مضمون کے اہم نکات
إن الحمد لله نحمده ونستعينه ونستغفره ونعوذ بالله من شرور أنفسنا ومن سيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له ومن يضلله فلا هادى له وأشهد ان لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله وصلى الله على إمام الأنبياء والمرسلين وعلى أله وصحبه أجمعين وعلى من تبعهم بإحسان ودعا بدعوتهم إلى يوم الدين. أما بعد، فقد قال الله تعالى فى كتابه الكريم : اتَّبِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمُ مِنْ رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ قَلِيلاً مَّا تَذكَّرُونَ (سورة الأعراف : 3)
وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : تركتكم على بيضاء ليلها كنهارها لا يزيغ عنها بعدى الا هالك (رواه احمد وابن ماجه)
وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم تركت فيكم أمرين لن تضلو ما تمسكتم بهما كتاب الله و سنتة نبيه (رواه مالك رحمه الله في الموطأ باب 3/46 والحاكم في المستدرك والتبريزي فى المشكوة حديث 186 والسيوطي فيمع الصغير حديث رقم: 2937، سلسله الأحاديث الصحيحة 1761)
کچھ عرصہ پہلے ایک کتاب بنام ترويحات خمسه جو کہ حکیم میر محمد ربانی صاحب کی تصنیف ہے اور اسی طرح ایک اور کتاب أغراض الجلالين جس کے مصنف عبد الغنی جاجروی صاحب ہیں نظر سے گزری۔ ان دونوں کتابوں کے مصنفین نے اپنے اپنے غالیانہ اور متعصبانہ انداز سے تقلید کو ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے بلکہ یہاں تک کہ لکھ دیا ہے کہ پہلا غیر مقلد بن کر ظاہر ہونے والا شخص شیطان تھا۔ اور یہی دعویٰ مفتی محمد ولی درویش صاحب (استاذ جامعۃ العلوم الإسلامية بنوری ٹاؤن کراچی) نے اپنی کتاب ( کیا نماز جنازہ میں سورۃ فاتحہ پڑھنا سنت ہے) میں کیا ہے ۔ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر مزے کی بات یہ ہے کہ میر محمد صاحب نے موسیٰ علیہ السلام کو خضر علیہ السلام کا مقلد ثابت کیا ہے۔ اس سے پہلے کہ میں اس بحث کو لے کر آگے چلوں قارئین کرام کو یہ بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ تقلید کسے کہتے ہیں اور اس کی کیا تعریف ہے اور کیا اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں تقلید کی اجازت دی ہے یا نہیں۔ اور اسی طرح علمائے احناف اور غیر احناف سلف کے نزدیک تقلید کی کیا حیثیت تھی اور اس کے بارے میں ان کی کیا رائے تھی۔
تقلید علمائے احناف کے نزدیک:۔
➊ فإن التقليد هو الأخذ بقول الغير بغير معرفة دليله. (عقود رسم المفتى ص 23 للعلامة الشامي الحنفي)
کسی دوسرے کے قول کو بغیر کسی دلیل کے لینے کو تقلید کہتے ہیں۔
➋ التقليد العمل بقول الغير من غير حجة. (مسلم الثبوت ج 2 ص 350)
تقلید دوسرے کے قول پر بغیر کسی دلیل کے عمل کرنے کا نام ہے۔
➌ التقليد اتباع الانسان غيره فيما يقول أو يفعل معتقدا الحقيقة فيه من غير نظر و تأمل فى الدليل كأن هذا المتبع جعل قول الغير أو فعله قلادة فى عنقه من غير مطالبة الدليل (حاشیه حسامی : 2)
تقلید یہ ہے کہ کسی دوسرے انسان کے قول یا فعل کی پیروی کرنا بغیر کسی سوچ سمجھ کے اس اعتقاد کے ساتھ کہ جو کچھ وہ کہتا ہے یا کرتا ہے وہی حق ہے۔ گویا کہ اس مقلد نے اس دوسرے شخص کے قول و فعل کا طوق اپنی گردن میں پہن لیا ہے اب وہ کسی دلیل کا مطالبہ نہیں کر سکتا ہے۔
➍ قال ابن الهمام التقليد العمل بقول من ليس قوله احدى الحجج بلا حجة .(تيسيرا التحرير)
ابن الھمام حنفی کا کہنا ہے کہ تقلید یہ ہے کہ عمل کرنا کسی کے قول پر جس کے قول میں کسی قسم کی کوئی حجت نہیں ہے بلکہ بلا حجت ہے۔
ابطال تقلید کے لئے قرآنی دلیل:۔
اب آیئے ہم یہی بات قرآن کریم کی روشنی میں پرکھتے ہیں کیا ہمارے لئے بغیر کسی دلیل کے کسی کی پیروی کرنا جائز ہے یا نہیں۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ (سورة البقرة : 111)
آپ کہہ دیجئے کہ اگر تم (اپنے عمل و اعتقاد میں) صادق ہو تو دلیل لاؤ۔
لیکن ہر زمانے میں یہی دستور رہا کہ جب بھی مقلد سے اس کے عمل پر دلیل طلب کی جاتی ہے تو وہ بجائے دلیل لانے کے اپنے آباء واجداد اور بڑوں کا عمل دکھاتا کہ یہ کام کرنے والے جتنے بزرگ ہیں کیا وہ سب گمراہ تھے؟ ہم تو انہی کی پیروی کریں گے۔
بالکل یہی بات قرآن کریم سے سنیے :
وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنْزَلَ اللَّهِ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَيهِ آبائنا (سورة لقمان : 21)
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی کتاب کی تابعداری کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اس طریقے کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا۔
بالکل اسی طرح آج بھی کسی حنفی سے جب کہا جاتا ہے کہ بھائی اللہ تعالیٰ کا قرآن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث تو یوں کہتی ہے تو وہ جواب میں یہ کہتا ہے کہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو ھدایہ پر عمل کرتے ہوئے پایا ہے اور ہمارے لئے یہی کافی ہے۔ یہی حال قرآن کریم کی زبان سے سنیئے :
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا إِلَى مَا أَنْزَلَ اللَّهُ وَإِلَى الرَّسُولِ قَالُو حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ أَبَاءَنَا (سورة المائدة : 104)
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو احکام نازل فرمائے ہیں ان کی طرف اور رسول کی طرف رجوع کرو تو وہ کہتے ہیں کہ ہم کو وہی کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ہے۔ اب مقلدین کچھ بھی کہہ لیں لیکن اللہ تعالیٰ کا فیصلہ یہی ہے :
فَلا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلَّمُوا تَسْلِيمًا (سورة النساء : 65)
قسم ہے تیرے پروردگار کی یہ ایماندار نہیں ہو سکتے جب تک تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں پھر جو فیصلے آپ ان میں کر دیں ان سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کرلیں۔
یہ آیت بتا رہی ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ سے راضی نہیں ہیں وہ لوگ کبھی مومن نہیں بن سکتے ۔
ان آیات کی روشنی میں آپ خود فیصلہ کریں کہ اب بھی تقلید کے ناجائز ہونے میں کوئی شک ہے۔ کیا اللہ تعالی بغیر دلیل کے دین پر عمل کرنے کا حکم دے رہا ہے یا دلیل کے ساتھ ۔
اللہ تعالیٰ کا تو فرمان ہے :
وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ(سورة الاسراء : 36)
پیچھے مت پڑو اس چیز کے جس کا تمہیں کوئی علم نہیں ہے۔
کیا یہ ساری آیتیں تقلید کا حکم دے رہی ہیں یا تقلید سے منع کر رہی ہیں۔ اب شاید کوئی یہ کہہ دے کہ بھائی ہم تو اپنے علماء کی پیروی کرتے ہیں وہ تو علماء ہی جانتے ہیں۔
اور اللہ تعالیٰ کا فرمان بھی ہے۔
فَاسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (سورة النحل : 43)
اہل علم سے پوچھوا گر تم نہیں جانتے ہو۔
اور علمائے اہل حدیث کے عوام بھی ان سے پوچھتے ہیں اور ان کی تقلید کرتے ہیں ہم پر کیا طعن؟
تو جواب اس کا یہ ہے؟
اگر کسی سے کچھ پوچھنے کا نام تقلید ہے تو پھر آج دنیا میں کوئی بھی حنفی نہیں ہے کیونکہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تو دنیا میں نہیں رہے اور ہر حنفی اپنے اپنے علاقہ کے مفتی یا مسجد کے امام صاحب سے مسئلہ پوچھتا ہے تو پھر وہ اس مفتی یا امام مسجد کا مقلد بن گیا نہ کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا۔
اگر کوئی یہ کہے کہ بھائی ہمارا مفتی یا امام اس کو امام ابو حنیفہ کا مسئلہ ہی بتائے گا۔ اسی لئے وہ اس مفتی یا امام مسجد کا مقلد نہیں ہوگا۔ بلکہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا ہی مقلد رہے گا۔ تو عرض یہ ہے کہ اسی طرح جب کوئی ہم سے مسئلہ پوچھے گا تو ہم اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بتائیں گے اس لئے وہ ہمارا مقلد نہیں ہوگا بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا متبع ہوگا۔
دوسری بات یہ کہ یہ آیت تو خود ہمارے لئے دلیل ہے نہ کہ مقلدین کے لئے کیونکہ اگر کسی کو علم نہ ہو تو وہ پوچھتا ہے پوچھنے کے بعد اسے علم ہو جاتا ہے کیونکہ آیت میں ہے إِن كُنتُمْ لا تَعْلَمُونَ اگر تم کو علم نہ ہوتو پوچھو اور یہ اس لئے تا کہ عمل علم کے مطابق ہو سکے اور یہ علم اس کے عمل پر دلیل ہو۔ حالانکہ تقلید نام ہے بغیر کسی دلیل اور حجت کے اس پر عمل کرنا۔ جیسے پیچھے حوالہ جات کے ساتھ تعریف گزر چکی ہے۔ اسی طرح امام شافعی رحمہ اللہ (فقہ الأکبر) میں تقلید کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں
ومعني التقليد قبول قول من لا يدرى ما قال من أين قال وذلك لا يكون علما (الفقه الأكبر ص : 7)
تقلید کا معنی یہ ہے کہ اس شخص کا قول قبول کر لینا جس کو یہ معلوم نہیں کہ اس نے کیا کہا اور کہاں سے کہا اور یہ چیز علم نہیں ہے۔
تیسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل علم سے ان کی اپنی رائے پوچھنے کو نہیں کہا بلکہ اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کیا ہے؟ پوچھنے کو کہا ہے اور آج کل کوئی بھی حنفی عالم قرآن و حدیث سے فتوی نہیں دیتا بلکہ فتاوی شامی فتاوی دیوبند ھدایہ وغیرہ سے فتوے دیتا ہے حالانکہ مستفتی لکھتا ہے قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیجئے۔ بھلا وہ لوگ قرآن و حدیث کی روشنی میں کیسے جواب دے سکتے ہیں جو قرآن کے علاوہ کسی اور کتاب کو قرآن کا درجہ دیتے ہوں حنفیوں کا کہنا ہے :
إن الهداية كالقرآن قد نسخت من قبلها فى الشرع من كتب (مقدمه الهداية ج 2)
بالیقین ھدایہ قرآن کریم کی مانند ہے اور اس کے سوا شریعت کی تمام کتابیں منسوخ ہو چکی ہیں۔
یعنی حنفیوں کا یہ کہنا ہے کہ جس طرح قرآن سے پہلے تمام کتابیں منسوخ ہو چکی ہیں اور ان پر عمل کرنے والا گمراہ اور ملت اسلام سے خارج ہو گا اس طرح ھدایہ سے پہلے جو کتب تصنیف ہوئی ہیں وہ سب کی سب منسوخ ہیں چاہے وہ بخاری شریف ہو یا مسلم شریف۔ امام مالک رحمہ اللہ کی موطا ہو یا امام شافعی رحمہ اللہ کی کتاب الأم ہو یا امام احمد رحمہ اللہ کی مسند احمد ہو۔ ان کتابوں پر عمل کرنے والا گویا کہ منسوخ شدہ کتب پر عمل کرنے والا ہے اور دین اسلام سے نکلا ہوا ہے۔ یہی بات شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ کی زبان سے سنیے :
وترى العامة سيما اليوم فى كل قطر يتقيدون بمذهب من مذاهب المتقدمين يرون خروج الانسان من مذهب من قلده ولو فى مسألة كالخروج من الملة كأنه نبي بعث اليه وافترضت طاعته عليه وكان أوائل الأمة قبل المائة الرابعة غير متقيدين بمذهب واحد. (التفهيمات الالهية ج 1 ص 206، حجة الله البالغة ج 1 ص 445)
عام لوگ خاص طور پر آج کل ہر جگہ میں متقدمین کے کسی ایک مذہب کے پابند نظر آئیں گے ۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ کسی انسان کا اپنا مذہب جس کی وہ تقلید کرتا ہے اس سے نکلنا چاہے کسی بھی ایک مسئلہ میں کیوں نہ ہو گویا کہ دین اسلام سے نکل جانا ہے وہ اپنے امام کو گویا ایک بھیجا ہوا نبی سمجھتے ہیں اور اس امام کی اطاعت اس پر فرض کی گئی گردانتے ہیں ۔ حالانکہ امت کے پہلے لوگ چوتھی صدی سے پہلے کسی ایک مذہب کے پابند نہیں تھے۔
اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا حنفی حضرات ہر اس شخص پر لعنت بھیجتے ہیں جو امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے قول کو رد کردے۔
فلعنة ربنا أعداد رمل على من رد قول أبى حنيفة رحمه الله (رد المحتار ج 1 ص 23)
اس شخص پر ریت کے ذروں کے برابر ہمارے رب کی طرف سے لعنت ہو جو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے قول کو رد کردے۔
