نجات کا معیار کیا ہے؟ قرآن، سنت اور فہمِ صحابہؓ کی روشنی میں
ماخذ: خطبات حافظ محمد اسحاق زاہد، مرتب کردہ: توحید ڈاٹ کام
مضمون کے اہم نکات

اللہ ربّ العزت نے جب حضرت آدم علیہ السلام اور ان کی زوجہ حضرت حواء علیہا السلام کو جنت سے زمین پر اتارا تو اسی وقت یہ اصولی فیصلہ فرما دیا کہ قیامت تک آنے والی تمام اولادِ آدم کے لیے ایک واضح نظامِ زندگی ہوگا۔ جو اس نظامِ ہدایت کی پیروی کرے گا وہ کامیاب اور کامران ہوگا، اور جو اس کی نافرمانی کرے گا وہ ہلاکت اور جہنم کا مستحق ہوگا۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿قُلْنَا اهْبِطُوا مِنْهَا جَمِيعًا ۖ فَاِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ مِّنِّيْ هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ ۝ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَآ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ﴾
(البقرۃ: 39)

ترجمہ:
’’ہم نے کہا: تم سب یہاں سے اتر جاؤ، پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت آئے تو جو کوئی میری ہدایت کی پیروی کرے گا اس پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوگا۔ اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا، وہی جہنم والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘

اسی مفہوم کو اللہ تعالیٰ نے ایک اور مقام پر مزید وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا:

﴿فَاِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ مِّنِّيْ هُدًى فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقٰى ۝ وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِيْ فَاِنَّ لَهٗ مَعِيْشَةً ضَنْكًا وَّنَحْشُرُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اَعْمٰى﴾
(طٰہٰ: 123–124)

ترجمہ:
’’پھر اگر تمہارے پاس میری ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ گمراہ ہوگا اور نہ بدبخت ہوگا، اور جو میری یاد سے منہ موڑے گا تو اس کی زندگی تنگ ہوگی، اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا اٹھائیں گے۔‘‘

ان آیاتِ کریمہ سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ ہدایت کی پیروی دنیا میں اطمینان، سکون اور آخرت میں نجات کا سبب ہے، جبکہ ہدایت سے اعراض دنیا میں تنگی اور آخرت میں ہلاکت کا موجب ہے۔

اصل سوال: ہدایت ہے کیا؟

یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ ہدایت آخر ہے کیا، جس کی پیروی کا ہمیں حکم دیا گیا ہے؟

اس سوال کا جواب خود قرآنِ مجید دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ كِتَابًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ﴾
(الزمر: 23)

ترجمہ:
’’اللہ نے بہترین کلام نازل فرمایا، ایک ایسی کتاب جو باہم ملتی جلتی آیات پر مشتمل ہے۔‘‘

آگے فرمایا:

﴿ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ يَهْدِيْ بِهٖ مَنْ يَّشَآءُ﴾

ترجمہ:
’’یہی اللہ کی ہدایت ہے، جس کے ذریعے وہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔‘‘

یہ آیت صراحت کے ساتھ واضح کرتی ہے کہ اللہ کی طرف سے نازل کردہ یہ کتاب ہی اصل ہدایت ہے۔

قرآن: مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت

اللہ تعالیٰ مزید فرماتا ہے:

﴿وَاِنَّهٗ لَهُدًى وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ﴾
(النمل: 77)

ترجمہ:
’’اور بلا شبہ یہ (قرآن) مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔‘‘

ایک اور مقام پر فرمایا:

﴿ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ فِيْهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ﴾
(البقرۃ: 2)

ترجمہ:
’’یہ وہ کتاب ہے جس میں کسی قسم کا شک نہیں، یہ متقیوں کے لیے ہدایت ہے۔‘‘

اور پورے عالمِ انسانیت کے لیے اس کی حیثیت بیان کرتے ہوئے فرمایا:

﴿شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ﴾
(البقرۃ: 185)

ترجمہ:
’’رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو تمام لوگوں کے لیے ہدایت ہے۔‘‘

ان تمام آیات سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ قرآنِ مجید ہی وہ کتاب ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ہدایت کا سرچشمہ قرار دیا ہے۔

