محدث ابو بکر ابن المقرئ سے منسوب قبرِ نبویﷺ پر ندا کا قصہ: تحقیق اور جواب

فونٹ سائز:
مرتب کردہ: ابو حمزہ سلفی
مضمون کے اہم نکات

بعض لوگ یہ قصہ بطور دلیل پیش کرتے ہیں کہ امام ابو بکر ابن المقرئ (محمد بن ابراہیم بن علی، متوفی 381ھ) نے بھوک کے وقت قبرِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارا، پھر ایک علوی آیا اور خواب کا حوالہ دے کر کھانا دے گیا۔ یہ قصہ اگرچہ بعض کتب میں منقول ہے، لیکن اصولِ حدیث و اصولِ استدلال کے اعتبار سے یہ واقعہ دلیل بننے کے قابل نہیں۔

پیش کردہ قصہ

جو قصہ نقل کیا جاتا ہے وہ یہ ہے:

وروي عن أبي بكر بن أبي علي، قال: كان ابن المقرئ يقول:
كنت أنا والطبراني، وأبو الشيخ بالمدينة، فضاق بنا الوقت، فواصلنا ذلك اليوم، فلما كان وقت العشاء حضرت القبر، وقلت: يا رسول الله الجوع ، فقال لي الطبراني: اجلس، فإما أن يكون الرزق أو الموت.
فقمت أنا وأبو الشيخ، فحضر الباب علوي، ففتحنا له، فإذا معه غلامان بقفتين فيهما شيء كثير، وقال: شكوتموني إلى النبي – صلى الله عليه وسلم -؟ رأيته في النوم، فأمرني بحمل شيء إليكم.

اردو ترجمہ:

ابو بکر بن ابی علی سے روایت کیا گیا، وہ کہتے ہیں کہ ابن المقرئ کہا کرتے تھے:
میں، طبرانی اور ابو الشیخ مدینہ میں تھے، ہم پر وقت (اور فاقہ) تنگ ہو گیا، چنانچہ ہم نے اس دن روزہ جاری رکھا۔ جب عشاء کا وقت ہوا تو میں قبر (رسول ﷺ) کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! بھوک ہے۔
تو طبرانی نے مجھ سے کہا: بیٹھ جاؤ، یا تو رزق آئے گا یا موت۔
میں اور ابو الشیخ اٹھے، اتنے میں ایک علوی دروازے پر آیا، ہم نے اس کے لیے دروازہ کھولا، تو اس کے ساتھ دو غلام تھے جن کے پاس دو ٹوکریاں تھیں جن میں بہت سی چیزیں تھیں۔ اس نے کہا: کیا تم نے میری شکایت نبی ﷺ کے پاس کی ہے؟ میں نے نبی ﷺ کو خواب میں دیکھا، تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ تمہارے لیے کچھ لے کر آؤں۔

سير أعلام النبلاء (نقلًا)

الجواب: یہ قصہ شرعی دلیل کیوں نہیں

01- صرف “کتاب میں موجود ہونا” صحت کو لازم نہیں کرتا

کسی واقعہ یا روایت کا کتب میں موجود ہونا یہ ثابت نہیں کرتا کہ وہ واقعہ صحیح ہے۔ کتب میں صحیح، حسن، ضعیف بلکہ موضوع تک ہر قسم کی روایات موجود ہوتی ہیں۔ اس لیے اصولی مطالبہ یہ ہے کہ دلیل کے طور پر پیش کی جانے والی روایت کی سند اور صحت واضح ہو۔

02- حافظ ذہبی نے اسے صیغۂ تمریض سے نقل کیا ہے

حافظ ذہبی نے اس قصے کو “وروي” کے ساتھ نقل کیا ہے۔ اہلِ حدیث کے ہاں یہ اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ ناقل اسے قطعی طور پر ثابت شدہ کے درجے میں بیان نہیں کر رہا، بلکہ بطور حکایت نقل کر رہا ہے۔

اصولِ مصطلح کی عبارت:

… فالتعليق عندهم يكون بصيغة الجزم … وبصيغة التمريض، ك: يروى، ويذكر.