آئیے اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ کن کن حضرات نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے قول کو رد کیا ہے جن پر احناف دن رات لعنت بھیجنے پر تلے ہوئے ہیں۔ امام مالک رحمہ اللہ (179ھ ) ، امام محمد رحمہ اللہ (189ھ ) ، امام شافعی رحمہ اللہ (204ھ ) ، امام ابو یوسف رحمہ اللہ (208ھ ) ، امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ (241ھ )، امام بخاری رحمہ اللہ (256ھ ) ، امام نسائی رحمہ اللہ (303ھ )، امام طحاوی رحمہ اللہ (321ھ ) ، امام ابن حزم رحمہ اللہ (456ھ )، امام ابن عبد البر رحمہ اللہ (463ھ )، امام نووی رحمہ اللہ (676ھ )، امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ )۔
اور بھی بے شمار حضرات نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے کئی اقوال کو رد کیا ہے قارئین کرام سلف صالحین پر لعنت بھیجنا ہی احناف کی بزرگی اور دینداری ہے۔
جب کہ نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جب میری امت میں پندرہ خصلتیں پائی جائیں گی تو ان پر اللہ تعالی کا عذاب نازل ہوگا اور ان میں سے ایک :
اذا لعن آخر هذه الأمة أولها (ترمذی رقم حدیث 2210، ابن ماجہ)
جب اس امت کے آخر میں آنے والے لوگ پہلوں پر لعنت بھیجنے لگیں گے۔
ایک دوسری جگہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :
ومن لعن مؤمنا فهو كقتله (بخارى كتاب الأدب باب 44 رقم الحدیث 6047)
جس نے کسی مسلمان پر لعنت بھیجی گویا کہ اس نے اس کو قتل کر دیا۔
بلکہ دنیا میں سب سے بد بخت لوگ وہ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام کی زبانی لعنت کی۔ جیسا کہ بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ نے داؤد علیہ السلام اور عیسی علیہ السلام کی زبانی لعنت کی ہے جس کو قرآن کریم میں ذکر کیا ہے :
لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى لِسَانِ دَاوُدَ وَعِيسَى بْنِ مَرْيَمَ (سورة المائدة 78)
اور یہ شرف صرف اور صرف احناف کو حاصل ہے کیوں کہ چاروں مذہبوں میں سے صرف احناف ہی حلالہ کے قائل ہیں جس کے کرنے اور کروانے والے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے۔
عن ابن مسعود رضى الله عنه قال لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم المحلل والمحلل له (رواه الترمذي وقال حديث حسن صحيح رقم الحديث 1120 ، وأبو داود حديث 2076 وابن ماجه والدارمي)
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ کرنے اور کروانے والے دونوں پر لعنت بھیجی ہے۔
احناف کی بد دعا تو یقینا آج تک کسی کو نہیں لگی ہوگی لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بد دعا تا قیامت تک لگتی رہے گی۔
قارئین کرام ! یہ ہے مقلدین کا اماموں کو ماننے کا طریقہ اور احترام کا طریقہ۔ چلیں آگے چلتے ہیں۔ اگر تھوڑی دیر کے لئے مان بھی لیا جائے کہ :
فَاسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (سورة النحل : 43)
سے تقلید ثابت ہوتی ہے تو آئیے دیکھیں اس آیت کے بارے میں حضرات احناف کا کیا خیال ہے :
فَإِنْ كُنْتَ فِي شَكٍّ مِمَّا أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ فَاسْئَلِ الَّذِيْنَ يَقُرَأَوْنَ الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكَ(سورة يونس : 94)
اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ ہم نے آپ کی طرف نازل کیا ہے اس میں اگر آپ کو کسی قسم کا شک ہو تو آپ پوچھ لیجئے ان لوگوں سے جو کتاب (تورات اور انجیل) پڑھتے ہیں۔
کیا یہاں پر بھی احناف یہی کہیں گے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ نے یہودو نصری کی تقلید کا حکم کیا ہے اگر ایسا نہیں بلکہ یقیناً ایسا نہیں تو فاسئل کا معنی احناف (تقلید) نہیں لے سکتے اور ہرگز نہیں لے سکیں گے۔ القرآن : يفسر بعضه بعضا قرآن کی آیت ایک دوسرے کی تفسیر کرتی ہے تو پتہ چلا کہ یہاں پر فَاسْئَلُوا کا معنی تحقیق ہے نہ کہ تقلید جس کا دعوی احناف اور دیگر مقلدین بھی کرتے ہیں۔ اور یہ معنی ہم نے اپنی طرف سے نہیں گھڑا۔ آیت کا ما قبل بتارہا ہے۔
وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالا نُوحِي إِلَيْهِمُ فَاسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ(سورة النحل : 43)
آپ سے پہلے ہم نے مردوں کے علاوہ کسی کو نبی بنا کر نہیں بھیجا جن کی طرف ہم وحی بھیجتے رہیں پس اس چیز کا اگر تم کو علم نہ ہو تو اہل علم سے پوچھ لو یعنی تحقیق کرلو۔
اور اگر یہاں پر فَاسْئَلُواسے مراد تقلید لیں گے تو پھر معنی یہ بنے گا کہ اگرمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے میں تمہیں کوئی شک ہو تو اہل علم یعنی اہل کتاب یہود و نصاری کی تقلید کرو۔ حالانکہ آیت کا یہ مطلب کسی بھی مفسر نے نہیں لیا جبکہ موسیٰ علیہ السلام کو بھی قرآن کریم کی موجودگی میں تو رات پر عمل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اللـهـم اهـــد قومي فانهم لا يعلمون.
اِبطال (رد) تقلید کے لئے اقوال صحابہ :۔
اب آئیے دیکھتے ہیں تقلید کے بارے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی کیا رائے تھی۔
وعن ابن مسعود رضى الله عنه قال لا يقلد احدكم دينه رجلا ان آمن آمن وإن كفر كفر. (ارشاد الفحول ج 2 ص 357 اعلام الموقعين ج 2 ص 168)
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا ہے کہ تم میں سے کوئی آدمی اپنے دین کے بارے میں کسی آدمی کی تقلید نہ کرے کہ جب وہ کسی بات پر ایمان لاتا ہے تو وہ بھی ایمان لاتا ہے جب وہ کسی بات کا انکار کرتا ہے تو وہ بھی انکار کرتا ہے۔
وقال ابن عباس رضى الله عنه يوشك ان تنزل عليكم حجارة من السماء أقول! قال رسول الله صلى الله عليه وسلم وتقولون قال ابو بكر و عمر (زاد المعاد ج 2، ص 195)
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے قریب ہے کہ تم لوگوں پر آسمان سے پتھر برسیں میں تم سے کہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور تم مجھے کہتے ہو ابو بکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے۔
آج بھی بالکل یہی حال مقلدین کا ہے جب امام سے کوئی بات منقول نہ ہو تو وہ اس بات کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے اسی طرح کوئی بات اگر حدیث کے خلاف امام سے منقول ہو پھر اسے چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہوتے۔ الٹا کہتے ہیں کیا ہمارے امام کو یہ حدیث نہیں ملی تھی ؟ جب انہوں نے اس حدیث کو نہیں لیا تو ہم کیوں لیں۔ بالفاظ دیگر یعنی ہمارے امام سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بھی حدیث نہیں چھوٹی۔ اب ان سے کوئی پوچھے کیا آپ کے امام نے ایک لاکھ چوبیس ہزار کم و بیش تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ملاقات کی تھی؟ اگر کہتے ہو کہ کی تھی تو یہ جھوٹ روزِ روشن کی طرح واضح ہے اور اگر کہتے ہو کہ نہیں کی تھی اور یقینا نہیں کی تھی تو پھر یہ مانا پڑے گا کہ تمام حدیثیں بھی ان کو نہیں ملی تھیں تو پھر سوال یہ ہوگا کہ جو حدیثیں آپ کے مسلک کے خلاف امام مالک رحمہ اللہ کے پاس ہیں یا امام شافعی رحمہ اللہ کے پاس ہیں یا امام احمد ابن حنبل رحمہ اللہ کے پاس ہیں یا امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ اور دیگر محدثین کے پاس ہیں انہوں نے اپنی طرف سے گھڑی ہیں یا ان کو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے کوئی دشمنی تھی یا ان کے خلاف اپنا مذہب اور جماعت تیار کرنا مقصود تھا حالانکہ صحیح حدیث کے مقابلہ میں کسی صحابی کا فعل بھی حجت نہیں ہے۔
یہ بات ہم اپنے طرف سے نہیں کر رہے ہیں بلکہ جلیل القدرصحابی کی زبان سے سنیں۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کسی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں :
قال عبد الله بن عمر: أرأيت ان كان أبى نهى عنها وصنعها رسول الله صلى الله عليه وسلم أأمر أبى يتبع أم أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال الرجل بل أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال : لقد صنعها رسول الله صلى الله عليه وسلم (رواه الترمذى فى باب ماجاء في التمتع رقم الحديث 824)
تو مجھے بتا اگر اس کام سے میرے والد نے منع کیا ہو اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کیا ہو بتا کس کی اتباع کرنی چاہئے؟ میرے والد کی یا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی؟ تو اس نے کہا بیشک اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی جائے گی۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تو پھر سن لے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کام کو کیا ہے۔
اس سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نزدیک بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے سامنے کسی صحابی کا قول یا فعل حجت نہیں تھا۔
تقلید کے رد میں احناف کے اقوال :۔
صاحب مسلم الثبوت لکھتے ہیں:
إذلا واجب إلا ما أوجبه الله ولم يوجب على أحد أن يتمذهب بمذهب رجل من الائمة (مسلم الثبوت ص 355 ج 2) أجمع المحققون على منع العوام من تقليد الصحابة (مسلم الثبوت ج 2 ص 256)
عمل وہی واجب ہے جو اللہ نے واجب کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے کسی پر بھی کسی امام کے مذہب کو واجب نہیں کیا۔
محققین کا اس بات پر اجماع ہے کہ عوام کے لئے صحابہ رضی اللہ عنہم کی تقلید کرنا جائز نہیں ہے۔ ان کی تقسیم عجیب ہے امام کی تقلید کو تو اپنے اوپر فرض سمجھتے ہیں اور جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم علم اور تقویٰ میں امام سے کئی گنا بڑھ کر ہیں ان کی تقلید سے عوام کو منع کرتے ہیں۔ تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَىٰ تقسيم یہ تسیم تو بڑی ظالمانہ ہے۔
ملا علی قاری حنفی لکھتے ہیں :
ان الله لم يكلف أحدا أن يكون حنفيا أو مالكيا أو شافعيا أو حنبليا بل كلفهم أن يعملوا بالسنة (شرح عين العلم ص 322)
اللہ تعالیٰ نے کسی کو اس بات کا مکلف نہیں بنایا کہ وہ حنفی یا شافعی یا مالک یا حنبلی بنے بلکہ اللہ تعالی نے سب کو سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرنے کا مکلف بنایا ہے۔
اب آئیے دیکھتے ہیں کیا خود امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے اپنی تقلید کا حکم دیا ہے یا نہیں۔
سئل أبو حنيفة إذا قلت قولا وكتاب الله يخالفه قال أتركوا قولى بكتاب الله قال إذا قلت قولا وحديث رسول الله صلى الله عليه وسلم يخالفه قال اتركوا قولى بخبر الرسول عقد الجيد ص : 45
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ اگر آپ کا کوئی قول اللہ تعالیٰ کی کتاب کے خلاف ہو تو کیا کریں فرمایا میرے قول کو چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ کی کتاب کو لے لینا پھر کہا اگر آپ کا قول اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے خلاف ہو تو ؟ فرمایا اسی طرح میرے قول کو چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو لے لینا۔
اب دیکھتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ خود بھی کسی کی تقلید کرتے تھے یا نہیں۔
اني لا اقلد التابعى لأنهم رجال ونحن رجال ولا يصح تقليدهم (نور الأنوار ص 219)
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا فرمان ہے میں کسی تابعی کی تقلید نہیں کرتا کیونکہ وہ بھی ہماری طرح انسان ہیں اور انکی تقلید صحیح نہیں ہے۔
اسی طرح علامہ شامی حنفی لکھتے ہیں :
إذا صح الحديث وكان على خلاف المذهب عمل بالحديث ويكون ذلك مذهبه ولا يخرج مقلده عن كونه حنفيا بالعمل به فقد صح عن ابي حنيفة أنه قال اذا صح الحديث فهو مذهبي (شرح عقود رسم المفتى لابن عابدين ص 19)
جب صحیح حدیث ملے اور وہ حدیث ہمارے مذہب کے خلاف ہو پھر حدیث ہی پر عمل کیا جائے گا اور وہی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا مذہب ہوگا اور اس صحیح حدیث پر عمل کرنے کی وجہ سے کوئی حنفیت سے نہیں نکلے گا کیونکہ امام صاحب کا فرمان ہے کہ جب حدیث صحیح ہو تو وہی میرا مذہب ہوگا۔
اس طرح اور آگے جا کر لکھتے ہیں :
فاذا ظهر له صحة مذهب غير إمامه فى واقعة لم يجزله أن يقلد إمامه(شرح عقود رسم المفتى ص 24)
اگر کسی کے لئے اپنے امام کے علاوہ کسی اور امام کا مسلک صحیح ظاہر ہو جائے چاہے کسی بھی واقعہ میں ہو تو پھر اس کو اپنے امام کی تقلید کرنی جائز نہیں ہے۔
