مضمون کے اہم نکات
سوال
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
استحاضہ اور اس کے احکام
الجواب بعون الوهاب بشرطِ صحتِ سوال
وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
استحاضہ کی حقیقت
استحاضہ اس خون کو کہا جاتا ہے جو کسی مقررہ وقت کے بغیر مسلسل یا اکثر اوقات جاری رہتا ہے، اور یہ بیماری کی وجہ سے خارج ہوتا ہے۔ مستحاضہ کے مسئلے میں اس لیے اشکال پیش آتا ہے کہ بعض اوقات حیض کا خون استحاضہ کے خون سے مشابہ ہو جاتا ہے۔ جب خون لگاتار یا زیادہ تر وقت نکلتا رہے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا اسے حیض شمار کیا جائے یا استحاضہ، جس کے نتیجے میں نماز اور روزہ ترک نہ کیے جائیں۔
شرعی اعتبار سے مستحاضہ عورت کے احکام پاک عورت جیسے ہوتے ہیں، البتہ اس کی تین حالتیں بیان کی گئی ہیں:
مستحاضہ کی پہلی حالت
◈ اگر کسی عورت کو پہلی مرتبہ استحاضہ کا خون آئے، اور اس کے حیض کے دن پہلے سے مقرر ہوں، مثلاً ہر مہینے کے شروع یا درمیان میں پانچ یا آٹھ دن حیض آتا ہو، تو:
✔ وہ مقررہ دن اس کے ایامِ حیض شمار ہوں گے۔
✔ ان دنوں میں وہ نماز اور روزہ چھوڑ دے گی، اور حیض کے تمام احکام لاگو ہوں گے۔
✔ جب اس کی عادت کے مطابق ایامِ حیض مکمل ہو جائیں گے تو وہ غسل کرے گی، نماز شروع کرے گی، اور اس کے بعد آنے والا خون استحاضہ شمار ہوگا۔
رسول اللہ ﷺ نے سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا:
"امْكُثِي قَدْرَ مَا كَانَتْ تَحْبِسُكِ حَيْضَتُكِ ، ثُمَّ اغْتَسِلِي وَصَلِّي”
"تو جتنا عرصہ حیض کی وجہ سے رکا کرتی تھی اتنے دن رک جا، پھر غسل کر اور نماز پڑھ۔” [صحیح مسلم، الحیض، باب المستحاضہ وغسلھا وصلاتھا، حدیث 334]
اسی طرح آپ ﷺ نے سیدہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا:
"إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ، وَلَيْسَ بِحَيْضٍ. فَإِذَا أَقْبَلَتْ حَيْضَتُكِ فَدَعِي الصَّلاَةَ”
"یہ تو ایک رگ کا خون ہے، حیض نہیں، پس جب تجھے حیض آئے تو نماز چھوڑ دے۔” [صحیح البخاری، الوضوء، باب غسل الدم، حدیث 228؛ صحیح مسلم، الحیض، باب المستحاضہ وغسلھا وصلاتھا، حدیث 333]
مستحاضہ کی دوسری حالت
◈ اگر کسی عورت کی حیض کے دنوں کے بارے میں کوئی عادت اور معمول مقرر نہ ہو، لیکن خون میں واضح امتیازی اوصاف موجود ہوں، تو:
✔ سیاہ، گاڑھا اور بدبودار خون حیض شمار ہوگا، اور اس میں نماز اور روزہ ترک کیے جائیں گے۔
✔ اگر خون سرخ ہو، پتلا ہو اور بدبو دار نہ ہو، تو وہ استحاضہ کا خون ہوگا، جس میں نماز اور روزہ ترک نہیں کیے جائیں گے۔
رسول اللہ ﷺ نے سیدہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا:
"إِنَّ دَمَ الْحَيْضِ دَمٌ أَسْوَدُ يُعْرَفُ فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَأَمْسِكِي عَنِ الصَّلَاةِ ، وَإِذَا كَانَ الْآخَرُ، فَتَوَضَّئِي وَصَلِّي”
"حیض کا خون سیاہ ہوتا ہے جس سے پہچانا جاتا ہے، جب وہ ہو تو نماز سے رک جا، اور جب دوسری قسم کا خون ہو تو وضو کر اور نماز پڑھ۔” [سنن ابی داود، الطھارۃ، باب من قال توضا لکل صلاۃ، حدیث 304؛ سنن النسائی، الطھارۃ، باب الفرق بین دم الحیض والاستحاضۃ، حدیث 216، 217؛ صحیح ابن حبان 2/318 حدیث 1345؛ المستدرک للحاکم 1/174 حدیث 618]
اس حدیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عورت علامات اور اوصاف کے ذریعے حیض اور استحاضہ کے خون میں بآسانی فرق کر سکتی ہے۔
مستحاضہ کی تیسری حالت
◈ اگر کسی عورت کی حیض کے دنوں کے بارے میں نہ کوئی سابقہ عادت ہو اور نہ ہی وہ حیض اور استحاضہ کے خون میں فرق کر سکے، تو:
