مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری

فجر کی سنتوں کے بعد دائیں کروٹ لیٹنے کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ : احکام و مسائل – نماز کا بیان، جلد 1، صفحہ 215

سوال

فجر کی سنتوں کے بعد دائیں کروٹ لیٹنا کیسا ہے؟ ایک مولوی صاحب کا کہنا ہے کہ یہ نبی ﷺ کا خاصہ تھا؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

  • یہ کہنا کہ فجر کی سنتوں کے بعد دائیں کروٹ لیٹنا نبی کریم ﷺ کا خاصہ تھا، بے بنیاد بات ہے۔
  • اگر انتہائی درجہ میں مان بھی لیا جائے تو بھی یہ بات محض ایک عملی اور فعلی حدیث کی بنیاد پر ہی کہی جا سکتی ہے، مگر اس کے باوجود بھی یہ دلیل نہیں بنتی۔

حدیث مبارکہ کی روشنی میں رد

  • سنن ترمذی میں ایک مرفوع حدیث موجود ہے:

«اِذَا صَلّٰی اَحَدُکُمْ رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ فَلْيَضْطَجِعْ عَلٰی شِقِّهِ الْاَيْمَنِ»
’’جب تم میں سے ایک فجر کی دو رکعتیں پڑھے تو چاہیے کہ وہ اپنے دائیں پہلو پر لیٹ جائے‘‘
(سنن ترمذی)

  • اس حدیث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ دائیں کروٹ لیٹنے کا عمل صرف نبی کریم ﷺ کے ساتھ خاص نہیں تھا، بلکہ اُمت کے لیے بھی قابلِ عمل ہے۔
  • اس روایت نے اس بات کو باطل کر دیا ہے کہ یہ عمل صرف تہجد گزاروں یا نبی ﷺ کی خصوصیات میں سے تھا۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