یہ تمام باتیں دلائل کے ساتھ پڑھنے کے بعد بھی اگر کسی مقلد کو تسلی نہ ہو اور اپنی اس تقلید سے توبہ نہ کرے تو پھر ہم اس کے بارے میں وہی کہیں گے جو کچھ علامہ عبدالحی لکھنوی حنفی رحمہ اللہ نے کہا ہے :
قد تعصبوا فى الحنفية تعصبا شديدا والتزموا بما فى الفتاوى التزاما شديدا وان وجدوا حديثا صحيحا أو أثرا صريحا على خلافه وزعموا أنه لو كان هذا الحديث صحيحا لأخذ صاحب المذهب ولم يحكم بخلافه وهذا جهل منهم(النفع الكبير ص : 145)
احناف کی ایک جماعت سخت تعصب میں مبتلا ہے اور سختی سے کتب فتاویٰ کے ساتھ چمٹی ہوئی ہے اور اگر ان لوگوں کو کوئی صحیح حدیث یا کوئی صریح اثر مل جاتا ہے جو ان کے مذہب کے خلاف ہو تو وہ یہ کہتے ہیں کہ اگر یہ حدیث صحیح ہوتی تو امام صاحب ضرور اس کے مطابق فتویٰ دیتے اور اس کے خلاف فیصلہ نہ دیتے اور یہ ان لوگوں کی جہالت ہے۔
آئمہ سلف کا مذہب :۔
اب بھی شاید کسی کے دل میں یہ اعتراض پیدا ہو کہ اگر تقلید کے بارے میں ان بڑی بڑی ہستیوں کا یہ خیال ہے اور یہ فتویٰ ہے تو پھر انہوں نے تقلید کیوں کی؟
تو آئیے آپ کو ہم بتاتے ہیں کہ وہ تقلید کرتے تھے یا نہیں؟ یاد رہے کہ یہ جو کہا جاتا ہے کہ فلاں حنفی تھا یا مالکی تھا یا شافعی تھا یا حنبلی تھا اس کا بالکل یہ مطلب نہیں کہ وہ تقلید کرتے تھے بلکہ ہر کوئی اپنی اپنی دلیل اور اجتہاد کے مطابق چلتے تھے اگر کوئی یہ سوال کرے کہ پھر ان کو حنفی کیوں کہتے تھے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ ان کا طرز استدلال اور استنباط بالکل وہی تھا جو ان کے بزرگوں کا تھا اور ان کے اساتذہ کا تھا اس لئے ان کو حنفی کہا جاتا ہے۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ ہر بات میں ان کی تقلید کرتے تھے۔ مثلاً امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے سب سے بڑے شاگرد امام ابو یوسف رحمہ اللہ اور امام محمد رحمہ اللہ تھے اور یہ اس معنی میں حنفی تھے کہ انہوں نے اس مکتب سے تعلیم حاصل کی تھی جس کے سربراہ اور جس کے مؤسس امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تھے۔ اس معنی میں حنفی نہیں تھے کہ وہ ان کی تقلید کرتے تھے کیونکہ مقلد کیلئے اپنے امام کی بات کو رد کرنا کسی صورت میں درست نہیں ہے۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے اپنے استاد امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے ساتھ دو تہائی مسائل میں اختلاف کیا ہے اسی طرح امام مالک رحمہ اللہ، امام شافعی رحمہ اللہ، امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ اجمعین کے مکتب اور مدرسہ سے تعلق رکھنے والے کی اپنے اپنے امام کی طرف نسبت کی جاتی ہے۔
مگر مقلدین نے کسی کو بھی معاف نہیں کیا بلکہ ہر ایک کے گلے میں تقلید کا پھندا ڈالتے گئے۔ یہاں تک کہ شاگردوں کو بھی اپنے اپنے اساتذہ کا مقلد بنا دیا ہے۔ حالانکہ ان میں سے کسی نے بھی اپنے آپ کو حنفی یا شافعی یا مالکی یا حنبلی نہیں لکھا ہے اور اگر ان کے شاگردوں کے اپنے اساتذہ کے ساتھ جو اختلافات ہوئے ہیں ان مسائل کو جمع کیا جائے تو کئی ضخیم جلدیں تیار ہو جائیں۔ آپ خود ہی دیکھ لیں کہ جن کو یہ مقلدین حنفی یا شافعی کہتے ہیں وہ خود اپنے بارے میں کیا لکھتے ہیں۔
علامہ شامی لکھتے ہیں:
الأئمة الشافعية كالقفال والشيخ ابن على والقاضي حسين رحمه الله أنهم كانوا يقولون لسنا مقلدين للشافعي رحمه الله بل وافق رأينا رأيه ويقال مثله فى أصحاب أبى حنيفة مثل أبى يوسف رحمه الله ومحمد رحمه الله بالأولى وقد خالفوه فى كثير من الفروع(عقود رسم المفتى ص : 25)
علماء شوافع مثالاً قفال، شیخ ابن علی اور قاضی حسین رحمہ اللہ ان سب کا یہ کہنا ہے کہ ہم امام شافعی رحمہ اللہ کے مقلد نہیں ہیں بلکہ ہماری رائے ان کی رائے کے موافق ہوگئی ہے اور اسی طرح امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے شاگردوں کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے مثال کے طور پر ابو یوسف رحمہ اللہ اور محمد رحمہ اللہ کیونکہ انہوں نے اکثر مسائل میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی مخالفت کی ہے۔
اس طرح امام طحاوی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب شرح معانی الآثار میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے بے شمار مسائل رد کئے ہیں۔
قال الطحاوى لا بن حربويه لا يقلد الا عصبي أو غبي(عقود رسم المفتی ص : 22)
امام طحاوی رحمہ اللہ امام ابن حربویہ سے کہتے ہیں تقلید تو متعصب یا بے وقوف ہی کرتا ہے۔
اسی طرح روح المعانی کے مصنف علامہ الوسی حنفی لکھتے ہیں :
ان كان للضلالة أب فالتقليد أبوها(روح المعانی ج 1 ص 97)
اگر گمراہی کا کوئی باپ ہے تو تقلید اس کا باپ ہے۔
اسی طرح امام نووی الشافعی رحمہ اللہ نے (جو کہ اعتدال میں نمونہ تھے) امام شافعی رحمہ اللہ کے بہت سارے مسائل جو صحیح احادیث کے خلاف تھے ان کو چھوڑ کر صحیح احادیث کو اپنا مسلک بنایا ہے دیکھ لیں (المجموع للنووی) اور لکھتے ہیں یہی امام شافعی رحمہ اللہ کا مسلک ہے کیونکہ امام شافعی رحمہ اللہ کا فرمان ہے : اذا صح الحديث فهو مذهبي جب صحیح حدیث ملے تو وہی میرا مذہب ہے۔ جبکہ آج کل کے احناف کے نزدیک اگر کوئی شخص امام کے قول کو چھوڑ کر صحیح حدیث پر عمل کرے تو وہ راہ راست سے ہٹ جاتا ہے اور لعن طعن کا مستحق بن جاتا ہے جو کسی سے مخفی نہیں ہے۔
اس سے بڑھ کر تو یہ ہے کہ صحیح حدیث کو توڑ مروڑ کر اپنے مذہب کے تابع بنا دیتے ہیں ایمان کا تقاضہ تو یہ تھا کہ مذہب کو صحیح حدیث کے تابع بناتے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :
لا يؤمن أحدكم حتى يكون هواه تبعا لما جئت به(رواه البغوی في شرح السنة والنووی في الأربعين وقال هذا حديث حسن رقم الحديث 41 وهو صحيح معناً)
تم میں سے کوئی بھی ایمان والا نہیں بن سکتا جب تک اس کی تمام خواہشات میرے لائے ہوئے دین کے تابع نہ ہو جائیں۔
اور اس جرم عظیم کا اقرار احناف کے بڑے بزرگ علماء نے بھی کیا ہے جن میں سے مولانا اشرف علی تھانوی صاحب بھی ہیں لکھتے ہیں :
بعض مقلدین نے اپنے ائمہ کو معصوم عن الخطاء ومصیب وجوباً مفروض الاطاعت تصور کر کے عزم بالجزم کیا ہے کہ خواہ کیسی ہی حدیث صحیح مخالف قول امام صاحب کے ہو اور مستند قول امام کا بجز قیاس کے امر دیگر نہ ہو پھر بھی بہت سے علل و خلل حدیث میں پیدا کر کے یا اس کی تاویل بعید کر کے حدیث کو رد کر دیں گے اور قول امام کو نہ چھوڑیں گے۔ ایسی تقلید حرام اور بمصداق قولہ تعالیٰ :
اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ(فتاوی امدادیہ ج 4 ص 90)
اور خلاف وصیت ائمہ مرحومین کے ہیں۔
علامہ کرخی حنفی کا قرآن وحدیث کے مقابلہ میں اصول گھڑنا :۔
قرآنی آیات اور حدیثوں کی تاویلات کر کے اپنے مذہب کے تابع بنانا حنفیوں کا بنیادی اصول ہے۔ اس سے بڑھ کر حنفی علماء نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ جو آیت اور حدیث ہمارے مذہب کے خلاف ہوگی وہ آیت یا وہ حدیث بھی منسوخ ہے۔ دیکھئے لکھتے ہیں :
إن كل آية تخالف قول أصحابنا فانها تحمل على النسخ أو على الترجيح والأولى ان تحمل على التأويل من جهة التوفيق(اصول الكرخي ص 8)
ہر وہ آیت جو ہمارے فقہاء کے قول کے خلاف ہوگی اسے یا تو نسخ پر محمول کیا جائے گا یا ترجیح پر محمول کیا جائے گا اور بہتر یہ ہے کہ اس آیت کو تاویل پر محمول کیا جائے تاکہ توافق ظاہر ہو جائے۔
اسی طرح لکھتے ہیں :
ان كل خبر يجيء بخلاف قول أصحابنا فانه يحمل على النسخ أو أنه معارض بمثله(اصول الكرخي ص 29)
بیشک ہر اس حدیث کو جو ہمارے اصحاب (یعنی فقہاء احناف) کے خلاف ہوگی نسخ پر محمول کی جائے گی یا یہ سمجھا جائے گا کہ یہ حدیث اس جیسی کسی دوسری حدیث سے خلاف ہے۔

بالکل یہی اصول کفار قریش نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا تھا کہ جو کچھ قرآن میں ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اس کو منسوخ کر دو یعنی مٹا دو پھر ہم تمہاری بات مانیں گے اور تم پر ایمان لائیں گے۔ اعاذنا الله من مثل هذا التحريف.
میر محمد صاحب کا فرشتوں کو آدم علیہ السلام کا مقلد قرار دینا :۔
اب آئیے ہم اپنی بحث کی طرف لوٹتے ہیں جس میں میر محمد ربانی صاحب نے ابلیس ملعون کو غیر مقلد ثابت کیا ہے لکھتے ہیں۔
جب آدم علیہ السلام اپنے وقت کے خلیفہ بمعنی امام اعظم ثابت ہوئے تو ان کی تقلید واطاعت کرنے والے فرشتگان تھے اور مقلدین آدم علیہ السلام کے نام سے موسوم ہوئے اور پہلے مقلدین قرار پائے اور ان کی تقلید واطاعت سے بھاگنے والا ابلیس تھا جو پہلا غیر مقلد بن کر سامنے آیا۔ بعینہ اسی طرح امت محمدیہ کے امام اعظم جناب ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی تقلید واتباع سے بھاگنے والوں کے نام غیر مقلدین ہے جو ابلیس لعین کی تقلید اتباع کو بخوشی اور عمداً اپناتے ہیں لیکن امام اعظم کی تقلید سے گھبراتے ہیں اور احناف کرام امام اعظم کے مقلدین ہیں اور فرشتگان کی مانند اپنے امام اعظم کی تقلید کو اپنانے والے ہیں اب نتیجہ اور خلاصہ کلام یہ رہا کہ امام اعظم کا منکر یا ابلیس ہے یا ابلیس کا یار ہے اور ان کا مقلد یا فرشتہ ہے یا فرشتوں کا پیروکار ہے۔
جواب :
پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ نے آدم علیہ السلام کو خلیفہ یعنی امام اعظم مان لیا ہے تو دیکھیے خلیفہ کسے کہتے ہیں؟
الخليفة: الامام الذى ليس فوقه إمام
خلیفہ کہتے ہیں اس امام کو جس کے اوپر کوئی اور امام نہ ہو۔
پھر آپ نے ابوحنیفہ رحمہ اللہ کو امام اعظم کیسے مانا۔ کیا ان کے حق میں بھی کوئی قرآنی آیت نازل ہوئی ہے کہ امام اعظم ابوحنیفہ ہیں جیسے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا(سورة البقرة : 124)
کہ میں آپ کو لوگوں کا امام بنانے والا ہوں۔
تو جب آپ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو بنا دیا تو ثابت ہوا کہ آپ نے آدم علیہ السلام کی امامت کو نہیں مانا۔ پھر تو ابلیس کے یار آپ بھی بن گئے ہیں اور غیر مقلد بن کر ظاہر ہوئے۔
پھر آپ نے لکھا ہے کہ اس کی (یعنی آدم علیہ السلام) کی تقلید واطاعت کرنے والے فرشتگان تھے اور مقلدین آدم علیہ السلام کے نام سے موسوم ہوئے۔ عجیب بات ہے دعویٰ تو آپ کا عالم اور حکیم ہونے کا ہے اور غلطی اتنی بڑی کی ہے کہ علم و حکمت کا جنازہ نکال دیا۔ آپ کو اتنی بھی خبر نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو زمین والوں کے لئے خلیفہ بنا کر بھیجا ہے نہ کہ آسمان والوں کے لئے کہ فرشتے بھی ان کی تقلید اور اطاعت کے مکلف ہوں۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ آپ قرآن شریف کی تفسیر سے بھی ناواقف ہیں تو دیکھئے :
وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً(سورة البقرة : 30)
اور جب آپ کے رب نے کہا فرشتوں سے کہ میں زمین پر اپنا نائب بنانے والا ہوں۔
صاحب جلالین اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں :
يخلفني فى تنفيذ أحكامي فيها وهو آدم(تفسير الجلالين ص : 8)
جو زمین میں میرے احکام کو نافذ کرنے میں میرا نائب بنے گا وہ آدم علیہ السلام ہوگا۔
دوسری بات یہ کہ آپ نے فرشتوں کو آدم علیہ السلام کا مقلد قرار دیا جبکہ آدم علیہ السلام فرشتوں کے امام نہیں تھے جیسے کہ اوپر کی آیت سے ثابت ہو چکا۔ وہ سجدہ جو کہ فرشتوں نے آدم علیہ السلام کو کیا تھا وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے تھا نہ کہ آدم علیہ السلام کے حکم سے۔
تقلید کے نشہ میں آپ اتنے مدہوش ہو گئے ہیں کہ فرشتوں کے گلے میں بھی تقلید کا پھندا ڈال دیا۔ اور آگے جا کر آپ نے موسیٰ علیہ السلام کو خضر علیہ السلام کا مقلد بنا دیا ہے یعنی فرشتے بھی مقلد ہوئے، انبیاء کرام بھی مقلد ہوئے اور امام صرف ابو حنیفہ رحمہ اللہ ہیں۔ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ جب کوئی ابوحنیفہ رحمہ اللہ کو مقلد کہہ دے تو آپ کو برا لگتا ہے اور ادھر سے آپ نے فرشتوں سے لے کر انبیاء تک کو مقلد بنا دیا ہے ہمیں تو یہ خوف ہونے لگا کہ کہیں آپ لوگ آگے جا کر اللہ رب العزت کو بھی کسی کا مقلد نہ قرار دے دیں۔ نعوذ بالله من همزاتكم