اردو ترجمہ:

ان کے نزدیک تعلیق کبھی صیغۂ جزم کے ساتھ ہوتی ہے، اور کبھی صیغۂ تمریض کے ساتھ، جیسے: “روایت کیا جاتا ہے” اور “ذکر کیا جاتا ہے”۔

شرح نخبة الفكر للقاري

یہاں “وروي” کی تعبیر خود یہ بتاتی ہے کہ اس قصے کو قطعی ثبوت کے طور پر پیش کرنا درست نہیں۔

03- اس قصے کی متصل سند موجود نہیں

یہ واقعہ جس صورت میں پیش کیا جاتا ہے وہ بنیادی طور پر حکایت ہے، اس کی وہ متصل سند سامنے نہیں لائی جاتی جس پر یہ قصہ قائم ہو۔ عقائد و اعمال میں دلیل وہی معتبر ہوتی ہے جس کی سند ثابت ہو، خصوصاً جب معاملہ عبادت، دعا اور استغاثہ جیسے باب سے متعلق ہو۔

سند کی اہمیت پر ابن سیرین کا اصولی قول (حافظ ذہبی نے نقل کیا):

… قال: لقد أتى على الناس زمان وما يُسأل عن إسناد الحديث، فلما وقعت الفتنة، سُئل عن إسناد الحديث، فينظر من كان من أهل البدع، تُرك حديثه.

اردو ترجمہ:

انہوں نے کہا: لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی آیا کہ حدیث کی سند کے بارے میں سوال نہیں کیا جاتا تھا، پھر جب فتنہ واقع ہوا تو حدیث کی سند پوچھی جانے لگی، چنانچہ دیکھا جاتا کہ راوی اہلِ بدعت میں سے ہے تو اس کی حدیث چھوڑ دی جاتی۔

سير أعلام النبلاء

04- ثقہ راویوں کی روایت بھی منکر یا باطل ہو سکتی ہے

یہ ایک معروف اصول ہے کہ صرف رجال کے ثقہ ہونے سے ہر نقل لازماً صحیح نہیں ہو جاتی۔ کبھی ثقہ راویوں سے بھی منکر یا باطل بات منقول ہو جاتی ہے، اور یہ بات خود حافظ ذہبی کے کلام میں بھی ملتی ہے:

وإن كان رواته ثقات فهو منكر ليس ببعيد من الوضع.

اردو ترجمہ:

اگرچہ اس کے راوی ثقہ ہیں، لیکن یہ روایت منکر ہے، اور وضع (گھڑت) سے بھی بعید نہیں۔

تلخيص الذهبي على المستدرك

اور ایک دوسری نظیر:

وهو أيضا باطل، ما أدري من يغش فيه، فإن هؤلاء ثقات.

اردو ترجمہ:

یہ بھی باطل ہے، مجھے نہیں معلوم اس میں کس نے دھوکہ دیا ہے، حالانکہ یہ سب راوی ثقہ ہیں۔

ميزان الاعتدال للذهبي

جب ثقہ رجال کے باوجود بطلان/نکارت ممکن ہے، تو پھر اس قصے میں جبکہ بنیادی طور پر سند ہی قائم نہیں، اس سے عقیدہ یا عمل ثابت کرنا بدرجہ اولیٰ درست نہیں۔

05- خود حافظ ذہبی کے منقولات دعا کے باب میں اس طرز کے خلاف ہیں

حافظ ذہبی نے دعا کے آداب و مسلک کے ضمن میں امام مالک سے نقل کیا:

سُئِلَ مَالِكٌ عَنِ الدَّاعِي يَقُوْلُ: يَا سَيِّدِي، فَقَالَ: يُعْجِبُنِي دُعَاءُ الأَنْبِيَاءِ: رَبَّنَا، رَبَّنَا.

اردو ترجمہ:

امام مالک سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جو دعا میں کہتا ہے: “اے میرے سردار”، تو انہوں نے فرمایا: مجھے انبیاء کی دعا پسند ہے: “اے ہمارے رب، اے ہمارے رب”۔

سير أعلام النبلاء (نقلًا)

اسی مضمون کی ایک متصل سند والی روایت “حلیۃ الاولیاء” میں منقول ہے:

… عن ابن وهب، قال: سئل مالك بن أنس، عن الرجل يدعو يقول: يا سيدي فقال: يعجبني أن يدعو بدعاء الأنبياء ربنا ربنا.