قرآن کیسے ہدایت دیتا ہے؟

اللہ تعالیٰ خود قرآن کے طریقۂ ہدایت کو بیان فرماتا ہے:

﴿قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّكِتَابٌ مُّبِيْنٌ ۝ يَهْدِيْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلَامِ﴾
(المائدۃ: 15–16)

ترجمہ:
’’تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور اور واضح کتاب آچکی ہے، جس کے ذریعے اللہ ان لوگوں کو سلامتی کی راہوں کی طرف ہدایت دیتا ہے جو اس کی رضا کی پیروی کرتے ہیں۔‘‘

یہی قرآن لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا اور صراطِ مستقیم کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔

اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے کا حکم

اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کو اتحاد اور ہدایت کے لیے ایک عظیم اصول دیا:

﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوا﴾
(آل عمران: 103)

ترجمہ:
’’تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور فرقوں میں مت بٹو۔‘‘

اس آیت کے آخر میں فرمایا گیا کہ اللہ اپنی آیات کو اس لیے واضح کرتا ہے تاکہ تم ہدایت پا جاؤ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کی رسی دراصل اس کی آیات ہیں، یعنی قرآنِ مجید۔

حدیث میں اللہ کی رسی کی وضاحت

رسولِ اکرم ﷺ نے اس کی مزید وضاحت فرمائی:

((أَلَا وَاِنِّيْ تَارِكٌ فِيْكُمْ ثَقَلَيْنِ، أَوَّلُهُمَا كِتَابُ اللّٰهِ، فِيْهِ الْهُدٰى وَالنُّوْرُ))
(صحیح مسلم: 2408)

ترجمہ:
’’خبردار! میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، ان میں پہلی اللہ کی کتاب ہے، جس میں ہدایت اور نور ہے۔‘‘

ایک روایت میں فرمایا:

((كِتَابُ اللّٰهِ هُوَ حَبْلُ اللّٰهِ، مَنِ اتَّبَعَهٗ كَانَ عَلَى الْهُدٰى))

ترجمہ:
’’اللہ کی کتاب ہی اللہ کی رسی ہے، جو اس کی پیروی کرے گا وہ ہدایت پر ہوگا۔‘‘

قرآن کے ساتھ سنتِ رسول ﷺ کی اطاعت

یہ بات بدیہی ہے کہ قرآنِ مجید کو سنتِ رسول ﷺ کے بغیر نہ صحیح طور پر سمجھا جا سکتا ہے اور نہ اس پر مکمل عمل ممکن ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے خود قرآن میں رسول ﷺ کی اطاعت کو لازم قرار دیا۔

1️⃣ رسول ﷺ کے حکم کو قبول کرنے کا حکم

﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا﴾
(الحشر: 7)

ترجمہ:
’’اور رسول تمہیں جو کچھ دیں وہ لے لو، اور جس چیز سے تمہیں روک دیں اس سے رک جاؤ۔‘‘

2️⃣ اطاعتِ رسول ﷺ = ہدایت

﴿قُلْ اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ وَاِنْ تُطِيْعُوْهُ تَهْتَدُوْا﴾
(النور: 54)

ترجمہ:
’’کہہ دیجئے! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو۔ پھر اگر تم منہ پھیر لو تو رسول پر تو وہی ذمہ داری ہے جو ان پر ڈالی گئی ہے اور تم پر وہ ذمہ داری ہے جو تم پر ڈالی گئی ہے، اور اگر تم اس کی اطاعت کرو گے تو ہدایت پا جاؤ گے۔‘‘

3️⃣ رسول ﷺ کی اطاعت سے ہی ایمان مکمل ہوتا ہے

﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ﴾
(النساء: 65)

ترجمہ:
’’پس آپ کے رب کی قسم! یہ لوگ مومن نہیں ہو سکتے جب تک اپنے باہمی اختلافات میں آپ کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں۔‘‘

سنت بھی وحی ہے

یہ ایک نہایت اہم اصول ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنی طرف سے کوئی بات نہیں کہتے بلکہ جو کچھ کہتے ہیں وہ اللہ کی طرف سے وحی ہوتی ہے۔