اور پھر آپ نے لکھا ہے کہ (یہ فرشتے پہلے مقلدین قرار پائے) تو سوال آپ سے یہ ہے کہ ان کو مقلدین آدم علیہ السلام قرار دینے والے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں یا آپ ہیں؟ اگر آپ ہیں تو آپ کی بات کسی پر حجت نہیں ہے۔ اس لئے ہمارا آپ سے وہی مطالبہ ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے :
قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ(سورة البقرة : 111)
اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو تو دلیل لاؤ۔
پھر آپ نے کہا کہ (اس کی تقلید واطاعت سے بھاگنے والا ابلیس تھا) تو آپ جان لیں کہ آدم علیہ السلام نے ابلیس کو کوئی حکم نہیں دیا تھا جس کی وہ تقلید واطاعت کرتا۔ اور یہ آپ کی سینہ زوری یا علمی خیانت ہے کہ ابلیس آدم علیہ السلام کی تقلید واطاعت سے بھاگا ہے بلکہ ابلیس اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے بھاگا ہے۔ قرآن میں نظر ڈالیں تو پتہ چل جائے گا کہ آپ کی بات کہاں تک درست ہے۔ قال تعالیٰ : فَفَسَقَ عَنْ أَمْرِ رَبِّهِ پس (ابلیس) اپنے رب کی اطاعت سے نکل گیا۔ اور اگر آپ کا یہ دعویٰ ہے کہ کسی کو سجدہ کرنا اس کی اطاعت و تقلید کرنا ہے تو یہ دعویٰ بھی آپ کا غلط ہوگا کیونکہ یوسف علیہ السلام کے بارے میں آتا ہے : وَخَرُّوا لَهُ سُجَّدًا یعنی یوسف علیہ السلام کے لئے ان کے والدین اور تمام بھائی سجدے میں گر گئے۔ اور اس کا قائل کوئی نہیں ہے کہ یعقوب علیہ السلام اپنے بیٹوں سمیت یوسف علیہ السلام کی تقلید کرتے تھے۔ فافهم ولا تكن من الغافلين
میر محمد ربانی صاحب کا ابلیس کو پہلا غیر مقلد قرار دینا :۔
موصوف لکھتے ہیں کہ ”ابلیس پہلا غیر مقلد بن کر سامنے آیا۔“
تو آپ جان لیں کہ حقیقت یہ ہے کہ ابلیس ہی سب سے پہلا مقلد بن کر منظر عام پر آیا وہ اس لئے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو پس پشت ڈال کر اپنی نفسانی خواہش کی تقلید کی۔ تو آئیے ہم قرآن حکیم سے پوچھتے ہیں کہ کیا واقعی اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی یا اپنی خواہش کی تقلید کی۔
پہلی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
فَفَسَقَ عَنْ أَمْرِ رَبِّهِ
ابلیس اپنے رب کی اطاعت سے نکل گیا۔
تو پتہ چلا کہ ابلیس نے اپنے رب کی اطاعت نہیں کی اور گمراہ ہوا بلکہ سب سے بڑا گمراہ ہوا۔
دوسری دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوَاهُ بِغَيْرِ هُدًى مِنَ اللَّهِ(سورة القصص : 50)
اس سے بڑا گمراہ کون ہو سکتا ہے جس نے اپنی خواہش کی تقلید اور تابعداری کی بغیر اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے۔
تیسری دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَٰهَهُ هَوَاهُ وَأَضَلَّهُ اللَّهُ عَلَىٰ عِلْمٍ(سورة الجاثية : 23)
کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو اپنا رب بنا لیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو علم ہونے کے باوجود گمراہ کر دیا۔
تو یہ بات ہمارے لئے ان دلائل کی رو سے دن کی روشنی کی طرح واضح ہوگئی کہ ابلیس ہی پہلا شخص تھا جس نے اپنی نفسانی خواہش کو رب بنا لیا تھا اور پھر اس کی تقلید کی اور پہلا مقلد بن کر منظر عام پر آیا۔ تو ہماری بھی احناف سے وہی نصیحت ہے جو نصیحت اللہ رب العزت نے تمام انسانیت کو کی ہے :
اتَّبِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ(سورة الأعراف : 3)
تم لوگ اس کی اتباع کرو جو تمہارے رب کی طرف سے آئی ہے اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسرے رفیقوں کی اتباع مت کرو تم لوگ بہت ہی کم نصیحت مانتے ہو۔
وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِنْ شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّهِ(سورة الشورى : 10)
اور جس میں تمہارا اختلاف پڑ جائے پس لے جاؤ فیصلہ اس کا اللہ کی طرف۔
وقال تعاليٰ: وَلَا تَتَّبِعُوا أَهْوَاءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوا مِنْ قَبْلُ وَأَضَلُّوا كَثِيرًا وَضَلُّوا عَنْ سَوَاءِ السَّبِيلِ(سورة المائدة : 77)
اور ان لوگوں کی نفسانی خواہشوں کی پیروی نہ کرو جو پہلے سے بہک چکے ہیں اور بہتوں کو بہکا چکے ہیں اور سیدھی راہ سے ہٹ گئے ہیں۔
وقال تعالىٰ : وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُمْ بَعْدَ الَّذِي جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَكَ مِنَ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ(سورة البقرة : 120)
اگر آپ نے علم آنے کے باوجود بھی ان کی خواہشات کی پیروی کی تو پھر اللہ کی طرف سے نہ کوئی کارساز ہوگا اور نہ مددگار۔
اور یہ بات دن کی روشنی کی طرح واضح ہے کہ ابلیس کو علم بھی تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے (آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنا) لیکن پھر بھی اس نے اپنی خواہش کی تقلید کی اور گمراہ ہوا۔
میر محمد صاحب کہتے ہیں کہ مقلدین فرشتوں کی مانند اور غیر مقلدین ابلیس کی مانند ہیں۔ اب بات ظاہر ہو گئی ہے کہ مقلدین فرشتوں کی مانند ہیں یا ابلیس ملعون کی مانند ہیں جو سب سے پہلے اپنے نفس کی تقلید کر کے مقلد ثابت ہوا۔
میر محمد صاحب آگے جاکر لکھتے ہیں غیر مقلدین جو ابلیس لعین کی تقلید واتباع کو بخوشی اور عمداً اپناتے ہیں لیکن امام اعظم کی تقلید سے گھبراتے ہیں۔
میں کہتا ہوں مقلدین جو ابلیس لعین کی تقلید واتباع کو بخوشی اور عمداً اپناتے ہیں لیکن اس ہستی کی اتباع وپیروی سے بھاگتے ہیں جس کو رب کائنات نے تمام امت کا امام اعظم بلکہ امام الانبیاء بنایا ہے اور اس کی پیروی کرنے کا حکم دیا ہے جس کی گواہی خود قرآن پاک دے رہا ہے :
وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنْزَلَ اللَّهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا(سورة لقمان : 21)
جب ان سے کہا جائے کہ اتباع کرو اس کی جو کچھ اللہ تعالیٰ نے نازل کیا تو وہ جواب میں کہتے ہیں ہم تو اتباع کریں گے اسی کی جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا۔
اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا إِلَىٰ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ وَإِلَى الرَّسُولِ قَالُوا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا(سورة المائدة : 104)
اور جب کہا جائے ان سے آؤ اس کی طرف جو کچھ اللہ تعالیٰ نے نازل کیا (قرآن) اور رسول کی طرف (حدیث) تو وہ جواب میں کہتے ہیں ہمارے لئے وہی کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا۔
تو آئیں ہم یہی سوال اللہ تعالیٰ سے کرتے ہیں کہ جو آپ کے پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کو نہیں مانتے اور امام کے قول کے ساتھ چمٹ جاتے ہیں اور آپ کی پکار پر لبیک نہیں کہتے آپ کی حدیثوں پر تب تک عمل نہیں کرتے جب تک امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا تصدیق نامہ نہ ہو اور ان کی رائے کے مطابق نہ ہو کیا یہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کر رہا ہے یا شیطان کی تقلید کر رہا ہے؟
اللہ تعالیٰ کا جواب :
فَإِنْ لَمْ يَسْتَجِيبُوا لَكَ فَاعْلَمْ أَنَّمَا يَتَّبِعُونَ أَهْوَاءَهُمْ(سورة القصص : 50)
اگر یہ لوگ آپ کی بات نہیں مانتے تو اس بات کا یقین کر لیں کہ یہ صرف اپنی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں۔
تو پتہ چلا کہ یہ مقلدین کا پرانا مرض ہے کہ جب بھی کتاب وسنت کی طرف ان کو بلایا جائے تو وہ منہ موڑ لیتے ہیں اور اپنے عمل کے استدلال میں باپ دادوں کو پیش کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے بھی ایسے معاندین کے بارے میں ہمیں مطلع کر دیا ہے کہ یہ لوگ اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات نہیں مانتے تو یقین کر لینا کہ یہ محض اپنی خواہشات کی پیروی میں سرگرداں ہیں۔
مولانا عبد الغنی جاجروی اور مفتی محمد ولی درویش صاحب کا ایک شبہ اور اس کا ازالہ :۔
مولانا عبد الغنی جاجروی صاحب اپنی کتاب اغراض الجلالین میں خَلَقْتَنِي مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ابلیس پہلا شخص تھا جو غیر مقلد ہوا اور یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر تم کہو کہ وہ غیر مقلد نہیں تھا تو بتاؤ مقلد تھا تو کس کا تھا پس جب تم ابلیس کو مقلد ثابت نہیں کر سکے تو پتہ چلا کہ ابلیس غیر مقلد تھا۔ اور یہی دعویٰ مفتی محمد ولی درویش صاحب نے اپنی کتاب ”کیا نماز جنازہ میں سورۃ فاتحہ پڑھنا سنت ہے میں کیا ہے۔“
جواب :
دونوں حضرات کے سوال کے جواب اگرچہ ہم میر محمد ربانی صاحب کے اعتراض کے جواب میں مفصل ذکر کر چکے ہیں لیکن پھر بھی موصوف کو ان کے اپنے انداز میں جواب دینا ضروری سمجھتا ہوں۔
تو جواب یہ ہے کہ جس طرح آپ کا دعویٰ ہے کہ پہلا غیر مقلد ابلیس ہے تو ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ پہلے غیر مقلدین فرشتے ہیں اگر آپ کہتے ہیں کہ وہ غیر مقلد نہیں تھے بلکہ مقلدین تھے تو بتائیے مقلدین تھے تو کس کے تھے؟ پس جب آپ فرشتوں کو مقلد ثابت نہیں کر سکے اور ہرگز نہیں کر سکتے تو مان لیجئے اور ایمان لائیے کہ فرشتے غیر مقلدین ہیں اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان : إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً میں زمین میں (آدم کو) خلیفہ بنانے والا ہوں یہ نہیں کہا کہ آسمان میں خلیفہ بنانے والا ہوں۔ والله الحمد
اتباع اور تقلید میں فرق :۔
اس سے پہلے کہ میر محمد صاحب کے ایک اور شبہ کا جواب دوں جس میں انہوں نے موسیٰ علیہ السلام کو خضر علیہ السلام کا مقلد ثابت کرنے کی کوشش کی ہے اتباع اور تقلید کے مابین فرق بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ تقلید کی تعریف ہم نے پہلے صفحات میں تفصیلاً احناف کی کتابوں سے ہی بیان کر دی ہے کہ تقلید نام ہے کسی کی بات کو بغیر کسی دلیل کے قبول کر لینا۔
لیکن محترم استاد مفتی نیو ٹاؤن کراچی مفتی ولی درویش صاحب کی ضد ہے کہ اتباع اور تقلید میں کوئی فرق نہیں بلکہ دونوں ایک ہی چیز ہیں کیونکہ قرآن شریف میں لفظ اتباع تقلید کے لئے بھی استعمال ہوا ہے جیسے :
فَاتَّبَعُوا أَمْرَ فِرْعَوْنَ
کہ انہوں نے فرعون کے امر کی اتباع کی ہے۔
اور اسی طرح دوسری جگہ فرمایا :
قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا
ہم تو اتباع کریں گے اس چیز کی جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ہے۔
تو پتہ چلا تقلید میں اتباع ہے اتباع اور تقلید میں کوئی فرق نہیں ہے۔
جواب :
پہلی بات تو یہ ہے کہ مفتی ولی صاحب نے امت کے تمام علماء کو جھٹلایا حنفی وغیر حنفی جنہوں نے تقلید کی تعریف کر کے اسے اتباع سے الگ کیا ہے اور اس پر رد کیا ہے۔ ذرا پھر سے صفحہ نمبر (16-17) کی طرف رجوع کیجئے پھر آگے پڑھیے۔
ہمارا دعویٰ یہی ہے کہ تقلید سراسر جہل اور گمراہی ہے پھر بھی آپ کی یاددہانی کے لئے کچھ نقل کر دیتا ہوں۔
کتاب التوضیح والتلویح میں ہے:
فالمعرفة ادراك الجزئيات عن دليل فخرج التقليد(التوضیح والتلویح ص : 11)
دلیل کے ساتھ جزئیات کو پکڑنا معرفت کہلاتا ہے پس تقلید اس سے خارج ہو گئی۔
اسی طرح امام شافعی رحمہ اللہ نے بھی تقلید کو جہل قرار دیا ہے فرمایا :
وبالظن والتقليد لا يحصل العلم والمعرفة (فقه الأكبر ص : 7)
ظن اور تقلید سے علم اور معرفت حاصل نہیں ہوتی۔
پھر آگے جا کر فرماتے ہیں :
وذلك لا يكون علما
تقلید تو جہل ہے علم نہیں۔
اسی طرح امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا فرمان ہے :
لا تقلدني ولا تقلد مالكا ولا الشافعي ولا الأوزاعي ولا الثوري وخذ من حيث اخذوا(الاعلام ج 2 ص 32)
تم میری تقلید مت کرو اور نہ ہی مالک اور شافعی اور اوزاعی اور ثوری کی تم بھی وہیں سے (احکام) لو جہاں سے ان لوگوں نے لئے ہیں۔
