنوت شروع کرنے سے پہلے "اللہ اکبر” کہنا بھی ضروری نہیں۔

یعنی:

◈ قراءت (سورۃ یا آیات) مکمل ہونے کے بعد بغیر تکبیر کہے اور بغیر ہاتھ اٹھائے سیدھا قنوت کی دعا شروع کر دیں۔

بعد از قنوت ہاتھ منہ پر پھیرنے کا مسئلہ

اگر کسی نے قنوت ہاتھ اٹھا کر پڑھی ہو (یعنی دعا کے انداز میں)، تو قنوت کے بعد:

ہاتھ منہ پر پھیرنے کی کوئی خاص دلیل وارد نہیں ہوئی۔

◈ لہٰذا بہتر یہی ہے کہ ہاتھ چھوڑ دیے جائیں، یعنی ہاتھ منہ پر نہ پھیریں۔

ھذا ما عندي، والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