مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری

سنت اور نفل نماز چھوڑنے کا گناہ: کبیرہ یا صغیرہ؟

فونٹ سائز:
ماخوذ : احکام و مسائل، نماز کا بیان، جلد 1، صفحہ 216

سوال

فرائض کے علاوہ اگر سنت نماز ادا نہ کی جائے تو کیا آدمی گناہ گار ہو گا یا نہیں؟ اگر گناہ گار ہو گا تو کیا یہ صغیرہ گناہ ہو گا یا کبیرہ گناہ؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

  • قیامت کے دن سب سے پہلے فرض نماز کا محاسبہ کیا جائے گا۔
  • اگر کسی شخص کی فرض نماز میں کمی پائی گئی، تو اس کمی کو نفل نمازوں (تطوع) کے ذریعے پورا کیا جائے گا۔
  • لیکن اگر اس شخص کے پاس نفل نمازیں موجود نہ ہوں، تو وہ فرض نماز کے محاسبے میں ناکام ہو جائے گا۔
  • اس صورت میں وہ ناگزیر طور پر گناہ گار شمار ہو گا۔

سنت اور نفل نماز نہ پڑھنے کا حکم:

  • تطوع (نفل) اور سنت نمازوں کو ترک کرنا، فرض نماز کے حساب کے تناظر میں گناہ ہے، کیونکہ یہ فرض نماز کی کوتاہی کو پورا کرنے کا ذریعہ ہیں۔
  • تاہم، یہ گناہ کبیرہ ہے یا صغیرہ، اس بارے میں قطعی علم نہیں۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