مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا شرعی حکم اور تحقیق

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)
مضمون کے اہم نکات

بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا شرعی حکم

سوال:

بچوں کو پولیو کے قطرے پلانا شرعی طور پر کیسا ہے؟

جواب:

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

پولیو ویکسین کے متعلق شرعی طور پر کوئی حتمی فیصلہ صرف مکمل اور مستند تحقیق کے بعد ہی دیا جا سکتا ہے۔ اس بارے میں دو ممکنہ پہلو ہیں جن پر بات کی جا سکتی ہے:

اگر پولیو ویکسین مفید اور نفع بخش ہو:

◈ اگر میڈیکل ماہرین کی تحقیق کے بعد یہ ثابت ہو جائے کہ پولیو ویکسین صحت کے لیے مفید اور نفع بخش ہے۔
◈ اور یہ بچوں کو مہلک بیماری سے بچانے میں معاون ہو۔
◈ تو ایسی صورت میں اس کے استعمال میں شرعی طور پر کوئی قباحت نہیں۔
◈ خواہ عوام میں اس کے خلاف جیسی بھی افواہیں گردش کر رہی ہوں، ان کا اعتبار نہیں۔
◈ کیونکہ طب کے میدان میں صحیح رائے دینا ماہر ڈاکٹر ہی کا کام ہے، نہ کہ عام لوگوں کا۔

اگر پولیو ویکسین مضر صحت ہو:

◈ لیکن اگر تحقیق سے یہ بات سامنے آئے کہ یہ ویکسین نقصان دہ ہے یا صحت کے لیے مضر ہے۔
◈ تو پھر اس کا استعمال شرعاً جائز نہیں ہوگا۔

موجودہ صورت حال:

◈ فی الوقت ہمارے پاس پولیو ویکسین کے بارے میں کوئی مکمل اور مستند تحقیق موجود نہیں ہے۔
◈ لہٰذا اس وقت کوئی حتمی شرعی رائے دینا ممکن نہیں ہے۔

ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