✔ وہ غالب گمان کے مطابق ہر مہینے چھ یا سات دن کو حیض شمار کرے گی، کیونکہ اکثر عورتوں کے ایامِ حیض اتنے ہی ہوتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے سیدہ حمنہ بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا:
"إِنَّمَا هِيَ رَكْضَةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَتَحَيَّضِي سِتَّةَ أَيَّامٍ أَوْ سَبْعَةَ أَيَّامٍ فِي عِلْمِ اللَّهِ، ثُمَّ اغْتَسِلِي، فَإِذَا رَأَيْتِ أَنَّكِ قَدْ طَهُرْتِ وَاسْتَنْقَأْتِ فَصَلِّي أَرْبَعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً، أَوْ ثَلَاثًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً وَأَيَّامَهَا، وَصُومِي وَصَلِّي، فَإِنَّ ذَلِكِ يُجْزِئُكِ، وَكَذَلِكِ فَافْعَلِي، كَمَا تَحِيضُ النِّسَاءُ” [جامع الترمذی، الطھارۃ، باب ما جاء فی المستحاضۃ، حدیث 128؛ سنن ابی داود، الطھارۃ، باب اذا اقبلت الحیضۃ تدع الصلاۃ، حدیث 287؛ سنن ابن ماجہ، الطھارۃ، باب ما جاء فی البکر اذا ابتدأت مستحاضۃ، حدیث 627]
خلاصۂ بحث
✔ جس عورت کے حیض کے دن مقرر اور معروف ہوں، وہی دن اس کے ایامِ حیض شمار ہوں گے۔
✔ جو عورت خون میں امتیاز کر سکتی ہو، وہ علامات کے مطابق عمل کرے گی۔
✔ جس عورت کے دن مقرر نہ ہوں اور وہ خون میں تمیز بھی نہ کر سکے، اس کے لیے حیض کے دن چھ یا سات شمار کیے جائیں گے۔
یہ تطبیق ایسی ہے جس میں مستحاضہ کے بارے میں نبی کریم ﷺ سے منقول تینوں طریقے جمع ہو جاتے ہیں۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کا قول
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
◈ علماء کے اقوال کے مطابق حیض کے خون کی پہچان کی چھ علامات ہیں۔
◈ ان میں سب سے قوی علامت عادت ہے، کیونکہ اصل یہی ہے کہ جب تک حیض کے ختم ہونے کا یقین نہ ہو، جاری خون کو حیض ہی سمجھا جائے گا۔
◈ دوسری علامت تمیز ہے، کیونکہ سیاہ، گاڑھا اور بدبودار خون کو حیض قرار دینا سرخ اور پتلے خون سے زیادہ مناسب ہے۔
◈ تیسری علامت عورتوں کی غالب اور عمومی عادت ہے، کیونکہ قاعدہ کلیہ ہے کہ فرد واحد پر اکثریت کے احکام لاگو ہوتے ہیں۔
یہ تینوں علامات سنت اور قیاس سے ثابت ہیں۔ پھر باقی تین علامات کا ذکر کرنے کے بعد شیخ فرماتے ہیں کہ سب سے درست بات یہی ہے کہ انہی علامات کو معتبر سمجھا جائے جن کی وضاحت سنت میں موجود ہے، اور باقی کو نظر انداز کیا جائے۔ [مجموع الفتاویٰ لابن تیمیہ 21/630–631]
مستحاضہ کے عملی احکام
① جب (غالب گمان کے مطابق) حیض کے دن مکمل ہو جائیں تو غسل کرے۔
② ہر نماز کے وقت استنجا کرے، فرج سے نکلنے والی نجاست صاف کرے، اور اسے روکنے کے لیے شرم گاہ میں روئی استعمال کرے۔ بہتر ہے کہ انڈر وئیر پہن لے تاکہ روئی اپنی جگہ برقرار رہے۔
③ ہر نماز کے لیے وضو کرے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"تَدَعُ الصَّلاَةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُ فِيهَا ثُمَّ تَغْتَسِلُ وَتَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلاةٍ” [سنن ابی داود، الطھارۃ، باب من قال تغتسل من طھر الی طھر، حدیث 297؛ جامع الترمذی، الطھارۃ، حدیث 126؛ سنن ابن ماجہ، حدیث 625]
اور فرمایا:
"أَنْعَتُ لَكِ الكُرْسُفَ، فَإِنَّهُ يُذْهِبُ الدَّمَ” [سنن ابی داود، حدیث 287؛ جامع الترمذی، حدیث 128؛ سنن ابن ماجہ، حدیث 622]
④ موجودہ دور میں بازار میں دستیاب حفاظتی طبی اشیاء کا استعمال بھی مناسب ہے۔
ھذا ما عندی، والله أعلم بالصواب