﴿وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى ۝ اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى﴾
(النجم: 3–4)

ترجمہ:
’’اور وہ اپنی خواہش سے نہیں بولتے، یہ تو وحی ہوتی ہے جو ان کی طرف نازل کی جاتی ہے۔‘‘

➡️ اس آیت سے ثابت ہوا کہ سنتِ رسول ﷺ بھی وحیِ الٰہی ہے، اگرچہ وہ قرآن کی طرح لفظاً نازل نہیں ہوئی۔

4️⃣ نبی ﷺ نے امت کو کیا چھوڑا؟ کتاب و سنت: گمراہی سے حفاظت

رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا:

((تَرَكْتُ فِيْكُمْ مَا لَنْ تَضِلُّوْا بَعْدَهٗ اِنِ اعْتَصَمْتُمْ بِهٖ: كِتَابَ اللّٰهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهٖ))
(السنۃ للمروزی: 68، ابن عباسؓ)

ترجمہ:
’’میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم اسے مضبوطی سے تھامے رکھو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہوگے: اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت۔‘‘

ایک اور حدیث میں فرمایا:

((تَرَكْتُ فِيْكُمْ شَيْئَيْنِ لَنْ تَضِلُّوْا بَعْدَهُمَا: كِتَابَ اللّٰهِ وَسُنَّتِي))
(صحیح الجامع: 2937)

ترجمہ:
’’میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، جن کے بعد تم کبھی گمراہ نہیں ہوگے: اللہ کی کتاب اور میری سنت۔‘‘

بہترین بات اور بہترین طریقہ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

((أَمَّا بَعْدُ فَاِنَّ خَيْرَ الْحَدِيْثِ كِتَابُ اللّٰهِ، وَخَيْرَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ ﷺ، وَشَرَّ الْاُمُوْرِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ))
(صحیح مسلم: 867)

ترجمہ:
’’بلاشبہ سب سے بہترین بات اللہ کی کتاب ہے، اور سب سے بہترین طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے، اور سب سے بری چیز دین میں نیا کام ایجاد کرنا ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے۔‘‘

جزا و سزا کا معیار: اطاعتِ رسول ﷺ

﴿وَمَنْ يُطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ يُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ﴾
(النساء: 13)

ترجمہ:
’’اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اللہ اسے جنتوں میں داخل کرے گا۔‘‘

﴿وَمَنْ يَّعْصِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَيَتَعَدَّ حُدُوْدَهٗ يُدْخِلْهُ نَارًا﴾
(النساء: 14)

ترجمہ:
’’اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی حدود سے تجاوز کرے گا، اللہ اسے آگ میں داخل کرے گا۔‘‘

صراطِ مستقیم کیا ہے؟

﴿وَاَنَّ هٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِيْمًا فَاتَّبِعُوْهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ﴾
(الأنعام: 153)

ترجمہ:
’’اور یہی میرا سیدھا راستہ ہے، اسی کی پیروی کرو اور دوسرے راستوں پر مت چلو۔‘‘

حدیث کی وضاحت

حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں:

((هٰذَا صِرَاطُ اللّٰهِ مُسْتَقِيْمًا، وَهٰذِهِ السُّبُلُ عَلٰى كُلِّ سَبِيْلٍ شَيْطَانٌ))
(مسند احمد، دارمی)

ترجمہ:
’’یہ اللہ کا سیدھا راستہ ہے، اور یہ جو دائیں بائیں راستے ہیں ان میں سے ہر ایک پر شیطان بیٹھا ہے۔‘‘

فرقۂ ناجیہ: کتاب و سنت پر قائم جماعت

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

((افْتَرَقَتِ الْيَهُوْدُ عَلٰى اِحْدٰى وَسَبْعِيْنَ فِرْقَةً، وَسَتَفْتَرِقُ اُمَّتِيْ عَلٰى ثَلَاثٍ وَسَبْعِيْنَ فِرْقَةً))

’’یہودی اکہتر فرقوں میں بٹ گئے، اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی۔‘‘

