کیا نمازِ تسبیح ثابت ہے؟ جمہور ائمہ حدیث کے دلائل کے ساتھ مکمل تحقیق

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری کی کتاب غیر مسنون نفلی نمازیں سے ماخوذ ہے۔

نماز تسبیح

نماز تسبیح کے بارے میں کوئی روایت ثابت نہیں ،ساری کی ساری ضعیف ہیں ۔
❀ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال للعباس بن عبد المطلب يا عباس يا عماه ألا أعطيك ألا أمنحك ألا أحبوك ألا أفعل بك عشر خصال إذا أنت فعلت ذلك غفر الله لك ذنبك أوله وآخره قديمه وحديثه خطأه وعمده صغيره وكبيره سره وعلانيته عشر خصال أن تصلي أربع ركعات تقرأ في كل ركعة فاتحة الكتاب وسورة فإذا فرغت من القراءة في أول ركعة وأنت قائم قلت سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر خمس عشرة مرة ثم تركع فتقولها وأنت راكع عشرا ثم ترفع رأسك من الركوع فتقولها عشرا ثم تهوي ساجدا فتقولها وأنت ساجد عشرا ثم ترفع رأسك من السجود فتقولها عشرا ثم تسجد فتقولها عشرا ثم ترفع رأسك فتقولها عشرا فذلك خمس وسبعون في كل ركعة تفعل ذلك في أربع ركعات إن استطعت أن تصليها في كل يوم مرة فافعل فإن لم تفعل ففي كل جمعة مرة فإن لم تفعل ففي كل شهر مرة فإن لم تفعل ففي كل سنة مرة فإن لم تفعل ففي عمرك مرة
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے فرمایا : چچا! میں آپ کو تحفہ نہ دوں، میں آپ کو گراں مایہ چیز مفت عطا نہ کر دوں، دس ایسی خصلتیں بیان نہ کروں کہ انہیں اپنائیں، تو اللہ تعالیٰ آپ کے اول و آخر ، قدیم و جدید، دانسته و نادانسته، صغیرہ و کبیرہ مخفی وظاہری تمام گناہ معاف کر دے؟ چار رکعات ادا کریں۔ ہر رکعت میں سورت فاتحہ کے ساتھ کوئی سورت پڑھیں، پھر پہلی رکعت میں قرآت سے فارغ ہو کر حالت قیام میں ہی پندرہ دفعہ یہ کلمات پڑھیں : سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلّهِ وَلَا إِلهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ اَكْبَرُ الله پاک ہے، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اس کے سوا کوئی الہ نہیں اور اللہ سے بڑا ہے، پھر آپ رکوع کریں اور رکوع کی حالت میں ( تسبیحات کے بعد دس) مرتبہ یہ کلمات پڑھیں، رکوع سے سر اٹھائیں اور دس مرتبہ یہ کلمات پڑھیں، سجدے کے لیے جھک جائیں اور سجدے کی حالت میں ( تسبیحات کے بعد ) دس مرتبہ یہ کلمات پڑھیں، سجدے سے سراٹھا ئیں اور دس مرتبہ یہ کلمات پڑھیں ، دوسرا سجدہ کریں اور دس مرتبہ یہ کلمات پڑھیں ، پھر سجدے سے سر اٹھائیں اور دس مرتبہ وہی کلمات پڑھیں۔ یہ ہر رکعت میں پچھتر (75) تسبیحات ہو جائیں گی ۔ چاروں رکعتوں میں اسی طرح کریں۔ روزانہ پڑھ سکتے ہیں، تو روزانہ پڑھیں ، ورنہ ہفتے میں ایک بار نہیں تو ہر مہینے ایک مرتبہ پڑھ لیں، یہ ممکن نہ ہو ، تو سال میں ایک مرتبہ، یہ بھی ممکن نہ ہو ، تو زندگی میں ایک مرتبہ پڑھ لیں ۔
(سنن أبي داود : 1297، سنن ابن ماجه : 1387، المعجم الكبير للطبراني : 11622 ، المستدرك للحاكم :318/1)

اہل علم کی آراء :