اردو ترجمہ:

ابن وہب سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ امام مالک بن انس سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جو دعا میں کہتا ہے: “اے میرے سردار”، تو انہوں نے فرمایا: مجھے پسند ہے کہ وہ انبیاء کی دعا کے ساتھ دعا کرے: “اے ہمارے رب، اے ہمارے رب”۔

حلية الأولياء

اسی طرح سالم بن عبد اللہ کا قول بھی نقل ہوا:

قال لي سالم: لا تسأل أحدا غير الله تعالى.

اردو ترجمہ:

سالم نے مجھ سے کہا: اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے سوال نہ کرو۔

سير أعلام النبلاء (ونقل سنده في حلية الأولياء)

یہ منقولات واضح کرتے ہیں کہ دعا و سوال کا معروف طریقہ “ربنا ربنا” اور “اللہ کے سوا کسی سے نہ مانگو” جیسا ہے، نہ کہ قبروں پر جا کر ندا کو شرعی دلیل بنایا جائے۔

06- ابن المقرئ نے اصولِ عقیدہ میں امام احمد اور ابو زرعہ کے طریقے کی صراحت کی ہے

حافظ ذہبی نے ابو بکر ابن المقرئ کے ترجمہ میں یہ بھی نقل کیا:

سمعت ابن المقرئ يقول: مذهبي في الأصول مذهب أحمد بن حنبل، وأبي زرعة الرازي.

سير أعلام النبلاء

اردو ترجمہ:

میں نے ابن المقرئ کو کہتے ہوئے سنا: اصولِ (عقیدہ) میں میرا مسلک امام احمد بن حنبل اور ابو زرعہ رازی کا مسلک ہے۔

جب ابن المقرئ اپنے اصولِ عقیدہ میں امام احمد اور ابو زرعہ کے مسلک کی نسبت کر رہے ہیں، تو پھر ایسا قصہ جس میں قبر کے پاس ندا کو مستقل دلیل بنایا جائے، اسے بلا سند اور بلا تحقیق ان کی طرف قطعی طور پر منسوب کرنا درست نہیں۔

07- امام احمد کے آثار میں قبور سے متعلق بدعات کی نفی موجود ہے

امام احمد سے قبر کے پاس قراءت کے بارے میں سوال کیا گیا تو جواب منقول ہے:

سئل عن القراءة عند القبر؟ فقال: لا.

اردو ترجمہ:

امام احمد سے قبر کے پاس قراءت کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: نہیں۔

اور:

القراءة على القبر بدعة.

اردو ترجمہ:

قبر پر قراءت کرنا بدعت ہے

مسائل (ابن هانئ) ونقل أبي داود

اس پس منظر میں اصولی بات یہی رہتی ہے کہ قبر کے باب میں جو اعمال بطور عبادت یا تقرب پیش کیے جائیں، ان کے لیے مضبوط دلیل درکار ہوتی ہے۔

08- “مسند اصبہان” کا دعویٰ اور حقیقت

بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ قصہ “مسند اصبہان” میں خود ابن المقرئ نے نقل کیا تھا، پھر اس بنیاد پر “سند کا مسئلہ ختم” کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ طرزِ استدلال درست نہیں، کیونکہ:

1. جب تک وہ کتاب، اس کا نسخہ، اور اس میں موجود متن کی سند واضح طور پر پیش نہ کی جائے، محض دعویٰ حجت نہیں بنتا۔
2. اگر کوئی واقعہ کسی مفقود یا غیر دستیاب کتاب کی طرف منسوب کیا جائے، تو اس نسبت پر اعتماد اسی وقت ہوگا جب معتبر اہلِ علم اس کو متصل سند کے ساتھ نقل کریں، یا کتاب کا ثابت شدہ نسخہ سامنے ہو۔
3. محض جدید دور کی بعض تحریروں میں “قال الحافظ أبو بكر بن المقرئ في مسند أصبهان” لکھ دینے سے نہ کتاب ثابت ہوتی ہے اور نہ واقعہ۔

اصل معیار یہی ہے: متصل سند یا ثابت شدہ ماخذ۔

09- قصے کے اندرونی قرائن بھی اضطراب کی طرف اشارہ کرتے ہیں

یہ قصہ اپنی ساخت کے اعتبار سے بھی کئی سوالات پیدا کرتا ہے، مثلاً:

1. ابن المقرئ کا جملہ “یا رسول اللہ الجوع” اور پھر آنے والے شخص کا یہ کہنا کہ “تم نے میری شکایت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کی ہے” قصے کے اندر فطری ربط سے خالی ہے۔
2. خواب کی بنیاد پر فوری انتظام اور پھر اسی وقت دروازے پر پہنچ جانا ایک حکایتی انداز ہے جسے بغیر سند کے عقیدہ و عمل کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔
3. اس طرح کے قصص عموماً وعظی اور حکایتی اسلوب میں گھڑے جاتے ہیں، اور پھر بعد کے لوگ انہیں “ثبوتِ عقیدہ” بنا دیتے ہیں۔

یہ قرائن بذاتِ خود فیصلہ کن نہیں، لیکن جب سند بھی قائم نہ ہو تو حکایت کا مشتبہ ہونا مزید واضح ہو جاتا ہے۔

خلاصہ

1. یہ قصہ “وروي” کے ساتھ منقول ہے، قطعی ثبوت کے درجے میں نہیں۔
2. اس کی متصل سند پیش نہیں کی جاتی، اور اصولِ حدیث میں بلا سند حکایات سے عقیدہ و عبادت ثابت نہیں ہوتے۔
3. ثقہ رجال کے باوجود منکر/باطل روایت کا امکان خود ائمہ نے بیان کیا ہے، اور یہاں تو اصل مسئلہ یہی ہے کہ سند ہی قائم نہیں۔
4. حافظ ذہبی کے منقولات دعا کے باب میں “ربنا ربنا” اور “لا تسأل أحدا غير الله” جیسے اصولی آداب پر دلالت کرتے ہیں۔
5. ابن المقرئ نے اپنے اصولِ عقیدہ میں امام احمد اور ابو زرعہ کے مسلک کی نسبت کی ہے، اور امام احمد سے قبور کے باب میں بدعات کی نفی منقول ہے۔
6. لہٰذا اس حکایت کو بعد از وفات استغاثہ کے جواز کی دلیل بنانا درست نہیں، جب تک اس کی صحیح متصل سند پیش نہ کی جائے۔

اہم حوالوں کے سکین

محدث ابو بکر ابن المقرئ سے منسوب قبرِ نبویﷺ پر ندا کا قصہ: تحقیق اور جواب – 01 محدث ابو بکر ابن المقرئ سے منسوب قبرِ نبویﷺ پر ندا کا قصہ: تحقیق اور جواب – 02 محدث ابو بکر ابن المقرئ سے منسوب قبرِ نبویﷺ پر ندا کا قصہ: تحقیق اور جواب – 03 محدث ابو بکر ابن المقرئ سے منسوب قبرِ نبویﷺ پر ندا کا قصہ: تحقیق اور جواب – 04 محدث ابو بکر ابن المقرئ سے منسوب قبرِ نبویﷺ پر ندا کا قصہ: تحقیق اور جواب – 05 محدث ابو بکر ابن المقرئ سے منسوب قبرِ نبویﷺ پر ندا کا قصہ: تحقیق اور جواب – 06 محدث ابو بکر ابن المقرئ سے منسوب قبرِ نبویﷺ پر ندا کا قصہ: تحقیق اور جواب – 07 محدث ابو بکر ابن المقرئ سے منسوب قبرِ نبویﷺ پر ندا کا قصہ: تحقیق اور جواب – 08 محدث ابو بکر ابن المقرئ سے منسوب قبرِ نبویﷺ پر ندا کا قصہ: تحقیق اور جواب – 09 محدث ابو بکر ابن المقرئ سے منسوب قبرِ نبویﷺ پر ندا کا قصہ: تحقیق اور جواب – 10 محدث ابو بکر ابن المقرئ سے منسوب قبرِ نبویﷺ پر ندا کا قصہ: تحقیق اور جواب – 11 محدث ابو بکر ابن المقرئ سے منسوب قبرِ نبویﷺ پر ندا کا قصہ: تحقیق اور جواب – 12 محدث ابو بکر ابن المقرئ سے منسوب قبرِ نبویﷺ پر ندا کا قصہ: تحقیق اور جواب – 13 محدث ابو بکر ابن المقرئ سے منسوب قبرِ نبویﷺ پر ندا کا قصہ: تحقیق اور جواب – 14