صحابہؓ نے پوچھا: نجات پانے والا کون سا ہوگا؟

فرمایا:

((مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي))
(ترمذی: 2641، ابو داود: 4597، ابن ماجہ: 3993)

ترجمہ:
’’وہ جماعت جو اس طریقے پر ہوگی جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔‘‘

اختلاف کا حل: قرآن و سنت کی طرف رجوع

﴿فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ﴾
(النساء: 59)

ترجمہ:
’’پھر اگر تم کسی بات میں اختلاف کرو تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو۔‘‘

قرآن و سنت میں ہر مسئلے کا حل

﴿وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ﴾
(النحل: 89)

ترجمہ:
’’ہم نے آپ پر ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں ہر چیز کی وضاحت ہے۔‘‘

نبی ﷺ کا آخری اعلان

((مَا بَقِيَ شَيْءٌ يُقَرِّبُكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ اِلَّا وَقَدْ بُيِّنَ لَكُمْ))
(السلسلة الصحيحة: 1803)

ترجمہ:
’’کوئی ایسی چیز باقی نہیں جو جنت کے قریب کرے مگر اسے تمہارے لیے بیان کر دیا گیا ہے۔‘‘

قرآن و سنت کو صحابہؓ کے فہم کے ساتھ سمجھنا

یہ بات بار بار واضح کی گئی کہ صرف قرآن و سنت ہی ہدایت کا سرچشمہ ہیں، لیکن یہ بھی اتنا ہی ضروری ہے کہ قرآن و سنت کو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے فہم کے مطابق سمجھا جائے، کیونکہ وہی لوگ براہِ راست نبی کریم ﷺ کے شاگرد اور دین کے پہلے مخاطب تھے۔

1️⃣ صحابہؓ کا ایمان معیار ہے

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَا اٰمَنْتُمْ بِهٖ فَقَدِ اهْتَدَوْا﴾
(البقرۃ: 137)

ترجمہ:
’’پس اگر یہ لوگ بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم ایمان لے آئے ہو تو وہ ہدایت پا جائیں گے۔‘‘

اس آیت سے ثابت ہوا کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا ایمان بعد میں آنے والوں کے لیے معیارِ ہدایت ہے۔

2️⃣ صحابہؓ کا راستہ چھوڑنے کی وعید

﴿وَمَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصْلِهٖ جَهَنَّمَ﴾
(النساء: 115)

ترجمہ:
’’اور جو شخص ہدایت واضح ہونے کے بعد رسول کی مخالفت کرے اور مومنوں کے راستے کے علاوہ کسی اور راستے پر چلے تو ہم اسے اسی طرف پھیر دیتے ہیں جدھر وہ مڑا اور اسے جہنم میں داخل کریں گے۔‘‘

یہاں سبیل المؤمنین سے مراد صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا راستہ ہے، کیونکہ نزولِ قرآن کے وقت وہی حقیقی مومن تھے۔

فرقۂ ناجیہ کون ہے؟

رسول اکرم ﷺ کا ارشاد ہے:

((اِفْتَرَقَتِ الْيَهُوْدُ عَلٰى اِحْدٰى وَسَبْعِيْنَ فِرْقَةً، وَافْتَرَقَتِ النَّصَارٰى عَلٰى اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِيْنَ فِرْقَةً، وَسَتَفْتَرِقُ اُمَّتِيْ عَلٰى ثَلَاثٍ وَسَبْعِيْنَ فِرْقَةً، كُلُّهَا فِي النَّارِ اِلَّا وَاحِدَةً))

’’یہودی اکہتر فرقوں میں بٹ گئے، اور عیسائی بہتر فرقوں میں بٹ گئے، اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، یہ سب جہنم میں ہوں گے سوائے ایک کے۔‘‘

صحابہؓ نے پوچھا: وہ کون سی ہے؟

فرمایا:

((مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي))
(ترمذی: 2641، ابو داود: 4597، ابن ماجہ: 3993، حسنہ الألبانی)

ترجمہ:
’’وہ جماعت جو اس طریقے پر ہو جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔‘‘

