مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

حدیث "اَوتِرُوْا فَاِنَّ اﷲَ وِتْرٌ” کی صحت اور وتر کا حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ : احکام و مسائل – نماز کا بیان، جلد 1، صفحہ 225
مضمون کے اہم نکات

حدیث "اَوتِرُوْا فَاِنَّ اﷲَ وِتْرٌ” کی صحت اور وتر کا حکم

حدیث کا متن:

«حدثنا ابراهيم بن موسی نا عيسی عن زکريا عن اسحاق عن عاصم عن علی قال قال رسول اﷲ ﷺ
يَا اَهْلَ الْقُرْآنِ اَوْتِرُوْا فَاِنَّ اﷲَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ»
(ابوداؤد، باب تفريح ابواب الوتر، باب استحباب الوتر، حدیث: 452)

حدیث کی صحت:

حافظ منذری رحمہ اللہ نے اس حدیث کو اپنی کتاب تلخیص السنن (جلد 2، صفحہ 121) میں نقل کیا ہے۔

❀ انہوں نے وضاحت کے ساتھ لکھا:

وَاَخْرَجَهُ التِّرْمِذِیْ وَالنَّسَائِی وَابْنُ مَاجةَ وَقَالَ التِّرْمِذِیْ : حَدِيْثٌ حَسَنٌ

یعنی: اس حدیث کو ترمذی، نسائی، اور ابن ماجہ نے بھی روایت کیا ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو "حسن” قرار دیا ہے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول:

❀ اسی حدیث کی روایات میں یہ بھی مذکور ہے:

الْوِتْرُ لَيْسَ بَحَتْمٍ کَصَلَا تِکُمُ الْمَکْتُوْبَةِ وَفِی بَعْضِهَا : وَلٰکِنَّه سُنَّةٌ سَنَّهَا رَسُوْلُ اﷲ ﷺ

یعنی: حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ:

وتر ایسی فرض نماز نہیں ہے جیسے تمہاری فرض نمازیں ہیں، بلکہ یہ ایک سنت ہے جس کو رسول اللہ ﷺ نے مقرر فرمایا ہے۔

راوی عاصم بن ضمرہ کے متعلق جرح:

❀ حافظ منذری رحمہ اللہ نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا:

وَقَدْ تَقَدَّمَ اَنَّ عَاصِمَ بْنَ ضَمْرَةَ تَکَلَّمَ فِيْهِ غَيْرُ وَاحِدٍ

یعنی: عاصم بن ضمرہ کے بارے میں متعدد محدثین نے کلام کیا ہے (یعنی کچھ نے ان پر جرح کی ہے)۔

نتیجہ:

❀ حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے "حسن” کہا ہے، لہٰذا حدیث قابل قبول ہے۔

❀ تاہم اس میں عاصم بن ضمرہ کی وجہ سے کچھ ضعف پایا جاتا ہے، جیسا کہ حافظ منذری رحمہ اللہ نے ذکر کیا۔

کیا وتر واجب ہے؟

❀ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت کی روشنی میں واضح ہوتا ہے کہ:

الْوِتْرُ لَيْسَ بَحَتْمٍ کَصَلَا تِکُمُ الْمَکْتُوْبَةِ… وَلٰکِنَّه سُنَّةٌ سَنَّهَا رَسُوْلُ اﷲ ﷺ

یعنی: وتر نماز فرض نہیں ہے بلکہ سنت ہے، جسے نبی اکرم ﷺ نے بطور سنت قائم فرمایا۔

❀ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وتر واجب نہیں بلکہ سنت مؤکدہ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