اسی طرح علامہ الوسی حنفی نے بھی تقلید کو گمراہی قرار دیا ہے لکھتے ہیں :
إن كان للضلالة أب فالتقليد أبوها(روح المعانی ج 1 ص 97)
اگر گمراہی کا کوئی باپ ہے تو تقلید اس کا باپ ہے۔
اسی طرح علامہ طحاوی رحمہ اللہ حنفی کا کہنا ہے :
لا يقلد إلا عصبي أو غبي(عقود رسم المفتی ص : 27)
تقلید تو متعصب یا کوئی بیوقوف ہی کرتا ہے۔
لگتا ہے مفتی ولی صاحب قرآن کریم کو سمجھنے میں اپنے ائمہ کرام سے دو قدم آگے بڑھ گئے ہیں یا ان ائمہ کی غیر مقلدین سے دوستی تھی جس کی بنا پر انہوں نے تقلید کے بارے میں الٹی سیدھی کہہ دی۔
بہر حال یہ تو آپ کے آپس کا مسئلہ ہے ہمیں معلوم نہیں کہ کون سچے ہیں اور کون جھوٹے اب آئیے تحقیقی جواب کی طرف :
تو میں یہ کہوں گا کہ شاید موصوف عربی لغت سے ناواقف ہونے کی بنا پر اتباع اور تقلید میں تمیز نہ کر سکے یا تو متجاہل بن رہے ہیں یا عوام الناس کو دھوکے میں ڈال رہے ہیں۔
بیشک قرآن کریم میں تقلید کے لئے لفظ اتباع ہی استعمال کیا گیا ہے اس سے یہ کہاں لازم آتا ہے کہ اتباع اور تقلید ایک ہی چیز ہے۔
اب آئیے دیکھئے قرآن کریم میں سمك یعنی مچھلی کے لئے لفظ لحم یعنی گوشت استعمال کیا گیا ہے اور اسی طرح کہیں مدینہ یعنی شہر کے لئے لفظ قرية یعنی گاؤں استعمال کیا گیا ہے کیا اب اس سے مچھلی گوشت بن جاتی ہے اور شہر گاؤں بن جاتا ہے ہرگز نہیں۔
تو پھر آئیے میں آپ کو عربی زبان کے کچھ ایسے الفاظ پر مطلع کروں جو کہ کئی معانی کے لئے استعمال ہوئے ہیں کبھی تو ایک ہی لفظ اپنی ضد کے لئے بھی استعمال ہوا ہے دیکھ لیجئے لفظ قرء عربی زبان میں حیض کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اور طہر کے لئے بھی کیا اب آپ یہ کہیں گے کہ حیض اور طہر ایک ہی چیز ہے اور ان دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے اس طرح لفظ موليٰ عربی زبان میں مالک کے معنی میں بھی آتا ہے اور غلام کے معنی کے لئے بھی آتا ہے اسی طرح لفظ جارية عربی زبان میں کشتی کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اور لونڈی کے لئے بھی اور اسی طرح لفظ عين کے معنی آنکھ بھی ہے اور چشمہ بھی ہے اور سونا بھی ہے۔
میرے خیال میں یہ چند الفاظ مثال کے طور پر مفتی ولی صاحب کو سمجھنے کے لئے کافی ہیں کیا اب بھی مفتی ولی صاحب یہی کہیں گے کہ مالک اور غلام ایک ہی چیز ہے کشتی اور لونڈی ایک ہی چیز ہے آنکھ اور چشمہ اور سونا ایک ہی چیز ہیں۔
حق تو یہ ہے کہ محل بدل جانے سے اس لفظ کا ترجمہ اور معنی بھی بدل جاتا ہے جس طرح غلام کے لئے لفظ موليٰ استعمال کرنے سے غلام مالک نہیں بن جاتا اور مالک غلام نہیں بن جاتا اسی طرح تقلید کے لئے لفظ اتباع استعمال کرنے سے تقلید اطاعت رسول نہیں بن جاتی بلکہ تقلید ہی رہتی ہے۔
ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ اتباع اور تقلید دونوں کی ظاہری شکل ایک ہے لیکن حقیقت میں آسمان و زمین کا فرق ہے جیسے کہ پانی اور پیشاب دونوں کی ظاہری شکل تو ایک ہی ہے لیکن حقیقت میں ایک پاک دوسرا ناپاک ہے۔
اس لئے تمام ائمہ کرام نے اس ناپاکی سے سختی سے منع فرمایا ہے۔
آئیے ہم آپ کو دکھاتے ہیں کہ اس دعوے میں ہم اکیلے نہیں ہیں بلکہ اور بھی علماء سلف نے تقلید اور اتباع میں فرق کیا ہے۔
دیکھئے کتاب التقليد وأحكامه میں سعد بن عبد العزیز الششری لکھتے ہیں :
التقليد التزام المكلف مذهب غيره بلا حجة اما الإتباع فهو ما ثبت عليه حجة وممن قال بذلك ابن خويز منداد وابن عبد البر وابن القيم والشاطبي وغيرهم(جامع بيان العلم 2/1432 الإعتصام ص 342 اعلام الموقعين 182/2)
تقلید نام ہے مکلف کا کسی غیر کے مذہب کے ساتھ چمٹ جانا بغیر کسی دلیل کے اور اتباع وہ ہے جس پر دلیل ثابت ہو۔ اور یہ تعریف امام ابن خویز ، ابن عبد البر، ابن القیم اور شاطبی رحمہم اللہ اور ان کے علاوہ کئی علماء نے بھی یہ تعریف کی ہے۔
اسی طرح ابو عمر ابن عبد البر رحمہ اللہ نے اس پر تمام علماء کا اجماع نقل کیا ہے فرماتے ہیں :
أجمع الناس على أن المقلد ليس معدودا من اهل العلم وأن العلم معرفة الحق بدليله فإن الناس لا يختلفون أن العلم هو المعرفة الحاصلة عن الدليل وأما بدون الدليل فانما هو تقليد(اعلام الموقعين ج 1، وانظر مختصر جامع بيان العلم وفضله باب فساد التقليد ونفيه ص 292-304)
لوگوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ مقلد کو اہل علم میں شمار نہیں کیا جاتا اور علم حق کو اس کی دلیل سے جاننے کا نام ہے۔ لوگ اس بات میں اختلاف نہیں کرتے کہ علم وہ معرفت ہے جو دلیل سے حاصل ہوتی ہے اور بغیر دلیل کے تو وہ تقلید ہے۔
یاد رہے کہ تقلید کا سلسلہ باتفاق العلماء چوتھی صدی ہجری کے بعد شروع ہوا ہے۔ اگر مفتی ولی صاحب کو تقلید اور اتباع میں فرق نظر نہیں آتا تو کیا چیز تھی جو چوتھی صدی کے بعد شروع ہوئی تھی۔ ہم نے سنا ہے کہ پیلیا کی بیماری آنکھوں میں ظاہر ہوتی ہے یہاں تو عقلوں میں بھی لگنے لگی جس کی وجہ سے تقلید بھی اتباع نظر آتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آج تک کسی بھی عالم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی تعریف تقلید سے نہیں کی۔ اگر یقین نہ آئے تو کوئی بھی تفسیر اٹھا کر دیکھ لیں چاہے کسی مقلد کی ہو یا غیر مقلد کی، عربی کی ہو یا اردو کی، کہیں بھی قرآن کریم میں اتباع کا لفظ رسول کے ساتھ آیا ہو اور اس کا ترجمہ یا تفسیر تقلید سے کیا گیا ہو۔ کیونکہ اتباع صرف اور صرف رسول کی ہوتی ہے اور رسول کے علاوہ دوسروں کی تقلید ہوتی ہے۔فافهم وتدبر ولا تكن من الغافلين.
میر صاحب کا موسیٰ علیہ السلام کو خضر علیہ السلام کا مقلد قرار دینا :۔
موصوف لکھتے ہیں جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام بامر خداوندی جناب خضر علیہ السلام کی خدمت میں پہنچے تو آداب مقلدانہ بجا لاکر فرمایا:
هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَىٰ أَنْ تُعَلِّمَنِي مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا(سورة الكهف 66)
کیا میں اس شرط پر آپ کی اتباع کر سکتا ہوں کہ آپ مجھے اپنی سکھائی ہوئی ہدایت میں سے کچھ سکھا دیں۔
جواب :
جناب میر محمد صاحب آپ کی عبارت کا پہلا حصہ دوسرے حصہ کے متضاد ہے۔ آپ نے کہا کہ موسیٰ علیہ السلام بامر خداوندی جناب خضر علیہ السلام کی خدمت میں پہنچے تو یہ ثابت ہوا کہ ان کی خدمت میں جانا اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوا۔ آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ جو کام اللہ تعالیٰ کے حکم سے کیا جاتا ہے وہ اتباع ہوتی ہے نہ کہ تقلید۔ تو پھر اس عبارت میں آپ کا یوں کہنا کہ آداب مقلدانہ بجالاتے ہوئے یہ بالکل ہٹ دھرمی اور سینہ زوری ہے۔
پھر آگے جا کر اس آیت کے ترجمہ میں مقلد اور متبع دونوں لفظ استعمال کئے ہیں کیونکہ آپ کو معلوم ہے کہ نبی کبھی کسی کا مقلد نہیں ہوتا اس لئے آپ نے لفظ متبع کو ذکر کر دیا ہے تا کہ کوئی آپ پر اعتراض نہ کر سکے۔
اور ویسے بھی اس آیت سے آداب مقلد نہیں بلکہ آداب متعلم ثابت ہوتے ہیں جس پر آیت خود دلالت کرتی ہے۔
هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَىٰ أَنْ تُعَلِّمَنِي مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا(سورة الكهف : 66)
اور اس آیت کے بارے میں جمہور مفسرین یہی کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کا یہ سفر تحصیل علم کے لئے تھا نہ کہ تقلید کے لئے اور آپ نے ابھی ابھی جان لیا کہ علم اور تقلید دونوں متضاد چیزیں ہیں۔
تعجب کی بات تو یہ ہے کہ جس آیت کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں علم کی اہمیت بیان کرنے کے لئے ذکر کیا ہے اس آیت سے میر محمد صاحب نے غالیانہ طریقے سے تقلید کو ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ اصل بات تو یہ ہے کہ جب میر محمد صاحب سے تحریف قرآن نہ ہو سکی تو انہوں نے اس کی تفسیر میں تحریف کر دی اور ایسے ہی لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
وَقَدْ كَانَ فَرِيقٌ مِنْهُمْ يَسْمَعُونَ كَلَامَ اللَّهِ ثُمَّ يُحَرِّفُونَهُ مِنْ بَعْدِ مَا عَقَلُوهُ وَهُمْ يَعْلَمُونَ(سورة البقرة : 75)
ان میں سے ایک گروہ اللہ کا کلام سن کر پھر اسے بدل دیتا ہے حالانکہ وہ سمجھ چکے ہوتے ہیں اور وہ خوب جانتے ہیں۔
پھر آگے جا کر میر محمد صاحب کہتے ہیں اس پر موسیٰ علیہ السلام کو خضر علیہ السلام نے کہا کہ راہ تقلید واتباع ایک مشکل راہ ہے اس پر آپ نہیں چل سکیں گے اور ہمت ہار کر آداب تقلید کو جواب دے دیں گے :
إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا(سورة الكهف : 67)
جواب :
قارئین کرام ! آپ نے میر محمد صاحب کی واضح تحریف قرآن کو دیکھ لیا ہے۔ ہم میر محمد صاحب سے پوچھتے ہیں کہ یہ بات جو آپ نے خضر علیہ السلام کی طرف منسوب کی ہے یہ قرآن کی کون سی آیت میں ملتی ہے یا کون سی حدیث میں آئی ہے یا خضر علیہ السلام خواب میں آکر آپ کو بتا کے گئے ہیں۔ ہم تو سمجھ رہے تھے کہ آپ لوگ صرف امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر ہی جھوٹ باندھتے ہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ مقلد تعصب میں آکر انبیاء اور اولیاء کرام پر بھی جھوٹ باندھتا ہے۔ فلعنة الله على الكاذبين
حالانکہ خضر علیہ السلام کا موسیٰ علیہ السلام سے : إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا کہنے کا سبب خود قرآن میں موجود ہے کہ آگے جا کر جو کام خضر علیہ السلام سے صادر ہونے والے ہیں وہ سب ظاہری شریعت کے خلاف ہیں۔ بھلا ایک پیغمبر شریعت کے خلاف ہوتے ہوئے کام کو کس طرح برداشت کر سکتا ہے اس لئے خضر علیہ السلام نے پہلے سے ہی موسیٰ علیہ السلام کو اس بات کی تنبیہ کر دی تھی کہ آپ میرے افعال پر جو کہ شریعت کے مخالف ہوں گے میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے۔ یہ ہے اس قصہ کی حقیقت جس کو میر محمد صاحب نے تقلید کا جامہ پہنایا ہے۔ دیکھ لیں۔ (تفسیر ابن کثیر ج 3 ص 125 سے 133، تفسیر قرطبی ص 13 سے 28، تفسیر فتح القدیر ج 3 ص 425 سے 437، تفسیر المنیر ج 8 ص 289)
اور آگے جا کر لکھتے ہیں :
فَلَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ حَتَّىٰ أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا(سورة الكهف : 70)
یعنی تم مجھ سے کسی چیز کا سوال نہیں کرو گے جب تک کہ میں خود تم کو نہ بتاؤں۔
چنانچہ تقلید امام کا مفہوم بھی یہی ہے کہ مقلد آدمی اپنے امام سے کسی دلیل کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
جواب :
جناب! اس آیت سے یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ دلیل کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔ ہاں اتنا ضرور ثابت ہوتا ہے کہ دلیل کا مطالبہ کرنے میں جلدی نہ کرنا جو کہ لفظ حتى أحدث سے معلوم ہوتا ہے۔ یوں لگتا ہے تقلید کی پٹی آپ کی آنکھوں پر بندھی ہوئی ہے۔ یہاں تک کہ قرآن کی ہر جگہ تقلید ہی تقلید نظر آتی ہے اس کے علاوہ کچھ اور نظر نہیں آتا۔
جناب میر محمد صاحب موسیٰ علیہ السلام کا یہ واقعہ آپ کے مذہب کے خلاف اور ہماری تائید میں ہے۔ آپ ذرا قرآن پر نظر ڈال کر دیکھ لیں اور یہ بات کسی بھی عالم پر مخفی نہیں ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے ہر جگہ پر خضر علیہ السلام سے دلیل کا مطالبہ کیا ہے کہ آپ نے یہ کام کیوں کیا؟ سورۃ کہف کو غور سے پڑھ لیں اور اس واقعہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ شریعت کے خلاف کوئی بھی کام ہوتے ہوئے دیکھو تو دلیل کا مطالبہ کرو بلکہ ہمیں تو قرآن کریم یہی تعلیم دیتا ہے :
وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ(سورة الإسراء : 36)
اس چیز کی پیروی مت کرو جس کا تم کو علم نہ ہو۔
قُلْ هَٰذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّهِ عَلَىٰ بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي(سورة يوسف : 108)
آپ فرما دیجئے کہ یہ ہے میرا راستہ میں بلاتا ہوں اللہ کی طرف معرفت اور دلیل کے ساتھ یہ میرا بھی کام ہے اور میرے ماننے والوں کا بھی.