➡️ اس سے واضح ہوا کہ فرقۂ ناجیہ وہی ہے جو قرآن و سنت کو صحابہؓ کے فہم کے مطابق اپنائے۔

صحابہؓ کی اقتداء کی تلقین

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

((اِنْ يُطِيْعُوْا اَبَا بَكْرٍ وَّعُمَرَ يَرْشُدُوْا))
(صحیح مسلم: 681)

ترجمہ:
’’اگر لوگ ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما کی اطاعت کریں گے تو ہدایت پا جائیں گے۔‘‘

اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا مشہور قول:

(مَنْ كَانَ مُسْتَنًّا فَلْيَسْتَنَّ بِمَنْ قَدْ مَاتَ، اُولٰئِكَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ ﷺ…)
(حلیۃ الاولیاء: 1/305–306)

ترجمہ:
’’جو کسی کی پیروی کرنا چاہے تو محمد ﷺ کے صحابہ کی پیروی کرے، وہی اس امت کے سب سے بہتر لوگ تھے… وہ صراطِ مستقیم پر تھے۔‘‘

اندھی تقلید کا رد

یہاں یہ بات نہایت وضاحت سے سمجھنی چاہیے کہ ائمۂ اربعہ رحمہم اللہ خود اندھی تقلید کے قائل نہیں تھے۔

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ:
(لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَّأْخُذَ بِقَوْلِنَا مَا لَمْ يَعْلَمْ مِنْ أَيْنَ أَخَذْنَاهُ)

’’کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ ہمارا قول لے جب تک یہ نہ جان لے کہ ہم نے اسے کہاں سے لیا۔‘‘

امام مالک رحمہ اللہ:
(كُلُّ أَحَدٍ يُؤْخَذُ مِنْ قَوْلِهٖ وَيُرَدُّ اِلَّا صَاحِبَ هٰذَا الْقَبْرِ)

’’ہر شخص کی بات لی بھی جا سکتی ہے اور رد بھی کی جا سکتی ہے، سوائے اس قبر والے (نبی ﷺ) کے۔‘‘

امام شافعی رحمہ اللہ:
(اِذَا صَحَّ الْحَدِيْثُ فَهُوَ مَذْهَبِي)

’’جب حدیث صحیح ہو جائے تو وہی میرا مذہب ہے۔‘‘

امام احمد رحمہ اللہ:
(لَا تُقَلِّدْنِي وَلَا تُقَلِّدْ مَالِكًا وَلَا الشَّافِعِيَّ…)

’’نہ میری تقلید کرو، نہ مالک کی، نہ شافعی کی… بلکہ وہاں سے لو جہاں سے انہوں نے لیا۔‘‘

➡️ یہ اقوال واضح دلیل ہیں کہ تقلید نہیں، بلکہ اتباع مطلوب ہے۔

بدعت کا خطرہ

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

((وَشَرَّ الْاُمُوْرِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ))
(صحیح مسلم: 867)

ترجمہ:
’’اور سب سے برا کام وہ ہے جو دین میں نیا ایجاد کیا جائے، اور ہر بدعت گمراہی ہے۔‘‘

لہٰذا دین میں وہی عمل معتبر ہے جو قرآن، سنت اور فہمِ صحابہؓ سے ثابت ہو۔

ضعیف اور موضوع احادیث سے سخت تنبیہ

رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:

((مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهٗ مِنَ النَّارِ))
(صحیح مسلم، مقدمہ)

ترجمہ:
’’جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔‘‘

اور فرمایا:

((كَفٰى بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ))
(صحیح مسلم، مقدمہ)

ترجمہ:
’’آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات بیان کرے۔‘‘

➡️ اس لیے ضعیف اور من گھڑت احادیث سے نہ عقائد ثابت ہوتے ہیں اور نہ اعمال۔

نتیجہ

مسلمانوں کی نجات، اتحاد اور فلاح اسی میں ہے کہ وہ

◈ صرف قرآن و سنت کی اتباع کریں

◈ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے منہج کو معیار بنائیں

◈ بدعت، تقلیدِ جامد اور من گھڑت روایات سے اجتناب کریں

اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو پہچاننے، اسے قبول کرنے اور اس پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
ای میل

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے