کفار کے ساتھ محبت، دوستی اور دیگر احکامات

مؤلف : ڈاکٹر محمد ضیاء الرحمٰن اعظمی رحمہ اللہ

415- کفار کے ساتھ دوستی کی حدود

کفار کے ساتھ دوستی رکھنا جس کی وجہ سے آدمی کافر ہو جاتا ہے، وہ ان کے ساتھ محبت رکھنا اور مسلمانوں کے خلاف ان کی مدد کرنا ہے۔ صرف ان کے ساتھ عادلانہ سلوک روا رکھنے، یا انہیں اسلام کی دعوت دینے کے لیے ان کے ساتھ میل ملاپ رکھنے اور اشاعت اسلام کے لیے ان کی مجالس میں شرکت کرنے اور اس مقصد کی خاطر سفر کر کے ان کے پاس جانے سے آدمی کافر نہیں ہو جاتا۔
[اللجنة الدائمة: 6901]

416- «لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ» میں ولایت کا معنی

اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو یہود اور دیگر کفار کے ساتھ محبت، دوستی، بھائی چارے اور دست گیری کا رشتہ قائم کرنے اور انہیں مصاحب وہم نشین بنانے سے منع کیا ہے، چاہے وہ غیر حربی (مسلمانوں کے ساتھ نہ لڑنے والے) ہی ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
«لَّا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ ۚ أُولَٰئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ وَأَيَّدَهُم بِرُوحٍ مِّنْهُ» [المجادلة: 22]
”تو ان لوگوں کو جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، نہیں پائے گا کہ وہ ان لوگوں سے دوستی رکھتے ہوں، جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی، خواہ وہ ان کے باپ ہوں، یا ان کے بیٹے، یا ان کے بھائی، یا ان کا خاندان، یہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اس نے ایمان لکھ دیا ہے اور انہیں اپنی طرف سے ایک روح کے ساتھ قوت بخشی ہے۔“
اور فرمایا:
«يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا بِطَانَةً مِّن دُونِكُمْ لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًا وَدُّوا مَا عَنِتُّمْ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ ۚ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآيَاتِ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْقِلُونَ ‎ ﴿١١٨﴾ ‏ هَا أَنتُمْ أُولَاءِ تُحِبُّونَهُمْ وَلَا يُحِبُّونَكُمْ» [آل عمران: 119 , 118]
”اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اپنے سوا کسی کو دلی دوست نہ بناؤ، وہ تمہیں کسی طرح نقصان پہنچانے میں کمی نہیں کرتے، وہ ہر ایسی چیز کو پسند کرتے ہیں، جس سے تم مصیبت میں پڑو، ان کی شدید دشمنی تو ان کے مونہوں سے ظاہر ہو چکی ہے اور جو کچھ ان کے سینے چھپا رہے ہیں، وہ زیادہ بڑا ہے، بے شک ہم نے تمہارے لیے آیات کھول کر بیان کر دی ہیں، اگر تم سمجھتے ہو۔ دیکھو ! تم وہ لوگ ہو کہ تم ان سے محبت رکھتے ہو اور وہ تم سے محبت نہیں رکھتے۔“
اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا:
«وَإِن تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا ۗ إِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ» [آل عمران: 120]
”اور اگر تم صبر کرو اور ڈراتے رہو تو ان کی خفیہ تدبیر میں کچھ نقصان نہیں پہنچائے۔“
یہ آیات اور ان کے ہم معنی کتاب و سنت کی دیگر نصوص (اس پر دلالت کرتی ہیں) تاہم اللہ نے مومنوں کو غیر حربیوں کے ساتھ اچھائی کے بدلے اچھائی کرنے، یا ان کے ساتھ خرید و فروخت جیسے مباح اور حلال فوائد کے تبادلے اور تحفے تحائف قبول کرنے سے منع نہیں کیا۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
«لَّا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُم مِّن دِيَارِكُمْ أَن تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ ‎ ﴿٨﴾ ‏ إِنَّمَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ قَاتَلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَأَخْرَجُوكُم مِّن دِيَارِكُمْ وَظَاهَرُوا عَلَىٰ إِخْرَاجِكُمْ أَن تَوَلَّوْهُمْ ۚ وَمَن يَتَوَلَّهُمْ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ» [الممتحنة: 9,8]
”اللہ تمہیں ان لوگوں سے منع نہیں کرتا جنھوں نے تم سے دین کے بارے میں جنگ کی اور نہ تمھیں تمہارے گھروں سے نکالا کہ تم ان سے نیک سلوک کرو اور ان کے حق میں انصاف کرو، یقینا اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ اللہ تو تمہیں انھی لوگوں سے منع کرتا ہے، جنھوں نے تم سے دین کے بارے میں جنگ کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہارے نکالنے میں ایک دوسرے کی مدد کی کہ تم ان سے دوستی کرو۔ اور جو ان سے دوستی کرے گا تو وہی لوگ ظالم ہیں۔“
[اللجنة الدائمة: 4246]

423- کافر کے ساتھ صلہ رحمی کا حکم

صلہ رحمی موالات نہیں ہوتی بلکہ موالات ایک چیز ہے اور صلہ رحمی دوسری چیز، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایک ہی سورت میں صلہ رحمی کرنے اور دوست بنانے سے منع کرنے کا اکٹھا ذکر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
«يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِم بِالْمَوَدَّةِ» [الممتحنة: 1]
”اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بناؤ، تم ان کی طرف دوستی کا پیغام بھیجتے ہو۔“
اور اسی سورت میں یہ بھی ذکر کیا ہے۔
«لَّا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُم مِّن دِيَارِكُمْ أَن تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ» [الممتحنة: 8]
’’ اللہ تمہیں ان لوگوں سے منع نہیں کرتا جنھوں نے نہ تم سے دین کے بارے میں جنگ کی اور نہ تمھیں تمہارے گھروں سے نکالا کہ تم ان سے نیک سلوک کرو اور ان کے حق میں انصاف کرو۔“
لہٰذا صلہ رحمی دوستی سے علاحدہ امر ہے، اس بنا پر صلہ رحمی کرنا واجب ہے۔ خواہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہوں، لیکن ان کے کفر پر ان کی مدد، تائید اور موالات سے دور رہتے ہوئے۔ اسی طرح انہیں اپنے گھر میں بلانا بھی جائز ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کو دعوت اسلام پیش کرنے اور ان کو نصیحت کرنے اور ان کی راہنمائی پر بھی بھرپور توجہ دینی چاہیے، شاید اللہ تعالیٰ اس کے سبب انہیں ہدایت نصیب کر دے۔
[ابن عثيمين: نور على الدرب: 3/21]

425- کافر کو پہلے سلام کرنا

کافر کو پہلے سلام کرنا جائز نہیں، کیونکہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”یہود و نصاری کو پہلے سلام نہ کرو، اگر تم راستے میں ان میں سے کسی کے ساتھ ملو تو اس کو تنگ راہ پر چلنے پر مجبور کرو۔“ (یعنی تم طمطراق سے درمیان میں چلو اور وہ تمہیں دیکھ کر ایک طرف ہو کر چلیں) [صحيح مسلم 2167/13]
اور حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جب اہل کتاب تم کو سلام کریں، تو تم کہو: ”وعلیکم“ [صحيح البخاري، رقم الحديث 6258 صحيح مسلم 2163/6]
لہٰذا حدیث کے مطابق ان کو ”علیکم“ (تم پر بھی وہی ہو جو تم نے کہا) کہ کر جواب دو، البتہ کافر کا پہلے حال پوچھنے میں کوئی حرج نہیں، مثلاًً یہ کہنا: تمھارا کیا حال ہے؟ صبح کیسی رہی؟ شام کیسی تھی وغیرہ، اور یہ بھی اس وقت جب ضرورت ہو۔ اہل علم کی ایک جماعت نے اس کی تصریح کی ہے اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ بھی ان میں شامل ہیں۔
[اللجنة الدائمة: 11123]

426- کافروں کی عیدوں پر انہیں مبارک باد دینا

مسلمان کے لیے عیسائیوں کو ان کی عیدوں پر مبارک باد دینا جائز نہیں،
کیونکہ یہ گناہ پر تعاون کی صورت ہے، جس سے ہم کو منع کیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
«وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ» [المائدة: 12]
”اور گناہ اور زیادتی پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔“
اسی طرح اس مبارک باد دینے میں ان کے ساتھ اظہار دوستی، ان کی محبت کی طلب، ان سے اور ان کے دینی شعائر (علامات) پر رضا مندی کا احساس چھلکتا ہے، جو نا جائز ہے، بلکہ ان کے ساتھ عداوت اور نفرت کا اظہار کرنا واجب ہے، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرتے ہیں، اس کے ساتھ غیر کو شریک کرتے ہیں اور اس کی بیوی اور لڑکا بناتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہے:
«لَّا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ ۚ أُولَٰئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ وَأَيَّدَهُم بِرُوحٍ مِّنْهُ» [المجادلة: 22]
”’’ تو ان لوگوں کو جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں نہیں پائے گا کہ وہ ان لوگوں سے دوستی رکھتے ہوں، جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی، خواہ وہ ان کے باپ ہوں، یا ان کے بیٹے، یا ان کے بھائی، یا ان کا خاندان، یہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اس نے ایمان لکھ دیا ہے اور انہیں اپنی طرف سے ایک روح کے ساتھ قوت بخشی ہے۔“
نیز فرمایا:
«قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ وَالَّذِينَ مَعَهُ إِذْ قَالُوا لِقَوْمِهِمْ إِنَّا بُرَآءُ مِنكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاءُ أَبَدًا حَتَّىٰ تُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَحْدَهُ» [الممتحنة: 4]
”یقیناًً تمہارے لیے ابراہیم اور ان لوگوں میں جو اس کے ساتھ تھے ایک اچھا نمونہ تھا، جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ بے شک ہم تم سے اور ان تمام چیزوں سے بری ہیں، جنھیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو، ہم تمہیں نہیں مانتے اور ہمارے درمیان اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے دشمنی اور بغض ظاہر ہو گیا، یہاں تک کہ تم اس اکیلے اللہ پر ایمان لاو۔“
[اللجنة الدائمة: 11168]

427- جزیرہ عرب میں کافر سے خدمت لینے کا حکم

مسلمان کو جزیرہ عرب میں کافر کو خادم یا ڈرائیور رکھنے یا کسی بھی طرح کی خدمت لینے کے لیے رکھنا جائز نہیں، کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کو اس جزیرے سے نکالنے کی وصیت کی ہے، نیز اس کام میں، جس کواللہ تعالیٰ نے دور کیا ہے اور خائن قرار دیا ہے، اس کو قریب کرنا اور اپنی امانتیں اس کے سپرد کرنا ہے، نیز ان سے خدمت لینے میں کئی خرابیاں جنم لیتی ہیں۔
[اللجنة الدائمة: 9607]

428- کافر کو مصاحب اور ہم نشین بنانے کا حکم

کافر مسلمان کا بھائی ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
«إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ» [الحجرات: 10]
”مومن مومن کا بھائی ہے۔“
اور فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
”مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔“ [صحيح البخاري، رقم الحديث 6591 صحيح مسلم 2580/58]
کوئی کافر، یہودی، عیسائی، بت پرست، آتش پرست، ملحدہ کیمیونسٹ وغیرہ اس کا بھائی نہیں، لہٰذا اس کو دوست با مصاحب بنانا بھی جائز نہیں، لیکن اگر کبھی وہ تمہارے ساتھ کھا لے اور تم نے اس کو دوست اور ساتھی نہ بنایا ہو بلکہ اچانک یا کسی دعوت عام میں وہ تمہارے ساتھ کھا لے تو کوئی حرج نہیں، لیکن اس کو دوست، ساتھی، ہم نشین، ہم نوالہ و ہم پیالہ بنانا جائز نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے اور ان کے درمیان محبت و موالات قطع کر دی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب عظیم میں فرماتے ہیں:
«قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ وَالَّذِينَ مَعَهُ إِذْ قَالُوا لِقَوْمِهِمْ إِنَّا بُرَآءُ مِنكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاءُ أَبَدًا حَتَّىٰ تُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَحْدَهُ» [الممتحنة: 4]
”یقیناًً تمہارے لیے ابراہیم اور ان لوگوں میں جو اس کے ساتھ تھے ایک اچھا نمونہ تھا، جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ بے شک ہم تم سے اور ان تمام چیزوں سے بری ہیں، جنھیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو، ہم تمہیں نہیں مانتے اور ہمارے درمیان اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے دشمنی اور بغض ظاہر ہو گیا، یہاں تک کہ تم اس اکیلے اللہ پر ایمان لاو۔“
نیز فرمایا:
«لَّا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ» [المجادلة: 22]
”تو ان لوگوں کو جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، نہیں پائے گا کہ وہ ان لوگوں سے دوستی رکھتے ہوں، جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی۔“
آگے فرمایا:
«وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ» [المجادلة: 22]
”خواہ وہ ان کے باپ ہوں، یا ان کے بیٹے، یا ان کے بھائی، یا ان کا خاندان۔“
لہٰذا مسلمان پر اہل شرک سے براءت کا اظہار کرنا اور خدا کے لیے ان کے ساتھ نفرت رکھنا واجب ہے، لیکن انہیں ناحق تکلیف پہنچائے، نقصان سے دوچار کرے نہ ان پر زیادتی ہی کرے، مگر ان کو دوست اور ہمراز ساتھی نہ بنائے، اور جب اچانک کسی عام دعوت میں یا کسی عارضی کھانے میں ان کے ساتھ کھانے کا اتفاق ہو تو کھا لے لیکن ان کے ساتھ دوستی، محبت یا صحبت رکھے بغیر کوئی حرج نہیں۔
[ابن باز: نور على الدرب: 370/1]

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
لنکڈان
ٹیلی گرام
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
پرنٹ کریں
ای میل