مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

ایجاب و قبول سے پہلے نکاح کا خطبہ پڑھنا ضروری ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)، جلد 2، صفحہ 189

خطبۂ نکاح

سوال:

نکاح کے موقع پر ایجاب و قبول کے بعد خطبہ پڑھنا جائز ہے یا خطبہ پہلے پڑھنا ضروری ہے؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
✿ نکاح کے وقت خطبہ سے متعلق جو روایت بیان کی گئی ہے، وہ درج ذیل کتب حدیث میں مروی ہے:

◈ سنن ابوداود (حدیث نمبر ۲۱۱۸)
◈ جامع ترمذی (حدیث نمبر ۱۱۰۵)
◈ سنن نسائی (حدیث نمبر ۳۲۷۹)
◈ سنن ابن ماجہ (حدیث نمبر ۱۸۹۲)
◈ مسند احمد (جلد ۱، صفحہ ۳۹۲ و ۳۹۳)
◈ دارمی (حدیث نمبر ۲۲۰۸)
◈ دیگر کتب حدیث

✿ ان تمام روایات کی اسناد ضعیف (کمزور) ہیں۔

✿ دارمی کی روایت میں آیا ہے:
"ثم یتکلم یحاجته”
یعنی "پھر اپنی حاجت ذکر کرے”۔
(نیز دیکھئے: مسند احمد ۳۹۲/۱، ۳۹۳، حدیث نمبر ۳۷۲۰)

✿ اس روایت کی سند میں انقطاع (سند کا ٹوٹا ہونا) پایا جاتا ہے، اس وجہ سے یہ روایت ضعیف شمار کی جاتی ہے۔

✿ البتہ دیگر عمومی دلائل اور صحیح مسلم کی حدیث (حدیث نمبر ۸۶۷) کی روشنی میں بہتر یہی معلوم ہوتا ہے کہ ایجاب و قبول خطبہ کے بعد کیا جائے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