اب بتائیے میر محمد صاحب قرآن کریم کی تعلیم تو یہ ہے کہ کوئی بھی کام دین کا کرو تو دلیل کے ساتھ کرو اور یہ کام صرف نبی کا نہیں یا صرف مجتہد کا نہیں بلکہ ہر وہ انسان جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے کیونکہ قرآن میں آیا ہے من اتبعني جو بھی میری اتباع کرنے والا ہے۔ بلکہ دنیا میں جو بھی شخص دین میں کوئی بات کرے گا اس سے دلیل کا مطالبہ کرنا قرآن کریم کا حکم ہے :
قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ(سورة الأنبياء : 22)
کہو اپنے دعوے پر دلیل پیش کرو اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔
قارئین کرام! اب آپ خود فیصلہ کریں کہ حکم اللہ تعالیٰ کا مانیں یا میر محمد صاحب کا۔ میر محمد صاحب کہتے ہیں تقلید کرتے ہوئے دلیل نہ طلب کرو اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے دلیل کے بغیر عمل نہ کرو۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ میر محمد صاحب اللہ تبارک وتعالیٰ سے جھگڑ رہے ہیں اللہ تعالیٰ کے قوانین رد کرنے اور اپنے مذموم قوانین نافذ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ الله يهديه إلى صراط مستقيم.
احناف کا لفظ اعتبار سے قیاس مراد لینا :۔
ووجوب الاعتبار أى القياس حكم مع انه ليس من افعال الجوارح(التوضيح والتلويح ص : 32)
اعتبار کا واجب ہونا یعنی قیاس یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اس کے باوجود کہ یہ حکم افعال جوارح میں سے نہیں ہے۔
یعنی احناف کا یہ کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان : فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ(سورة الحشر : 2) کے معنی قیاس کرو اے عقلمندو تو پتہ چلا قیاس کرنا یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے دیکھئے : (اصول البزدوی ص 250، نور الأنوار ص 224)
اب آئیے دیکھتے ہیں کہ احناف کا یہ دعویٰ کہاں تک صحیح ہے سورۃ مؤمنون میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
وَإِنَّ لَكُمْ فِي الْأَنْعَامِ لَعِبْرَةٌ(سورة المؤمنون : 21)
تمہارے لئے ان جانوروں میں عبرت ہے۔
اگر احناف کے مذہب کے مطابق یہاں پر معنی قیاس کا کیا جائے تو مطلب ہوگا تمہارے لئے ان جانوروں میں قیاس کرنا ہے پھر تو مطلب یہ ہوا کہ جس طرح جانور کرتے ہیں تم بھی اسی طرح کرو نہ کھانے پینے میں کوئی پابندی جو دل میں آئے کھاؤ پیو اور نہ شادی بیاہ میں جس سے چاہو نکاح کر لو جس طرح جانوروں کا کوئی حساب کتاب نہیں اسی طرح تمہارا بھی کوئی حساب کتاب نہیں ہوگا۔ میرے خیال میں اس قیاس پر کسی حنفی کا عمل نہیں ہے۔
اسی طرح سورۃ نور میں ہے :
يُقَلِّبُ اللَّهُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِأُولِي الْأَبْصَارِ(سورة النور : 44)
اللہ تعالی بادلوں میں اپنی قدرت کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے وہی ذات رات اور دن کو پھیرتی رہتی ہے بے شک عقل مندوں کے لیے اس میں عبرت ہے۔
اب احناف کس پر قیاس کریں گے؟ اور ہرگز کر بھی نہیں سکتے کیونکہ قیاس کے لئے یہاں پر کچھ نہیں ہے اگر کیا بھی ہوگا تو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے والے ہوں گے۔ اعاذنا الله من الافتراء عليه.
اسی طرح سورۃ یوسف میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
لَقَدْ كَانَ فِي قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِأُولِي الْأَلْبَابِ(سورة يوسف : 111)
بے شک یوسف علیہ السلام اور ان کے بھائیوں کے قصے میں بصیرت والوں کے لیے عبرت ہے۔
اس جگہ میں بھی اگر قیاس کا معنی لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ جس طرح یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے اپنے چھوٹے بھائی یوسف علیہ السلام کو کنویں میں ڈالا اسی طرح تم بھی اپنے چھوٹے بھائیوں کے ساتھ یہی برتاؤ کرو اور جس طرح انہوں نے یوسف علیہ السلام کو فروخت کیا تم بھی اپنے بھائیوں کو فروخت کر دو۔
اور شاید اس قیاس پر بھی احناف کا عمل نہیں ہے۔
علامہ ابن حزم رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
فلم يستح هؤلاء القوم أن يسموا القياس اعتبارا(الإحكام في اصول الأحكام ج 2 ص 387)
کہ ان لوگوں کو شرم بھی نہیں آئی قیاس کو اعتبار کا نام دیتے ہوئے :
إن تعجب فعجب قولهم
اس سے زیادہ تعجب کی بات تو ان کا یہ کہنا ہے کہ :
لوعمل بالحديث لانسد باب الرأى(نور الأنوار ص : 179)
اگر حدیث پر عمل کیا جائے تو قیاس کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔
علامہ ابن حزم رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
ولا علم أحد قط في اللغة التي بها نزل القرآن أن الإعتبار هو القياس(الإحكام في اصول الأحكام ج 2 ص 387)
آج تک کسی نے بھی نہیں جانا اس لغت کے اندر جس لغت میں قرآن نازل ہوا ہے کہ اعتبار کا مطلب قیاس ہے۔
بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی عظیم قدرت آسمان اور زمین کو بنانے میں اور جو کچھ اس نے اپنے دشمنوں کے ساتھ معاملہ کیا ہے اس پر فکر وتدبر کرنے کا حکم دیا ہے تا کہ ہم جان لیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے ایک اکیلا متصرف ہے۔
جس کے پاس تھوڑی بھی عقل وشعور ہو اس چیز کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہے کہ عبرت کے معنی قیاس نہیں ہیں کیونکہ یہ پھر قرآن کریم کی تکذیب ہوگی جبکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو قیاس کے لئے کبھی استعمال نہیں کیا۔
قیاس کی بنیاد کس نے ڈالی ؟
ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ قیاس شریعت نہیں ہے بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت مطہرہ پر ایک دھبہ ہے کیونکہ قیاس سے حرمت اور حلت ثابت نہیں ہو سکتی۔ احناف یہ کہتے ہیں کہ ہم قیاس کو مثبت للحكم نہیں مانتے بلکہ مظهر للحكم مانتے ہیں یعنی قیاس کسی چیز پر حکم نہیں لگاتا بلکہ جو حکم پوشیدہ ہے اس کو ظاہر کر دیتا ہے تو عرض یہ ہے کہ یہ محض ایک باطل دعویٰ ہے ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور۔ اگر یہ مظهر للحكم ہوتا تو یہ آپس کے قیاس میں کبھی اختلاف نہیں کرتے کیونکہ حکم تو ایک ہی ہوگا دو نہیں یہاں تو ایک ہی چیز پر چار چار حکم لگ رہے ہیں تو پتہ چلا کہ قیاس مثبت للحكم ہے نہ کہ مظهر للحكم
اور یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لیں کہ کسی چیز کو حرام یا حلال قرار دینا یہ صرف اللہ تعالیٰ کا کام ہے کسی ملک مقرب یا نبی مرسل کو بھی اس بات کا حق نہیں ہے کہ وہ کسی چیز کو اپنی طرف سے حرام یا حلال کہے چہ جائیکہ مجتہد۔ اس بات کا حق نہ کسی نبی کو ہے جیسے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ(سورة التحريم : 1)
اے نبی کیوں حرام کرتا ہے اس چیز کو جس کو اللہ نے تیرے لئے حلال کیا۔
اور نہ ہی کسی مجتہد کو جیسے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
وَلَا تَقُولُوا لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هَٰذَا حَلَالٌ وَهَٰذَا حَرَامٌ لِتَفْتَرُوا عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ(سورة النحل : 116)
اپنی زبانوں سے جھوٹ موٹ نہ کہہ دیا کرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھ لو۔
اور جس نے قیاس کے ذریعہ کسی چیز کو حرام یا حلال قرار دیا ہے گویا کہ اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے کیونکہ قیاس کرنے کا مطلب یہ ہوا کہ اس کا حکم اللہ تعالیٰ نے نہیں اتارا اس لئے ہم نے اس پر حکم لگایا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ(سورة المائدة : 3)
آج میں نے تمہارے لئے دین مکمل کر دیا۔
بلکہ اللہ تعالیٰ نے تو اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی قیاس کرنے کی اجازت نہیں دی بلکہ فرمایا :
وَأَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ(سورة المائدة : 49)
آپ ان کے معاملات میں اللہ تعالی کی نازل کردہ وحی کے مطابق فیصلہ کیجئے۔
اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ(سورة المائدة : 44)
اور جو لوگ اللہ تعالی کی اتاری ہوئی وحی کے ساتھ فیصلہ نہ کریں وہ پورے اور پختہ کافر ہیں۔
دوسری آیت میں ہے :
فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ(سورة المائدة : 45)
وہی لوگ ظالم ہیں۔
تیسری آیت میں :
فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ(سورة المائدة : 47)
وہی لوگ فاسق ہیں۔
یہ آیتیں بار بار اس بات کی طرف توجہ دلا رہی ہیں کہ جو لوگ اپنی طرف سے یا کسی مجتہد کے غلط فتوے سے چیزوں پر حلال اور حرام کی مہر لگاتے ہیں وہ یا تو کافر ہیں یا ظالم ہیں یا فاسق ہیں۔ قیاس کے بطلان کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ اہل قیاس خود قیاس کرتے ہوئے آپس میں اختلاف کرتے ہیں جس سے اللہ تعالیٰ نے سختی سے منع فرمایا ہے :
وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ(سورة آل عمران : 105)
اور مت ہو ان لوگوں کی طرح جو فرقوں میں بٹ گئے ہیں اور آپس میں اختلاف کیے ہوئے ہیں۔
تو ان کا قیاس میں اختلاف کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ قیاس شریعت نہیں ہے کیونکہ شریعت میں اختلاف محال ہے جیسے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا(سورة النساء : 82)
اگر یہ شریعت اللہ کے علاوہ کسی اور کی طرف سے ہوتی تو ضرور اس کے اندر ان لوگوں کو بہت سارے اختلافات نظر اتے۔
یہاں تو بات اختلافات تک نہیں رہی بلکہ اس کی وجہ سے فرقوں میں بٹ گئے جس سے شریعت نے منع کیا ہے۔ مثال کے طور پر شافعی کہتے ہیں تین بال برابر مسح کرنے سے وضو ہو جائے گا اور احناف کہتے ہیں جب تک چوتھائی سر کا مسح نہیں کرے گا وضو نہیں ہوگا لیکن مالکی حضرات کہتے ہیں نہ پہلے والے کا وضو صحیح اور نہ دوسرے کا بلکہ جب تک پورے سر کا مسح نہیں کرے گا اس کا وضو نہیں ہوگا۔
احناف کہتے ہیں کہ اگر کسی نے الله أجل یا الله أعظم کہتے ہوئے نیت باندھ لی تو اس کی نماز ہو جائے گی لیکن شافعی کے نزدیک یہ بے نمازی شمار ہوگا جب تک الله أكبر نہ کہے گا اس کی نماز نہیں ہوگی۔
احناف کہتے ہیں لفظ هبه یا تمليك سے نکاح منعقد ہو جائے گا اور وہ مرد اور عورت آپس میں میاں بیوی شمار ہوں گے جو بچہ ہوگا وہ حلال کا ہوگا دونوں میں سے کوئی مرجائے تو دوسرا وارث بنے گا۔
لیکن شافعی کہتے ہیں کہ بغیر لفظ نکاح یا تزویج کے نکاح منعقد نہیں ہوگا اگر وہ صحبت کرے تو وہ زنا شمار ہوگا اور اس صحبت سے جو بچہ پیدا ہوگا وہ حرام کا ہوگا اور ایک مرجائے تو دوسرا مرنے والے کا وارث نہیں بنے گا۔
قارئین کرام ! آپ نے دیکھ لیا کہ اہل قیاس کے قیاسات میں کتنا آسمان و زمین کا فرق اور اختلاف ہے یعنی بالفاظ دیگر یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ ہمیں وضو کا طریقہ بتایا ہے اور نہ نماز کا طریقہ بتایا ہے اور نہ ہی شادی بیاہ کا صحیح طریقہ بتایا ہے جس کی وجہ سے ہم قیاس کرنے پر مجبور ہوئے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ(سورة المائدة : 3)
میں نے اج تمہارے لیے دین اسلام کو مکمل کر دیا۔
وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ(سورة الأنفال : 46)
اور اطاعت کرو اللہ اور اس کے رسول کی اور آپس میں مت جھگڑو ورنہ تم بزدل ہو جاؤ گے اور تمہاری قوت جاتی رہے گی۔
اور اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :
لا تختلفوا فتختلف قلوبكم(نسائی ج 2 ص 90، مستدرک حاکم ج 1 ص 765)
