اسلام کی اخلاقی تعلیمات اور حقوق العباد
یہ تحریر محترم ابوحمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب اسلام مصطفٰی علیہ الصلاۃ والسلام سے ماخوذ ہے۔

اسلام کی اخلاقی تعلیمات :

اسلام کی پاکیزہ تعلیمات کو تین بڑے حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

حقوق وفرائض:

ایک انسان پر اللہ رب العزت کے متعلق یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جو فرائض عائد ہوتے ہیں، ایسے ہی ایک انسان پر دوسرے انسان کی نسبت جو فرائض عائد ہوتے ہیں، ادا کرنے والے کی نسبت سے انھیں فرائض اور جس کے متعلق وہ ادا کیے جائیں، اس کی نسبت انھیں حقوق کہا جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کے حقوق:

اور وہ یہ ہیں :
(1) اللہ تعالیٰ کے بارے میں علم کے ساتھ بات کرنا۔
(2) صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا۔
(3) صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرنا۔
(4) صرف اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنا۔
(5) حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لیے دعا صرف اللہ تعالیٰ سے کرنا ۔
(6) نذر نیاز اور منت صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ماننا۔
(7) صرف اللہ تعالیٰ پر توکل اور بھروسہ کرنا۔
(8) صرف رب کائنات کی رضا اور خوشنودی تلاش کرنا ۔
(9) اللہ تعالیٰ سے امید رکھنا۔
(10) اللہ تعالیٰ سے محبت کرنا۔
(11) اللہ تعالیٰ سے حیا کرنا۔
(12) اللہ تعالیٰ کو یا درکھنا۔
(13) اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کسی کی اطاعت نہ کرنا۔
(14) طاغوت کی اطاعت سے بچنا۔
(15) شیطان کی عبادت نہ کرنا۔
(16) نماز کی پابندی کرنا ۔
(17) زکوۃ ادا کرنا ۔
(18) رمضان کے روزے رکھنا۔
(19) بیت اللہ کا حج کرنا۔
(20) اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچنا۔
(21) شرک سے بچنا۔
(22) کفر اختیار کرنے سے بچنا۔
(23) اللہ تعالیٰ سے تو بہ واستغفار کرنا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق :

اور وہ یہ ہیں:
(1) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان ۔
(2) نواقض ایمان بالرسول سے اجتناب۔
(3) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر طعن اور گستاخی سے بچنا۔
(4) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت میں طعن سے بچنا۔
(5) اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ۔
(6) اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم ۔
(7) اختلافی امور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع ۔
(8) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی معاملہ میں مخالفت نہ کی جائے ۔
(9) ”ترک احداث“ بدعات کا چھوڑنا۔
(10) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر خواہی ۔
(11) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ۔
(12) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و تعظیم کرنا ۔
(13) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بکثرت درود وسلام پڑھنا۔
(14) بارگاہ رسالت میں قربت کی راہ اختیار کرنا۔

دین اسلام کے حقوق:

اور وہ یہ ہیں:
(1) نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔
(2) دین اسلام پر حسب استطاعت عمل کرنا۔

قرآن حکیم کے حقوق :

اور وہ یہ ہیں:
(1) قرآن حکیم پر ایمان لانا۔
(2) قرآن حکیم کو سمجھنا اور غور وفکر کرنا۔
(3) قرآنِ حکیم کی تلاوت کرنا۔
(4) آداب تلاوت کا ملحوظ رکھنا۔
(5) قرآن حکیم کی تعلیمات کو لوگوں تک پہنچانا ۔
(6) قرآنِ حکیم کی تعلیمات پر عمل کرنا۔
(7) قرآنِ حکیم کے مطابق فیصلہ کرنا۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے حقوق:

اور وہ یہ ہیں:
(1) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے دل و جان سے محبت کرنا ۔
(2) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ایمان کی طرح ایمان لانا ۔
(3) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اقتداء کرنا ۔
(4) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عزت و احترام کرنا۔
(5) صحابہ کرام کے بارے میں سب وشتم سے گریز ۔
(6) اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے رحمت و بخشش کی دعا کرنا۔

اہل علم کے حقوق:

اور وہ یہ ہیں:
(1) اہل علم سے نرم لہجے میں بات کرنا ۔
(2) اہل علم کا احترام کرنا۔
(3) اہل علم کی صحبت اختیار کرنا ۔
(4) اہل علم کی طرف، طلب علم کے لیے سفر کرنا۔
(5) عدم علم ہر اہل علم سے مسئلہ دریافت کرنا۔

عام مسلمانوں کے حقوق:

اور وہ یہ ہیں:
(1) السلام علیکم کہنا۔
(2) دعوت قبول کرنا۔
(3) مسلمان بھائی کی خیر خواہی کرنا۔
(4) مریض کی عیادت کرنا۔
(5) مسلمان چھینکنے والا الحمد لله کہے تو يرحمك الله کہنا۔
(6) جنازہ پڑھنا۔
(7) صلہ رحمی کرنا ۔
(8) دکھ تکلیف نہ پہنچانا۔
(9) عزت و آبرو کی حفاظت کرنا۔
(10) مسلمان بھائی کی غیبت نہ کرنا۔
(11) اللہ کے لیے محبت کرنا۔
(12) مسلمان بھائی کو حقیر نہ سمجھنا۔

والدین کے حقوق:

اور وہ یہ ہیں:
(1) والدین کا ادب و احترام کرنا۔
(2) والدین کا حکم ماننا۔
(3) والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا ۔
(4) والدین کی ضروریات زندگی کا خیال رکھنا۔
(5) والدین کو گالی دینے سے پر ہیز کرنا۔
(6) والدین کے لیے مغفرت کی دعا کرنا۔

اولاد کے حقوق:

اور وہ یہ ہیں:
(1) نیک اولاد کے لیے دعا کرنا ۔
(2) اولاد کو قتل نہ کرنا۔
(3) اولاد کا اچھا نام رکھنا۔
(4) اولاد کی اچھی تربیت کرنا۔
(5) نماز کی تلقین کرنا۔
(6) اولاد کے ساتھ شفقت سے پیش آنا۔
(7) دین اسلام کا علم سکھلانا۔
(8) عدل و مساوات قائم رکھنا۔
(9) اولاد کے لیے حسب استطاعت مال و دولت چھوڑنا۔

حقوق زوجین :

خاوند کے حقوق :

(1) خاوند کو خوش رکھنا۔
(2) خاوند کا حکم ماننا۔
(3) خاوند کے مال کی حفاظت کرنا ۔
(4) خاوند کی شکر گزاری۔

بیوی کے حقوق :

(1) بھلائی کرنا۔
(2) گالی گلوچ سے اجتناب۔
(3) اچھا سلوک کرنا۔
(4) مار پیٹ نہ کرنا۔
(5) وقت دینا۔
(6) جہنم کی آگ سے بچانا۔
(7) بیوی پر خرچ کرنا۔
(8) مہر ادا کرنا۔
(9) بیوی کو گھر کی زینت بنانا۔
(10) پیار و محبت کا اظہار ۔
(11) صلاح و مشورہ کرنا۔
(12) عزت و احترام کرنا۔

مساجد کے حقوق:

اور وہ یہ ہیں:
(1) مساجد کی تعمیر ۔
(2) مساجد میں نماز پڑھنا۔
(3) مساجد کو صاف رکھنا۔
(4) مساجد میں آواز بلند نہ کرنا۔
(5) مساجد کی آبادکاری۔

بندے کے اللہ پر حقوق:

اور وہ یہ ہیں:
(1) مغفرت۔
(2) نصرت ۔
(3) راضی ہو جانا ۔
(4) محنت و عمل کی قدر دانی۔

ہمسایوں کے حقوق:

اور وہ یہ ہیں:
(1) اچھا برتاؤ۔
(2) اسلامی تعلیمات کی تبلیغ ۔
(3) خندہ پیشانی سے پیش آتا۔
(4) جو اپنے لیے پسند کرو وہی اُن کے لیے۔
(5) زیادتی پر صبر کرنا۔
(6) پڑوسی کے حقوق کا تحفظ ۔

قریبی رشتہ داروں کے حقوق:

اور وہ یہ ہیں:
(1) صلہ رحمی کرنا۔
(2) حسن سلوک سے پیش آنا ۔
(3) عدل و انصاف کرنا۔
(4) رشتہ داروں سے تعاون کرنا۔
(5) ایک دوسرے کو تکلیف دہ باتیں نہ کہنا، اور احسان نہ جتلانا۔

بہن بھائیوں کے حقوق:

اور وہ یہ ہیں:
(1) اللہ کے لیے محبت کرنا ۔
(2) قطع تعلقی سے اجتناب۔
(3) خندہ پیشانی سے ملنا۔
(4) خیر خواہی کا جذبہ۔
(5) بے جاٹھٹھا مذاق سے پر ہیز ۔
(6) وفاداری کرنا ۔
(7) غائبانہ دعا کا اہتمام۔

یتیموں کے حقوق:

اور وہ یہ ہیں:
(1) یتیموں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا ۔
(2) مال کی حفاظت کرنا۔
(3) یتیموں کی کفالت کرنا۔

محتاجوں، غربا اور مساکین کے حقوق:

اور وہ یہ ہیں:
(1) کھانا کھلانا۔
(2) اُن پر خرچ کرنا۔
(3) اُن کے جمیع حقوق کا تحفظ دینا۔
(4) انھیں ضروریات زندگی مہیا کرنا۔

عمر رسیدہ لوگوں کے حقوق:

اور وہ یہ ہیں:
(1) سماجی معاملات میں تکریم کا حق ۔
(2) معمر افراد کی تکریم اللہ کی تعظیم کا حصہ ہے۔
(3) عمر رسیدہ افراد کی تکریم علامت ایمان ہے۔
(4) معمر افراد کا وجود باعث برکت سمجھنا۔
(5) سہولیات زندگی کی فراہمی میں ترجیح کا حق ۔
(6) استطاعت سے زیادہ بوجھ سے استثنا کا حق۔

معذوروں کے حقوق:

اور وہ یہ ہیں:
(1) خصوصی توجہ کا حق۔
(2) قانونِ معاشرت کے نفاذ میں استثنا کا حق۔
(3) جہاد اور دفاعی ذمہ داریوں سے استثنا کا حق۔

حکمرانوں اور رعایا کے حقوق:

رعایا کا فرض ہے کہ وہ اپنے اولی الامر کی ہر بھلائی کے کام میں اطاعت کرے، اور نافرمانی سے بچے اور حکمرانوں کا فرض ہے کہ وہ اپنی رعایا پر ظلم نہ کریں، روزگار کے مواقع میسر کریں، اور ہر وہ کام کریں جو ایک حکمران کا فرض بنتا ہے کہ وہ ملک وقوم کی خاطر سر انجام دے۔

خدام اور مزدوروں کے حقوق:

اور وہ یہ ہیں:
(1) عادلانہ اور منصفانہ معاشی نظام کا قیام۔
(2) کھانا کھلانا۔
(3) خادم اور مزدور کا علاج کرانا ۔
(4) وقت پر اجرت ادا کرنا۔
(5) ظلم وزیادتی نہ کرنا۔ اور
(6) غلطی سے درگزر کرنا ۔

مہمانوں کے حقوق:

اور وہ یہ ہیں:
(1) کھانا کھلانا۔
(2) مہمانوں کی عزت کرنا۔

مسافروں کے حقوق:

اور وہ یہ ہیں:
(1) کھانا کھلانا۔
(2) مالی معاونت کرنا۔
(3) مسافر کو ہر وہ سہولت میسر کرنا جو اُس کے سفر کے لیے مقید ہو۔
(4) اُنھیں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا۔

جان اور مال کے حقوق :

اور وہ یہ ہیں:
(1) جان (نفس) کے حقوق ۔
(2) تزکیۂ نفس ۔
(3) تزکیہ نفس کے ذرائع ۔
(4) اللہ کی طرف رجوع کرنا اور توبہ کرنا ۔
(5) اللہ کو ہر وقت ہر حال میں یادرکھنا۔
(6) اپنے نفس کو خواہشات کا بندہ بنانے سے بچانا ۔
(7) اپنے نفس کے خلاف جہاد کرنا۔
(8) زینت اختیار کرنا ۔
(9) مناسب کھانا۔
(10) منہ کو صاف رکھنا۔

مال کے حقوق:

(1) حلال کمانا ۔
(2) زکوۃ ادا کرنا۔

اسلام میں اقلیتوں کے حقوق:

اور وہ یہ ہیں:
(1) اچھے طریقے سے اسلام کی دعوت دینا۔
(2) غیر مسلموں کے معبودوں کو برا نہ کہنا ۔
(3) اہل کتاب سے نکاح جائز ۔
(4) بھلائی اور انصاف کا سلوک کرنا۔
(5) ظلم زیادتی نہ کرنا۔
(6) اہل کتاب کا کھانا جائز ۔
(7) کافر مشرکین کو ہدیہ دینا۔
(8) اہل کتاب اگر سلام کہیں تو جواب دینا۔
(9) احسان کرنا۔
(10) غیر مسلموں کو پناہ کا وعدہ اور عہد کا پورا کرنا۔
(11) نجی زندگی اور شخصی راز داری کا حق ۔
(12) مذہبی آزادی کا حق ۔
(13) اقتصادی اور معاشی آزادی کا حق۔
(14) روزگار کی آزادی کا حق۔
(15) تحفظ اور سلامتی کا حق ۔
(16) ناجائز قتل و غارت سے اجتناب۔

جانوروں کے حقوق:

اور وہ یہ ہیں:
(1) جانوروں پر ظلم نہ کیا جائے۔
(2) جانوروں کو آگ میں نہ جلایا جائے۔
(3) موذی جانوروں کو قتل کرنا جائز ہے۔

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
ای میل

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

1