جمہور ائمہ حدیث نے اس روایت کو ضعیف و منکر قرار دیا ہے۔
1۔ امام علی بن مدینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هو حديث منكر
یہ حدیث منکر ہے۔
(مسائل الكوسج : 3309)
2۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ليس فيها حديث يثبت
نماز تسبیح کے متعلق کوئی حدیث ثابت نہیں۔
(اتحاف المهرة لابن حَجَر : 484/7)
3۔ امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لا يصح منه كبير شيء
نماز تسبیح کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ ثابت نہیں۔
(سنن الترمذي، تحت الحديث : 481)
4۔ امام عقیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
ليس في صلاة التسابيح حديث يثبت
نماز تسبیح کے بارے میں کوئی حدیث ثابت نہیں۔
(الضعفاء الكبير : 124/1)
5۔ امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے اس حدیث پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
(صحيح ابن خزيمة، قبل الحديث : 1216 )
یہ حدیث عکرمہ کی مرسل ہے۔ کیونکہ اس حدیث کا مرکزی راوی حکم بن ابان ہے۔ اس سے موسیٰ بن عبد العزیز اور ابراہیم بن حکم بن ابان نے نقل کیا ہے۔ موسیٰ بن عبد العزیز کو وہم ہوا اور اس نے اسے موصول بیان کر دیا۔ جبکہ حکم بن ابان سے یہی روایات اس کے بیٹے نے مرسل ذکر کی ہے، یہ روایت حکم کے بیٹے ابراہیم کی کتاب میں ہے۔
❀ عباس بن عبد العظیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
كانت هذه الأحاديث في كتبه مراسيل ليس فيها ابن عباس ولا أبو هريرة يعني أحاديث أبيه عن عكرمة
یہ احادیث ابراہیم بن حکم بن ابان کی کتابوں میں مرسل ہیں، انہیں وہ اپنے والد ( حکم بن ابان ) عن عکرمہ کی سند سے ذکر کرتا ہے اور ان میں سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ یا سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا واسطہ ذکر نہیں کرتا۔
(الكامل لابن عدي : 393/1 ، وسنده صحيح)
❀ حافظ بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
المرسل أصح
اس حدیث کا مرسل ہونا ہی درست ہے ۔
(شعب الإيمان، تحت الحديث : 2817)
❀ حافظ خلیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
قد تفرد الحكم بن أبان العدني عن عكرمة بأحاديث ويسند عنه ما يقفه غيره …. منها حديث التسبيح
حکم بن ابان عدنی عکرمہ سے کئی احادیث بیان کرنے میں منفرد ہے، اس نے عکرمہ سے کئی ایسی احادیث کو موصول بیان کیا ہے، جنہیں دوسروں نے عکرمہ پر موقوف بیان کیا ہے جیسا کہ نماز تسبیح والی حدیث ہے۔
(الإرشاد : 323/1)
❀ علامہ ابوبکر ابن العربی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
ضعيف ليس لها أصل في الصحة ولا في الحسن
یہ قصہ ضعیف ہے، کسی صحیح یا حسن روایت میں اس کی اصل نہیں ۔
(عارضة الأحوذي : 267/2)
❀ حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هذه الطرق كلها لا تثبت
اس کی تمام سندیں غیر ثابت ہیں ۔
(الموضوعات : 145/2)
❀ حافظ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
في هذا الاستحباب نظر لأن حديثها ضعيف وليس حديثها بثابت
نماز تسبیح کو مستحب کہنا محل نظر ہے، کیونکہ اس بارے میں حدیث ضعیف ہے۔ نماز تسبیح کی حدیث ثابت نہیں ۔
(المجموع: 54/4)
❀ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اس روایت کو منکر قرار دیا ہے۔
(ميزان الاعتدال : 213/4)
❀ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے نماز تسبیح کو غیر ثابت قرار دیا ہے۔
(مجموع الفتاوى : 579/11)
❀ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
الحق أن طرقه كلها ضعيفة
حق بات یہ ہے کہ اس حدیث کی تمام سندیں ضعیف ہیں۔
(التلخيص الحبير : 2 /18)
تنبیہ :
❀ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
إن أم سليم غدت على النبي صلى الله عليه وسلم فقالت علمني كلمات أقولهن في صلاتي فقال كبري الله عشرا وسبحي الله عشرا واحمديه عشرا ثم سلي ما شئت يقول نعم نعم
ایک صبح سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، مجھے کچھ ایسے کلمات سکھا دیجئے ، جو نماز میں کہہ سکوں، فرمایا : دس دفعہ اللہ اکبر، دس دفعہ سبحان اللہ ، دس دفعہ الحمدللہ کہیں ، پھر مانگتی جائیں، وہ دیتا جائے گا۔
(سنن الترمذي : 481 ، سنن النسائي : 1299، وسنده حسن)
اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن غریب ابن خزیمہ رحمہ اللہ (850 ) امام ابن حبان رحمہ اللہ (2011 ) نے صحیح اور امام حاکم رحمہ اللہ (1 /318 ) نے امام مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے،حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے موافقت کی ہے بعض اہل علم نے اس سے مختصر نماز تسبیح کا اثبات کیا ہے، جبکہ مختصر نماز تسبیح کا کوئی بھی قائل نہیں .
❀ محدث محمد عبدالرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
قال العراقي إيراد هذا الحديث في باب صلاة التسبيح فيه نظر فإن المعروف أنه ورد في التسبيح عقب الصلوات لا في صلاة التسبيح
حافظ عراقی رحمہ اللہ کہتے ہیں : اس حدیث کو صلاۃ التسبیح کے باب میں ذکر کرنا محل نظر ہے، معلوم شدہ کہ یہ نماز کے بعد کی تسبیح ہے ، نہ کہ نماز تسبیح۔
(تحفة الأحوذي : 350/1)