آپس میں اختلاف مت کرو ورنہ تمہارے دلوں میں بھی پھوٹ پڑ جائے گی۔
تو یہ بات ثابت ہو گئی کہ قیاس قطعاً شریعت نہیں ہے کیونکہ قیاس نہ اللہ تعالیٰ کا قرآن ہے اور نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے جبکہ اللہ کا ارشاد ہے :
فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ (سورة النساء : 59)
جب تم آپس میں اختلاف کر بیٹھو کسی بھی چیز میں تو رجوع کرو اللہ اور رسول کی طرف۔
اور یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ رجوع الی القیاس نہ رجوع الی اللہ ہے اور نہ رجوع الی الرسول ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتا دیا ہے کہ قول یا فعل میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے مت بڑھو :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ(سورة الحجرات : 1)
دوسری بات یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ خود کبھی قیاس کیا اور نہ ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس کی تعلیم دی ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ(سورة النجم : 3-4)
محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خواہش سے کچھ نہیں بولتے ہیں مگر وہ اللہ تعالی کی طرف سے وحی کی جاتی ہے۔
اور جن لوگوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی قیاس کیا ہے ان کا قول اس آیت کی رو سے مردود ہے۔
تیسری بات یہ ہے کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے خلاف ہے :
عن مالك بن انس رحمه الله يقول: ألزم ماقاله رسول الله صلى الله عليه وسلم فى حجة الوداع أمر ان تركتهما فيكم لن تضلوا ما تمسكتم بهما كتاب الله وسنة نبيه(اعلام الموقعين ص 226 ج 1)
امام مالک رحمہ اللہ کا ارشاد ہے کہ اس بات کو مضبوطی سے پکڑ کر رکھو جو بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمائی تھی کہ دو چیزیں میں تمہارے درمیان چھوڑ کے جارہا ہوں جب تک ان کو مضبوطی سے پکڑ کر رکھو گے تم ہرگز گمراہ نہیں ہو گے اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت۔
اسی طرح علامہ ابن عبد البر رحمہ اللہ اپنی کتاب جامع بيان العلم میں نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
لا تهلك أمتى حتى تقع فى المقاييس فاذا وقعت فى المقاييس فقد هلكت(مختصر جامع بيان العلم وفضله ص 250)
میری امت ہلاک نہیں ہو گی جب تک قیاسات میں نہ پڑ جائے اور جب یہ قیاسات میں پڑ جائے گی تو ہلاک ہو جائے گی۔
تو اس سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوگئی ہے کہ مسلمانوں کا مرجع صرف قرآن عظیم اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جیسے کہ اللہ رب العزت کا فرمان بھی ہے :
فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ(سورة النساء : 59)
اگر تمہارا آپس میں کسی بھی چیز میں جھگڑا ہو جائے تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹاؤ اگر تم اللہ اور آخری دن پر ایمان رکھنے والے ہو۔
اور پوری امت کا اس پر اجماع ہے کہ اختلاف پڑ جانے کی صورت میں کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مرجع بنانا واجب ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور جمیع مفسرین امت نے اس آیت سے یہی مراد لی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں رسول کی طرف رجوع کیا جائے گا اور ان کی عدم موجودگی کی صورت میں ان کی سنت کی طرف۔ لیکن آئیے ہم آپ کو ایک ایسی شخصیت کا تعارف کرواتے ہیں جو کہ اصول وفروع میں حنفیوں کا مرجع ہے جن کی کتابیں پڑھے بغیر کوئی حنفی مفتی یا قاضی نہیں بن سکتا بلکہ کوئی مجتہد بھی نہیں بن سکتا جب تک ان کی کتاب المبسوط یاد نہ ہو۔
جن کو علامہ سرخسی رحمہ اللہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے دیکھئے اس آیت کی معنوی تحریف کس طرح کی ہے صرف قیاس کو ثابت کرنے کے لئے اپنی کتاب جو کہ اصول سرخسی کے نام سے مشہور ہے لکھتے ہیں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
فان تنازعتم فى شيء فردوه الي الله والرسول ان كنتم تؤمنون بالله واليوم الآخر أن المراد به القياس الصحيح والرجوع اليه عند المنازعة وفيه بيان أن الرجوع اليه يكون بأمر الله وأمر الرسول ولا يجوز ان يقال المراد هو الرجوع الي الكتاب والسنة(أصول السرخسي ج 2 ص 129)
بیشک اس سے مراد قیاس صحیح ہے اور تنازع کے وقت اسی قیاس کی طرف رجوع کرنا مراد ہے اور اس میں اس بات کا بیان ہے کہ قیاس کی طرف رجوع کرنا اللہ اور اس کے رسول کے حکم سے ہے اور یہ جائز نہیں ہے کہ یہ کہا جائے اس آیت سے مراد کتاب اللہ اور سنت رسول ہے۔
قارئین کرام یہ ! بات آسمان کے ٹوٹنے سے بھی زیادہ بھاری ہے کہ کتاب اور سنت سے مراد قیاس کہا جائے۔ یہ ہے ان کی دین داری اور یہ ہے ان کی الٰہیت جو کہ اپنے مذہب کو ثابت کرنے کے لئے تحریف قرآن سے بھی گریز نہیں کرتے۔ لیکن یہ حضرات بھول گئے ہیں کہ تحریف قرآن کر کے یہ لوگ یہود ونصاریٰ کی تقلید کر رہے ہیں نہ کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَوَاضِعِهِ وَنَسُوا حَظًّا مِمَّا ذُكِّرُوا بِهِ(سورة المائدة : 13)
وہ لوگ کلام کو اس کی جگہ سے بدل ڈالتے ہیں اور جو کچھ نصیحت انہیں کی گئی تھی اس کا بہت بڑا حصہ بھلا بیٹھے۔
صاحب تفسیر نسفی فرماتے ہیں کہ تحریف کا مطلب : يفسرونه على غير ما أنزل یعنی خلاف منزل اپنی طرف سے تفسیر کرتے ہیں۔(تفسير النسفي ج 1 ص 312)
آئیے آپ کو کچھ اور خطرناک تحریفات پر مطلع کرتا چلوں مولانا محمود الحسن دیوبندی جو کہ شیخ الہند کے نام سے مشہور ہیں اپنی کتاب ايضاح الأدلة صفحہ 103 میں اس آیت کی صریح تحریف کرتے ہیں اصل آیت یوں ہے :
فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ
لیکن حضرت اعلیٰ صرف تقلید کو ثابت کرنے کیلئے لفظ أُولِي الأمْرِ مِنْكُمْ کو بڑھاتے ہیں فرماتے ہیں اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلى اللهِ وَالرَّسُولِ وَأُولِي الأمْرِ مِنْكُمْ
لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ آج تک کسی حنفی عالم نے اس پر نکیر نہیں کی۔
اسی طرح مولانا محمود الحسن دیوبندی صاحب نے سنن ابی داود میں بھی تحریف کی ہے امام ابو داود رحمہ اللہ نے کتاب الصلاۃ میں ایک باب باندھا ہے جو کہ موسوم ہے۔ باب من رأى القراءة اذا لم يجهر لیکن مولانا نے اس باب کو اس طرح تبدیل کر دیا اور یوں کہا : باب من كره القراءة بفاتحة الكتاب اذا جهر الامام اور اس تحریف کو ثابت کرنے کے لئے ایک اور تحریف کی طرف مجبور ہوئے کہتے ہیں یہ باب اور طرح سے بھی ثابت ہے۔ باب من ترك القراءة فيما جهر الامام جبکہ دنیا بھر کے اور دوسرے نسخوں میں یہ باب اس طرح نہیں ملتا سوائے نسخہ مجتبائيه کے (دیکھئے کتاب الردود ص : 246-241)
اسی طرح مولوی شبلی نعمانی حنفی عمل کو ایمان سے الگ ثابت کرنے کے لیے ایک آیت میں لفظ (واؤ) کے بجائے حرف (ف) استعمال کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ (ف) تعقیب کا معنی دیتی ہے جو کہ ایمان کے بعد حاصل ہوتا ہے۔
اصل آیت یوں ہے :
وَمَن يُؤْمِن بِاللَّهِ وَيَعْمَلْ صَالِحًا (الطلاق : 11)
تحریف شدہ آیت :
وَمَن يُؤْمِن بِاللَّهِ فَيَعْمَلْ صَالِحًا(دیکھیے کتاب الردود ص : 248)
اسی طرح ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی والے نے بھی مصنف ابن ابی شیبہ میں ایک حدیث میں لفظ تحت السرة کا اضافہ کیا ہے تا کہ اس سے ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا ثابت ہو۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج 1 ص 390) جبکہ اس ادارہ کے وجود سے پہلے دنیا کے کسی بھی نسخہ میں اس حدیث میں یہ لفظ نہیں تھا۔
اسی طرح محمود الحسن دیوبندی صاحب نے سنن ابی داود کی ایک اور حدیث جس میں عشرين ليلة کا لفظ ہے اس کو حاشیہ میں عشرين ركعة سے تحریف کر دیا ہے تا کہ بیس رکعت تراویح کو ثابت کر دیں جبکہ اس سے پہلے تمام نسخوں میں لفظ عشرين ليلة ہی ثابت ہے۔ (الردود ص : 258)
یہ ہے ان بزرگوں کی دین داری اور تقویٰ اور جو لوگ دین کے اندر تحریف کرتے ہیں ان لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ(سورة المائدة : 33)
ایسے لوگوں کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں بڑا عذاب ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن و حدیث میں تحریف کرنے سے محفوظ رکھے آمین۔
آئیے اب دیکھتے ہیں قیاس کا موجد کون ہے اور اس کی بنیاد کس نے ڈالی ہے ابلیس لعین سے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
قَالَ مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُكَ قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِنْهُ خَلَقْتَنِي مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ(سورة الأعراف : 12)
فرمایا اللہ تعالیٰ نے ابلیس لعین سے کیا بات ہے تجھے کس چیز نے روکا آدم کو سجدہ کرنے سے جب میں نے تجھے حکم دیا ابلیس نے جواب دیا میں تو اس سے بہتر ہوں مجھے آپ نے آگ سے پیدا کیا اور آدم کو مٹی سے۔
اس آیت کی تفسیر میں عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور حسن بصری رحمہ اللہ اور محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
أول من قاس إبليس فأخطأ القياس فمن قاس الدين برأيه قرنه مع إبليس(تفسير كبير ج 14 ص 29 تفسير القرطبي ج 4 ص 110)
سب سے پہلے قیاس کرنے والا ابلیس تھا اور پھر قیاس میں خطا کی پس جس نے بھی دین کے اندر اپنی رائے سے قیاس کیا اللہ تعالیٰ اسے ابلیس کے ساتھ کر دے گا۔
پس اسی طرح ابلیس لعین نے قیاس کیا اور گمراہ ہوا اور قیاس کرنے والوں کا امام بننے کا شرف حاصل کیا۔ (مزید تفصیل کے لئے سنن دارمي باب تغير الزمان وما يحدث فيه اور تفسیر کبیر للامام فخر الدین الرازی کا مطالعہ کریں)۔
اسلام صرف ایک ہے :۔
ورة آل عمران : 105إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ(سورة آل عمران : 19)
ایک اور جگہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :
وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ(سورة آل عمران : 85)
اسی طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ(سورة البقرة : 185)
اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِلنَّاسِ(سورة سبأ : 28)
قارئین کرام ! مذکورہ بالا آیتوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اسلام صرف ایک ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابل قبول ہے اور جو اس کے علاوہ کوئی اور دین کی تلاش میں ہے اس کا دین مردود ہے۔
اور تیسری آیت سے یہ بات ثابت ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کی ہدایت کے واسطے صرف ایک قرآن نازل فرمایا دو نہیں۔
اور چوتھی آیت سے یہ بات ثابت ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے پوری دنیا کے انسانوں کی رہنمائی کے لئے آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا ہے اور کوئی نبی نہیں۔ ان تینوں اصولوں میں کسی بھی مسلمان کا اختلاف نہیں ہے۔
قارئین کرام ! یاد رہے کہ جس طرح نبی سب کا ایک ہے قرآن سب کا ایک ہے دین اسلام سب کا ایک ہے اور جو شخص دو اسلام ہونے کا قائل ہے وہ بالاتفاق سب کے نزدیک قرآن و حدیث کی روشنی میں کافر ہے۔ اور اسی طرح جو حکم اللہ تعالیٰ نے مشرق والوں کے لئے نازل فرمایا ہے وہی حکم مغرب والوں کے لئے بھی ہے اور جو حکم عربیوں کے لئے ہے وہی حکم عجمیوں کے لئے بھی ہوگا۔ اور جو یہ کہتا ہے کہ نہیں بلکہ ہندوستانیوں کے لئے الگ حکم ہے عربیوں کے لئے الگ حکم ہے پاکستانیوں کیلئے الگ حکم ہے اور سعودیوں کیلئے الگ حکم ہے تو گویا کہ وہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دو اسلام نازل کئے ہیں کسی پر سختی کا حکم نازل فرمایا ہے اور کسی پر نرمی کا کسی پر کسی چیز کو حلال قرار دیا ہے اور کسی پر حرام کسی کے لئے جائز قرار دیا ہے اور کسی کے لئے ناجائز جیسے کہ ماسٹر امین اوکاڑوی حنفی متعصب کا خیال ہے کہ علاقہ کے اعتبار سے حلال حرام جائز یا ناجائز کا اختلاف کرنا درست ہے۔
نعوذ بالله یہ اللہ تعالیٰ سے کبھی صادر نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ چیز اللہ تعالیٰ کی شریعت مطہرہ میں اختلافات کو ثابت کرتی ہے جبکہ اللہ تعالیٰ کی شریعت اختلافات سے پاک ہے جس کی گواہی خود قرآن کریم دے رہا ہے :
وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا(سورة النساء : 82)
اگر یہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کی طرف سے ہوتا تو ضرور یہ لوگ اس کے اندر بہت سارے اختلافات پاتے۔
اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ(سورة آل عمران : 105)
تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے اپنے پاس روشن دلیلیں آجانے کے بعد بھی تفرقہ ڈالا اور اختلاف کیا۔
اس جگہ پر کوئی یہ اعتراض نہ کرے کہ اس طرح کے اختلافات تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان بھی تھے تو پھر وعید ان کو بھی شامل ہے؟
تو ہم عرض کریں گے کہ کوئی بھی صحابی ایسے متعصب نہیں تھے کہ ان کے سامنے قرآن و حدیث پیش کرنے کے بعد بھی وہ اپنی رائے پر ڈٹے رہیں بلکہ اپنی رائے کو چھوڑ کر قرآن و حدیث سے چمٹ جاتے جبکہ مقلدین اس کے برخلاف ہیں بلکہ اپنی رائے کو ثابت کرنے کے لئے قرآن و حدیث میں بھی تحریف کر ڈالتے ہیں جیسے کہ پیچھے مثالیں گزر چکی ہیں۔
اس لئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس وعید میں داخل نہیں ہیں۔
اب آئیے دیکھتے ہیں کہ مقلدین کا یہ دعویٰ کہاں تک صحیح ہے کہ ہمارے مذاہب کے درمیان حلال و حرام جائز و ناجائز کا اختلاف نہیں ہے بلکہ افضل و غیر افضل کا اختلاف ہے۔ پھر آپ خود ہی فیصلہ کر لیں کہ یہ اختلافات حرام و حلال میں ہے یا افضل و غیر افضل میں۔ یاد رہے اسلام کے اندر بالاتفاق تمام علماء کے نزدیک ایک چیز یا تو حلال ہوگی یا حرام ہوگی یا ناجائز ہوگی یا جائز ہوگی یا تو پاک یا ناپاک دونوں حکم ایک ہی چیز میں جمع ہونا ناممکن اور محال ہے جیسے کہ امام شافعی رحمہ اللہ کا فرمان ہے : الأقوال كثيرة والحق فى واحد کہ اقوال بہت سارے ہیں لیکن حق صرف ایک کے اندر ہے۔
کچھ مثالیں طہارت کے اندر دیکھ لیں :۔
حنفی مذہب :
1۔ وضو میں نیت کی ضرورت نہیں۔ الفقه الإسلامي وأدلته ج 1 ص 214 هدایہ ج 1 ص 20-22
2۔ بغیر ترتیب کے وضو ہو جائے گا۔ الفقه الإسلامي وأدلته ج 1 ص 214 هدایہ ج 1 ص 20-22
3۔ خون نکلنے یا الٹی آنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ الفقه الإسلامي وأدلته ج 1 ص 283 هدایہ ج 1 ص 23
4۔ کلی اور ناک میں پانی ڈالے بغیر غسل نہیں ہوگا۔ الفقه الإسلامي وأدلته ج 1 ص 374 هدایہ ج 1 ص 29
5۔ شرمگاہ یا عورت کو چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ الفقه الإسلامي وأدلته ج 1 ص 275 مجمع الزوائد شرح مشکوۃ ج 2 ص 42
شافعی مذہب :
1۔ نیت کے علاوہ وضو نہیں ہوگا۔ الفقه الإسلامي وأدلته ج 1 ص 214 هدایہ ج 1 ص 20-22
2۔ بغیر ترتیب کے وضو نہیں ہوگا۔الفقه الإسلامي وأدلته ج 1 ص 214 هدایہ ج 1 ص 20-22
3۔ خون نکلنے یا الٹی آنے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ الفقه الإسلامي وأدلته ج 1 ص 283 هدایہ ج 1 ص 23
4۔ کلی اور ناک میں پانی ڈالے بغیر غسل ہو جائے گا۔ الفقه الإسلامي وأدلته ج 1 ص 374 هدایہ ج 1 ص 29
5۔ شرمگاہ یا عورت کو چھونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ الفقه الإسلامي وأدلته ج 1 ص 275 مجمع الزوائد شرح مشکوۃ ج 2 ص 42
قارئین کرام آپ نے دیکھ لیا کیا یہ اختلاف آپس میں افضل و غیر افضل کا ہے یا جائز ناجائز کا ایک ہی آدمی اگر حنفی طریقہ سے وضو کرتا ہے تو وضو ہو جائے گا لیکن وہی آدمی شافعی کے نزدیک بے وضو ہے یعنی یہی آدمی اگر نماز پڑھے تو حنفی کے نزدیک اس کی نماز ہو جائے گی لیکن شافعی کے نزدیک نہیں ہوگی کیونکہ یہ انسان ان کے نزدیک بے وضو ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ شافعی کی نماز حنفی کے پیچھے نہیں ہوگی اور حنفی کی نماز شافعی کے پیچھے نہیں ہوگی۔
اب آئیے نماز کے مسائل میں :۔
حنفی مذہب :
1۔ الله أعظم یا الله أجل یا الله الرحمن یا لا إله إلا الله سے بھی نماز شروع کر سکتے ہیں۔ هدایہ ج 1 ص 100
2۔ سورۃ فاتحہ پڑھے بغیر نماز ہو جائے گی۔ هدایہ ج 1 ص 104
3۔ نماز میں قہقہ لگانے سے وضو اور نماز دونوں ٹوٹ جاتے ہیں۔ هدایہ ج 1 ص 130
4۔ تعدیل ارکان یعنی اطمینان نماز کے اندر فرض نہیں۔ هدایہ ج 1 ص 106
5۔ مقدار تشہد بیٹھنے سے نماز تمام ہو جائے گی اگرچہ تشہد اور درود نہ پڑھا ہو۔ هدایہ ج 1 ص 112
6۔ سلام کے بجائے کھانے پینے سے یا ہنسنے سے یا ہوا خارج کرنے سے نماز ہو جائے گی۔ الفقه الإسلامي وأدلته ج 1 ص 672
شافعی مذہب :
1۔ الله أكبر کے علاوہ کسی اور لفظ کے ساتھ نماز شروع نہیں ہوگی ورنہ وہ نماز باطل ہے۔ هدایہ ج 1 ص 100
2۔ سورۃ فاتحہ کے علاوہ نماز نہیں ہوگی۔ هدایہ ج 1 ص 104
3۔ قہقہ سے صرف نماز ٹوٹ جائے گی وضو نہیں۔ هدایہ ج 1 ص 130
4۔ تعدیل ارکان کے علاوہ نماز نہیں ہوگی۔ هدایہ ج 1 ص 106
5۔ جب تک تشہد اور درود نہیں پڑھے گا نماز تمام نہیں ہوگی۔ هدایہ ج 1 ص 112
6۔ سلام کے علاوہ کسی اور چیز کے ساتھ نماز اتمام کو نہیں پہنچتی بلکہ نماز باطل ہے۔ الفقه الإسلامي وأدلته ج 1 ص 672
اب آپ خود ہی فیصلہ کر سکتے ہیں کیا ان مذاہب کے درمیان اختلاف جواز و غیر جواز حرام یا حلال کا ہے نہ کہ افضل و غیر افضل کا۔ یہ ایک اسلام ہوا یا دو؟
اب آئیے کچھ مثالیں نکاح کے اندر بھی دیکھ لیتے ہیں :۔
حنفی مذہب :
1۔ لفظ بیع یا لفظ ہبہ سے نکاح منعقد ہو جائے گا۔ هدایہ ج 2 ص 305 توضیح و تلویح ص 147
2۔ بغیر ولی کے نکاح منعقد ہو جائے گا۔ هدایہ ج 2 ص 312 تسهيل أصول الشاشي ص 12
3۔ زبردستی طلاق واقع کرانے سے طلاق ہو جائے گی۔ هدایہ ج 2 ص 358
4۔ چوتھی بیوی کی عدت کے اندر اس کی بہن سے نکاح نہیں ہوگا۔ الفقه الإسلامي وأدلته ج 2 ص 164 تسهيل أصول الشاشي ص 11
5۔ کسی عورت کو شہوت کے ساتھ چھونے سے اس عورت کی ماں بہن دونوں اس پر حرام ہو جاتی ہیں۔ هدایہ ج 2 ص 309
شافعی مذہب :
1۔ لفظ نکاح یا لفظ زواج کے علاوہ نکاح منعقد نہیں ہوگا۔ هدایہ ج 2 ص 305 توضیح و تلویح ص 147
2۔ بغیر ولی کے نکاح باطل ہے۔ هدایہ ج 2 ص 312 تسهيل أصول الشاشي ص 12
3۔ زبردستی سے طلاق نہیں ہوتی بلکہ نکاح باقی رہتا ہے۔ هدایہ ج 2 ص 358
4۔ چوتھی بیوی کی عدت کے اندر اس کی بہن سے نکاح ہو جائے گا۔ الفقه الإسلامي وأدلته ج 2 ص 164 تسهيل أصول الشاشي ص 11
5۔ ان میں سے کوئی بھی اس پر حرام نہیں بلکہ دونوں میں سے کسی سے بھی نکاح کر سکتا ہے۔ هدایہ ج 2 ص 309
قارئین کرام ! کیا یہ دو اسلام نہیں ہیں کیا یہ ساری چیزیں امت مسلمہ کو اتحاد کی دعوت دے رہی ہیں یا تفرقہ کی آپس میں محبت والفت کی دعوت دے رہی ہیں یا نفرت کی۔ بس یہی وجہ ہے کہ آج امت مسلمہ آپس میں الجھ کر رہ گئی ہے اور ایک دوسرے کی تردید کرتے ہوئے زندگی گزار رہی ہے اس لئے ہماری بھی تمام دنیا کے مقلدین سے وہی گزارش ہے کہ جو اللہ تعالیٰ نے چودہ سو سال پہلے کے مسلمانوں سے فرمایا ہے :
فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ(سورة النساء : 59)
اگر تم کسی بھی چیز میں اختلاف کر بیٹھو تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کرو۔
کچھ مثالیں کھانے پینے کی چیزوں میں :۔
حنفی مذہب :
1۔ سمندر کے جانوروں میں سے مچھلی کے علاوہ سب کچھ حرام ہے۔ هدایہ ج 2 ص 442
2۔ شراب کے علاوہ کسی اور نشہ آور چیز کے کھانے یا پینے سے حد نہیں آئے گی۔ هدایہ ج 2 ص 494 محلی ج 4 ص 194
3۔ گائے یا بکری کا ذبح کرنے کے بعد اگر پیٹ میں سے بے جان بچہ نکل آئے تو اس بچہ کا کھانا حرام ہے۔ هدایہ ج 2 ص 440
4۔ اگر ذبح کرنے والا جان بوجھ کر بسم الله پڑھنا چھوڑ دے تو مذبوحہ جانور مردہ شمار ہوگا اس کو نہیں کھایا جائے گا۔ هدایہ ج 2 ص 435
5۔ سانا (جو کہ گوہ سے مشابہت رکھتا ہے) کا کھانا حرام ہے۔ هدایہ ج 2 ص 441
شافعی مذہب :
1۔ سمندر کے اندر جو کچھ ہے سب کا کھانا حلال ہے۔ هدایہ ج 2 ص 442
2۔ ہر نشہ دار چیز حرام ہے اور اس کے کھانے یا پینے والے پر حد آئے گی۔ هدایہ ج 2 ص 494 محلی ج 4 ص 194
3۔ پیٹ کا بچہ کھانا حلال ہے کیونکہ ماں کا ذبح ہونا اس کے لئے کافی ہے۔ هدایہ ج 2 ص 440
4۔ چاہے ذبح کرنے والا جان بوجھ کر بسم الله چھوڑے یا بھولے سے چھوڑے دونوں صورتوں میں وہ جانور حلال ہے۔ هدایہ ج 2 ص 435
5۔ سانا (جو کہ گوہ سے مشابہت رکھتا ہے) کا کھانا حلال ہے۔ هدایہ ج 2 ص 441
یہ ہے ان مذاہب کی صورت حال اختصار کے لئے صرف دو مذہبوں کے درمیان کے اختلافات کو بیان کیا گیا ہے ورنہ اختلاف کی آگ بہت ہی بڑی ہے بس مقصود یہ بتانا تھا کہ ان مذاہب کے درمیان اختلاف جواز و غیر جواز حرام یا حلال صحیح و باطل کا ہے نہ کہ افضل و غیر افضل کا۔ فافهم واهتد ولا تكن من الغافلين
اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن و حدیث کی روشنی میں چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا(سورة الأحزاب : 71)
جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرے گا تحقیق کہ اس نے عظیم کامیابی کو پا لیا۔
✿کچھ جواب آپ بھی دیجئے ؟
➊ قرآن شریف یا صحیح صریح حدیث یا ائمہ اربعہ میں سے کسی بھی ایک کے قول سے تقلید کو ثابت کیجئے یاد رہے کہ آپ کا دعویٰ تقلید شخصی کا ہے اس لئے دلیل بھی اس کے مطابق لائیے گا۔
➋ آپ کے نزدیک اجتہاد کا دروازہ بند ہو گیا ہے کیونکہ اب نہ کوئی مجتہد بن سکتا ہے اور نہ ہی کسی مجتہد کی ضرورت رہی ہے اب بتائیے جب عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے تو وہ کس مذہب پر ہوں گے حنفی ہوں گے یا شافعی یا مالکی یا حنبلی؟
➌ بتائیے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ مجتہد بننے سے پہلے مقلد تھے یا غیر مقلد اگر مقلد تھے تو کس کے تھے اور اگر کسی کے نہیں تھے تو پتہ چلا کہ وہ غیر مقلد تھے۔
➍ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا مذہب شائع ہونے سے پہلے لوگ کس کی تقلید کرتے تھے اگر کسی کی نہیں کرتے تھے تو پھر وہ غیر مقلدین ثابت ہوئے اسی طرح مالکی شافعی حنبلی مذہب شائع ہونے سے پہلے ان کے مقلدین کا مذہب بتائیے کہ وہ کس کی تقلید کرتے تھے۔
فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا وَلَنْ تَفْعَلُوا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ أُعِدَّتْ لِلْكَافِرِينَ(سورة البقرة : 24)
اگر تم ایسا نہیں کر سکتے اور ہرگز نہیں کر سکتے تو اس آگ سے بچو جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں جو کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ تقلید ایک محدث چیز ہے جو کہ رفتہ رفتہ لوگوں کے دلوں میں گھر کر گئی ہے یہاں تک کہ قرآن و حدیث کی تردید و تحریف کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اعاذ الله جميع المسلمين منه